گڈ بوائے

ننھے میاں کی کہانی

 گُڈ بوائے

*   ابوعبیدعطاری مدنی

ماہنامہ ربیع الآخر 1442ھ

دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد امی نے برتن سمیٹے اور دسترخوان صاف کیا پھر برتن دھونے کے لئے کچن میں آئیں مگر یہ کیا برتن دھونے کا صابن کہیں نظر نہیں آیا پھر یاد آیا کہ صبح ختم ہوگیا تھا ، چلو کیبنٹ سے دوسرا صابن نکال لیتی ہوں ، جب کیبنٹ کو کھولا تو وہاں بھی صابن نہیں تھا۔ اتنے میں دادی کچن میں داخل ہوئیں : ارے بیٹی! کیا ڈھونڈ رہی ہو؟ دادی نے پوچھا۔ امی! صبح برتن دھونے کا صابن ختم ہو گیا تھا اور میں سمجھی کہ ابھی کیبنٹ میں اور صابن ہوں گے اب دیکھا تو یہاں بھی موجود نہیں ، اب برتن کیسے دھوؤں؟ ارے پریشان کیوں ہو رہی ہو ننھے میاں کو 20 روپے دو وہ ابھی بھاگ کر کونے والی دکان سے صابن  لادیں گے۔ دادی نے سمجھاتے ہوئے کہا۔

