شَوَّالُ المُکَرَّم میں وصال فرمانے والے بزرگانِ دین

شَوّالُ الْمُکَرَّم اِسلامی سال کا دسواں مہینا ہے۔ اِس میں جن صحابۂ کِرام، اَولیائے عِظام اور علمائے اِسلام کا وِصال ہوا، اُن کا مختصر ذِکْر5عنوانات کے تحت کیا گیا ہے۔صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوَان ٭شُہدائے غزوۂ اُحُد: 15شوّال 3ہجری بروز ہفتہ غزوۂ اُحُد ہوا۔ جس میں تقریباً70 صحابۂ کِرام (64 انصار اور 6مہاجرین) دَرَجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔ اِن کی تدفین میدانِ اُحُد ہی میں ہوئی۔ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم ہر سال اِن شُہدا کے مزارات پر تشریف لاتے تھے۔(زرقانی علی المواھب ،ج   2  ،ص389،458۔درّمنثور،ج4ص640)

(1)حضرتِ سیّدنا ابو یحٰی صُہَیْب بن سِنان  رُومی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ، صحابی اور مجاہد ہیں، مکّۂ مُعَظَّمَہ زادھَا اللہُ شَرفاً وَّتَعْظِیماً میں اِسلام قُبول کیا، کفّار کے سخت تکالیف دینے کی وجہ سے مدینۂ مُنورہ زادھَا اللہُ شَرفاً وَّتَعْظِیماً ہجرت فرمائی۔ کئی غزوات میں حصہ لیا، شوّال 38ہجری مدینۂ مُنورہ میں وِصال فرمایا اور جنّتُ البقیع میں تدفین ہوئی۔ فرمانِ مصطفےٰ (صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ وَاٰلہٖ وسلَّم):جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو  اُسے چاہئے کہ صُہَیْب سے ایسی ہی محبت کرے جیسے ماں اپنے بچے سے کرتی ہے۔(سیر اعلام النبلاء،ج3،ص361،364۔ الاستیعاب،ج2،ص282، 284 ،287۔ طبقات ابن سعد،ج3،ص169،173)اولیائے کرام رحمہمُ اللہُ السّلَام (2)حضرت علامہ سیّد جمالُ الاولیا کوڑوی قادری، عالمِ باعمل، استاذُ العلماء، مدرِّس اور سلسلۂ عالیہ قادِریہ رَضَویہ عطّاریہ کے اُنتیسویں (29) شیخِ طریقت ہیں، 973ہجری میں پیدا ہوئے اور یکم شوّال 1047 ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک کوڑہ جہان آباد ضلع فتح پور (یو پی) ہند میں ہے۔(تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ، ص225-227) (3)شہزادۂ غوثِ اعظم، تاج الاصفیاء، مفتیِ عراق حضرت سیّد عبدالرّزّاق جیلانی، جید عالم، فقہِ حنبلی کے فقیہ، شیخِ طریقت، مصنف اور استاذُ العلماء تھے، جِلاءُ الخاطِر مِنْ كلَامِ الشّيخ عبدِ القادِرْ آپ کی تالیف ہے۔ آپ 18ذیقعدہ 528ہجری میں پیدا ہوئے اور 6 شوال 603ہجری میں ِوصال فرمایا۔ مقبرۂ اِمام احمد بن حنبل عراق میں دفن کئے گئے۔( قلائد الجواہر، ص  43۔ شریف التواریخ،ج 1،ص714) (4)مخدومِ بِہار حضرت شیخ شرف الدّین احمد یحٰی منیری سہروردی، عالمِ دین، شیخِ طریقت اور مشہور وَلِیُّ اللہ ہیں۔ 685 ہجری میں منیر شریف (ضلع نالندہ، بہار) ہند میں پیدا ہوئے اور یہیں 6 شوّال 782ہجری میں وِصال فرمایا۔ آپ کے مکتوبات بہت مشہور ہیں۔ (مرآۃ الاسرار،ص935۔اخبار الاخیار مترجم،ص305) (5)شہزادۂ غوثِ اعظم، محدّثِ عراق حضرت سیّد سیف الدّین عبدُالوہاب جیلانی، عالمِ باعمل، استاذُ العلماء، آستانۂ غوثیہ کے مفتی ومدرِّس تھے۔ 522 ہجری کو بغداد شریف میں پیدا ہوئے اور 25 شوال 593ہجری میں وِصال فرمایا۔ مقبرۂ حلبہ بغداد شریف عراق میں دفن کئے گئے۔( قلائد الجواہر، ص 42۔شریف التواریخ،ج1،ص756،771)علمائے اسلام رحمہمُ اللہُ السّلَام (6)حضرت شیخ ابو محمد مُصلح الدّین سعدی شیرازی سہروردی، عالمِ دین، مشہور شاعر، خطیب، مصنّف اور صوفی تھے۔ آپ کی کُتُب گلستانِ سعدی اور بوستانِ سعدی بہت مشہور ہیں۔ 589ہجری میں پیدا ہوئے اور شوال 691ہجری میں وِصال فرمایا، مزار سعدیہ بستی شیراز (صوبہ فارس) ایران میں ہے۔(گلستانِ سعدی، ص 2،6)(7)سِراجُ الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدّثِ دہلوی، علوم و فُنون کے جامع، استاذُ العلماء و المحدثین، مُفَسِّرِ قراٰن، مصنّف اور مفتیِ اسلام تھے، تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین اور تحفۂ اِثنا عشریہ آپ کی مشہور کُتُب ہیں۔ 