تاجر صحابۂ کرام (قسط:07)

پیشے

تاجر صحابۂ کرام قسط : 07

*   عبدالرحمٰن عطاری مدنی

ماہنامہ ربیع الآخر 1442ھ

حضرت ابو سَیف بَراء بن اَوْس  رضی اللہ عنہ 

حضرت سیّدُنا ابوسَیف بَراء بن اَوْس  رضی اللہ عنہ  پیشے کے اعتبار سے لوہار تھے ، آپ شہزادۂ رسول حضرت سیّدُنا ابراہیم  رضی اللہ عنہ  کے رضاعی والد تھے کیونکہ آپ کی اہلیہ نے ان کو دودھ پلایا تھا۔ مسلم شریف میں ہے : حضرت سیّدُنا انس  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ رسولِ خدا   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے فرمایا : آج رات میرے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا ہے جس کا نام میں نے اپنے والد حضرت ابراہیم ( علیہ السَّلام ) کے نام پر رکھا ہے ، پھر آپ نے اس صاحبزادے کو ابوسَیف حضرت سیّدُنا بَراء بن اَوْس  رضی اللہ عنہ  کی اہلیہ  اُمِّ سَیف کو (دودھ پلانے کے لئے) دے دیا ، حضرت سیّدُنا انس  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں : ایک روز حضور   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   ابو سَیف کے پاس تشریف لے جانے لگے تو میں بھی  آپ کے ساتھ ہو لیا ، جب ہم ان کے پاس پہنچے تو  وہ بھٹی کو دھونک رہے  تھے اور گھر دھوئیں سے بھر گیا تھا ، میں جلدی سے ان کے پاس گیا اور کہا کہ ابو سَیف!ٹھہر جاؤ! رسولُ اللہ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   تشریف لائے ہیں ، چنانچہ وہ رُک گئے۔ ([i])

حضرت سیّدُنا حاطِب بن اَبی بَلْتَعَہ رضی اللہ عنہ 

تاجر صحابہ میں حضرت سیّدُنا حاطِب بن اَبی بَلْتَعَہ رضی اللہ عنہ  بھی ہیں ، آپ ماہر تیر انداز اور قریش کے شہسواروں میں سے ایک تھے۔ تمام غزوات میں نبیِّ کریم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے ساتھ شریک رہے اور بالآخر 65 سال کی عمر میں مدینے میں آپ کا وصال ہوا اور نمازِ جنازہ حضرت سیّدُناعثمان غنی  رضی اللہ عنہ  نے پڑھائی۔ منقول ہے کہ آپ غلے وغیرہ کی وسیع پیمانے پر تجارت کرتے تھے اور بوقتِ وصال آپ نے چار ہزار اشرفیاں ، دَرَاہِم ، گھر اور دیگر اشیاء بطور میراث چھوڑیں۔ ([ii])

حضرت سیّدُنا عمر  فاروق  رضی اللہ عنہ  بازار سے گزر رہے تھے اور حضرت حاطِب بن ابی بَلْتَعَہ  رضی اللہ عنہ  وہاں مال بیچ رہے تھے ان کے سامنے کشمش سے بھری دو بوریاں رکھی تھیں۔ حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  دیکھ کر رُک گئے۔ پوچھا : کشمش کیسے بیچ رہے ہیں؟ جواب ملا : ایک دِرہم کے دو مُدّ ([iii])۔ یہ سُن کر حضرت عمر فاروق  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا : طائف کی طرف سے کشمش لے کر ایک تجارتی قافلہ آیا تھا۔ میں اس سے ملا وہ قافلہ بھی وہی ریٹ بتا رہا تھا جس پر تم بیچ رہے ہو۔ اب یا تو تم اپنا ریٹ بڑھا دو یا پھر اپنی کشمش لے کر گھر لوٹ جاؤ اور جیسے چاہو بیچو۔ جب حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  گھر لوٹے تو اپنی بات کے بارے میں سوچا پھر حضرت حاطِب کے گھر تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا : میں نے جو کچھ بھی تم سے کہاوہ کوئی حکم ہے نہ ہی فیصلہ۔ وہ ایک ایسی بات تھی جسے میں نے اپنے شہر والوں کے فائدے کے لئے کہا تھا۔ تم جہاں چاہو بیچو ، جیسے چاہو بیچو۔ ([iv])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   تاجر اسلامی بھائی



([i])مسلم ، ص974 ، حدیث6025

([ii])طبقات ابن سعد ، 3 / 84 ، 85 ، الاعلام للزرکلی ، 2 / 159

([iii])ایک پیمانہ جو وزن میں دو رطل ہوتا ہے۔

([iv])سنن کبریٰ للبیھقی ، 6 / 48 ، حدیث : 11146۔

Share

Articles

Comments


Security Code