امی سے پیسے لے کر ننھے میاں دکان پر پہنچ گئے ، دکان پر کئی کسٹمرز تھے ، دکاندار جلدی جلدی پیسے لیتا اور شاپنگ بیگ میں چیزیں ڈال کر دے دیتا۔ آپ کے پاس برتن دھونے کا صابن ہے؟ ننھے میاں نے تیسری بار پوچھا تو وہ کہنے لگا : جی ہاں! کتنے چاہئیں ننھے میاں نے کہا : ایک چاہئے ، کتنے کا ہے؟ ننھے میاں کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس نے ایک صابن ننھے میاں کے ہاتھ میں تھما دیا ، ننھے میاں نے بھی  20 روپے اس کی طرف بڑھا دئیے  دکان دار نے 20 کا نوٹ اپنے گلّا میں ڈالا اور جلدی سے 10 روپے ننھے میاں کو واپس دیتے ہوئے کہا : پکڑو۔ اور خود دوسرے کسٹمر کو سامان دینے لگا ، ننھے میاں 10 روپے پکڑے ہوئے کچھ دیر سوچتے رہےکیونکہ صابن کو جب دیکھا تو اس پر 20 روپے لکھا تھا ، سمجھ گئے کہ دکاندار سے غلطی ہوئی ہے لہٰذا ڈرتے ڈرتے خاموشی سے دکان سے باہر آگئے ، گھر میں داخل ہو کر 10روپے اور صابن امی کو دیتے ہوئے بولے : یہ لیں امی! آپ کے ننھے میاں 10 روپے میں صابن لائے ہیں۔ امی نے صابن ہاتھ میں لیا اور قیمت دیکھی تو 20 روپے لکھی تھی حیران ہوکر پوچھا : آپ کو  10 روپے میں کیسے  مل گیا؟ دکاندار نے بھولے سے دے دیئے ، ننھے میاں نے جواب دیا۔ امی نے کہا : آپ نے کیوں لئے؟ اتنے میں دادی بھی قریب آ گئیں۔ کیا ہوا ، کیا غلط صابن آگیا ہے؟ امی نے کہا : صابن تو صحیح ہے مگر دکاندار نے غلطی سے 10 روپے ان کے ہاتھ پر رکھ دئیے اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے انہیں گھر لے آئے ، دادی نے ننھے میاں کو کہا : جاؤ بیٹا! دکاندار کو 10 روپے واپس کر کے آؤ۔ ننھے میاں نےکہا : مگر دادی! دکاندار نے اپنی مرضی سے دئیے ہیں ، دادی نے ننھے میاں کو سمجھاتے ہوئے کہا : بیٹا کسی کی غلطی سے فائدہ اُٹھانا بُری بات ہے دکاندار کو جب یاد آئے گا تو وہ آپ کے بارے میں کیا سوچے گا کہ کیسا گندا بچہ تھا 10 روپے لے کر چلا گیا۔ اللہ پاک کے ایک نیک بندے سوٹ بیچا کرتے تھے ، اس دور کے حساب سے کسی  سوٹ کی قیمت 5 سِکّے تھی تو کسی کی قیمت 10۔ ایک مرتبہ وہ دکان پر موجود نہیں تھے ، نوکر نے ایک دیہاتی کو 5 سکّوں والا سوٹ 10 سکوں میں بیچ دیا ، بعد میں انہیں پتا چلا تو وہ دیہاتی کو بہت دیر تک تلاش کرتے رہے جب وہ دیہاتی ملا تو کہنے لگے : نوکر نے غلطی سے آپ کو 5 سکوں والا سوٹ 10 میں دے دیا ، دیہاتی بولا : کوئی بات نہیں! مجھے 10 میں بھی قبول ہے ، وہ نیک بندے کہنے لگے : جو بات مجھے اپنے لئے اچھی نہیں لگتی دوسروں کے لئے بھی اسے اچھا نہیں سمجھتا آپ یا تو 10 سکوں والا سوٹ لیں یا یہ سوٹ اپنے پاس رکھیں اور 5 سکے واپس لے لیں ، دونوں نہیں کرسکتے تو مجھے میرا سوٹ واپس کردیں اور  اپنے 10 سکے واپس لے لیں ، آخر کار اس دیہاتی نے وہ سوٹ رکھا اور 5 سکے واپس لےلئے۔ جاتے ہوئے اس نے کسی سے پوچھا : یہ نیک بندے کون ہیں؟ جواب ملا : یہ حضرت محمد بن مُنکَدِر  رحمۃُ اللہِ علیہ  ہیں۔ دیہاتی حیرت سے بولا : یہ تو وہ ہیں کہ جب ہمارے گاؤں میں بارش نہیں ہوتی تو ہم ان کا وسیلہ دے کر اللہ پاک سے  بارش مانگتے ہیں۔ (کیمیائے سعادت ، 1 / 333) دیکھا ننھے میاں آپ نے! دوسروں کے لئے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو ، کیا آپ کو یہ پسند ہے کہ کوئی اور آپ کی غلطی سے فائدہ اٹھائے؟ ننھے میاں نےاپنا سر ہلاتے ہوئے “ نہیں “ کہا تو دادی کہنے لگیں : جب ایسانہیں ہے تو آپ بھی دوسروں کی غلطی سے فائدہ اٹھا کر انہیں نقصان مت پہنچائیے ، اب آپ دکاندار کو 10روپے واپس کر کے آئیے۔ دادی! واقعی میں نے بُرا کام کیا وہ انکل میرے بارے میں کیا سوچیں گے۔ دادی! میں 10 روپے واپس کرنے جاؤں گا تو وہ ناراض تو نہیں ہوں گے اور مجھے ماریں گے تو نہیں نا! ننھے میاں نے گھبراتے ہوئے دادی سے پوچھا تو دادی کہنے لگیں : ارے نہیں! جب آپ انہیں یہ بتائیں گے : انکل! آپ نے غلطی سے مجھے 10 روپے واپس دے دیئے تھےاور اب میں انہیں واپس کرنے آیا ہوں۔ تو وہ بہت خوش ہوں گے اور آپ کو کچھ بھی نہیں کہیں گے۔

جب ننھے میاں نے دکاندار کو 10 روپے واپس کئے تو اس نے خوش ہو کر ننھے میاں کو شاباشی دی اور “ گُڈ بوائے “ کہا پھر 5 روپے کا ایک سکہ نکال کر ننھے میاں کے ہاتھ پر رکھ دیااور کہا : یہ آپ کا انعام ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code