1159ہجری میں پیدا ہوئے اور 7 شوال 1239ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک درگاہ حضرت شاہ وَلِیُّ اللہ مہندیاں، میردرد روڈ، نئی دہلی  میں ہے۔( الاعلام للزرکلی،ج 4،ص 14۔ اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ،ج 11ص634) (8)حافظ الحدیث حضرت سیّدنا ابو داؤد سلیمان بن اَشْعَث سجستانی بصری، محدّث، متقی، زاہِد اور استاذُ المحدّثین تھے۔ 202 ہجری کو سجستان (صوبہ سیستان) ایران میں پیدا ہوئے اور 16شوال 275ہجری کو بصرہ (عراق) میں وِصال فرمایا، آپ کو امیرُ المؤمنین فی الحدیث حضرتِ سیّدنا سفیان ثَوْری رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ صِحاح ستّہ میں شامل سُننِ ابی داؤد آپ کی عالمگیر شہرت کا سبب ہے۔(سیر اعلام النبلاء،ج 10،ص568-579)خاندانِ اعلیٰ حضرت(9)تلمیذِ اعلیٰ حضرت مفتی محمد اعجاز ولی خان قادری رَضَوی، شیخ الحدیث، استاذُ العلماء، مدرس، فقیہِ عصر، مصنّف، مترجم، واعِظ اور مجازِ طریقت تھے۔ 1332ہجری میں بریلی شریف میں پیدا ہوئے اور مرکز الاولیاء لاہور میں 24 شوال 1393ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک میانی صاحب قبرستان میں ہے۔(تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص 63-65)تلامذہ و خلفائے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِمْ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت  (10)جامع علوم و فُنون حضرت مولانا حافظ مشتاق اَحمد صِدّیقی کانپوری، استاذُ العلماء، مدرِّس، واعِظ، شیخ الحدیث والتفسیر اور جیّد عالم تھے۔ 1295ہجری میں سہارن پور (یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور کانپور ہند میں یکم شوال 1360ہجری کو وِصال فرمایا۔ آپ کو بساطیوں والے قبرستان پنجابی محلہ کانپور(یوپی) ہندمیں والدِ گرامی علامہ احمد حسن کانپوری کے مزار سے متصل دفن کیا گیا۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص289-290)(11)زینتُ القُرّاء حضرت مولانا حافظ قاری محمد بشیر الدّین قادری نقشبندی جبل پوری، عالمِ دین، مدرّس، شیخِ طریقت اور اچھے قاری تھے، 1285ہجری میں پیدا ہوئے اور 2 شوال 1326ہجری میں وِصال فرمایا۔ مزار مبارک عیدگاہ کلاں جبل پور (مدھیہ پردیش)  ہند میں ہے۔(تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 434-431)(12)ناصِرُ الاسلام حضرت مولانا سیّد محمد عبدالسَّلام باندوی قادری، عالمِ دین، قومی راہنما، خطیب، مصنّف، شاعر، پیرِ طریقت اور بانیِ انجمنِ امانت الاسلام تھے، 1323ہجری کو باندہ (یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور 6 شوال 1387 ہجری میں وِصال فرمایا۔ مزار مبارک  پا پوش قبرستان ناظم آباد باب المدینہ کراچی میں ہے۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 315۔ انوارِ علمائے اہلِ سنت سندھ، ص 479-483)(13)محدِّثُ الحرمین حضرت شیخ عمر بن حَمدان مَحْرَسی مالکی، 1291ہجری میں مَحْرَس (وِلایت صَفَاقُس) تیونس میں پیدا ہوئے اور 9 شوال 1368ہجری کو مدینۂ منورہ میں وِصال فرمایا۔ محدّثِ کبیر، تقریباً 35 اکابرین سے سندِ حدیث لینے والے، حرم شریف اور مسجدِ نبوی کے مدرّس اور متعدد اکابرینِ اَہلِ سنت کے اُستاذ ہیں۔ آپ نے کم و بیش44 سال حرمین شریفین میں درسِ حدیث دینے کی سعادت پائی۔(الدليل المشير ص 318۔امام احمد رضا محدثِ بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 161۔ دمشق کے غلایینی علما، ص 26) (14)عاشقِ اعلیٰ حضرت مولانا سیِّد محمد آصف علی کانپوری، عالمِ باعمل اور مجازِ طریقت تھے، کانپور محلہ فیل خانہ قدیم میں 1295ہجری میں پیدا ہوئے اور 14شوال 1360ہجری میں کانپور (یوپی) ہند میں ہی وِصال فرمایا۔(تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 288-283)(15)مفتیِ اعظم پاکستان، سیّدُ المحدّثین حضرت علامہ ابوالبرکات سیّد احمد قادری رَضَوی اشرفی، استاذُ العلماء، شیخ الحدیث، مناظرِ اسلام، بانی و امیر مرکزی دار ُالعُلوم حِزب ُالاحناف اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔ 1319 ہجری کو محلہ نواب پور اَلْوَر (راجستھان) ہند میں پیدا ہوئے اور مرکز الاولیا لاہور میں 20شوّال 1398ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک  دارُ العلوم حِزب الاحناف داتا دربار مارکیٹ مرکز الاولیا لاہور میں ہے۔(تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ، ص 318-314) (16)مفتیِ مالکیہ حضرت سیّدنا شیخ عابد بن حسین مالکی قادری، عالمِ باعمل، مدرّسِ حرم، استاذُ العلماء اور کئی کُتُب کے مصنّف ہیں۔ 1275ہجری میں مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرفًاوَّ تَعْظِیمًا کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے اور 22شوال 1341 ہجری میں یہیں وِصال فرمایا۔(مختصر نشر النور والزھر، ص 181۔امام احمد رضا محدثِ بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 129- 136)(17)حضرت علامہ مفتی حافظ سیّد عبدالرّشید عظیم آبادی، مدرسہ منظرِ اسلام بریلی شریف کے اوّلین طالبِ علم، مَلِکُ العلماء علامہ سیّد ظفر الدّین بِہاری کے زندگی بھر کے رفیق، جیّد عالِم، مُناظرِ اسلام اور کئی مدارِس خُصوصاً جامعہ اسلامیہ شمسُ الھدیٰ پٹنہ کے مدرِّس تھے۔ 1290ہجری میں موضع موہلی (پٹنہ) میں پیدا ہوئے اور 24شوال 1357ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک موضع کوپا عظیم آباد پٹنہ (یوپی) ہند میں ہے۔(جہانِ ملک العلماء، ص 863-965-959)(18)ہمدردِ ملّت حضرت مولانا حافظ شاہ محمد حبیب اللہ قادری میرٹھی، عالمِ باعمل، واعظِ خوش بیان، عربی وفارسی کے مدرِّس اور بانیِ مسلم دَارُ الیَتَامٰی وَالمَسَاکِیْن مِیرَٹھ ہیں۔ 1304ہجری میں پیدا ہوئے اور 26شوال 1367 ہجری میں وِصال فرمایا۔ مزار مبارک قبرستان شاہ ولایت محلہ خیر نگر میرٹھ (یوپی) ہند میں ہے۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 227-233)

اعلٰی حضرت رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ یومِ وِلادَت

امامِ اَہْلِ سنّت اعلیٰ حضرت امام اَحمد رضا خان حَنَفی قادِرِی علیہِ رحمۃُ اللہِ الْقَوی کی وِلادَت باسعادت10شَوَّالُ الْمُکَرَّم1272 ہجری مطابق 21 جون 1856 عیسوی بروز ہفتہ ظُہْر کے وقت بریلی شریف(یوپی،ہند)کے محلّہ جَسولی میں ہوئی۔ آپ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ نے تیرہ سال دس ماہ چار دن کی عمر میں اپنے والدِ ماجد رَئِیْسُ الْمُتَکَلِّمِیْن حضرت علّامہ مولانا  مفتی نقی علی خان حَنَفی قادِرِی رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ سے تمام مُرَوَّجہ علوم کی تکمیل کرکے سند ِ فراغت پائی، اسی دن ایک سوال کے جواب میں پہلا فتویٰ تحریر کیا، فتویٰ صحیح پاکر والدِ ماجد نے مسندِ اِفتا آپ کے سِپُرد کردی۔ آپ 55 سے زائد علوم پر مَہارَت رکھنے کے ساتھ ساتھ زَبَردست عاشقِ رسول اورولیٔ کامِل بھی تھے۔یوں توآپرحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ نے 1286سے 1340 ہجری تک ہزاروں فتوےلکھے، لیکن اَفسوس! کہ سب کونَقل نہ کیاجاسکا،  البتہ ”فتاویٰ رضویہ“ کی صورت میں جو شائِع ہوسکے وہ بھی 33جلدوں کے 21 ہزار 656 صفحات میں سمائے۔آپ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہنے مختلف عُنوانات پر کم وبیش ایک ہزار کُتُب و رَسائِل تَحریرفرمائےجن میں بین الاقوامی شُہرت یافتہ ترجمۂ قراٰن کَنْزُالْاِیْمَانبھی شامل ہے۔ علم و عمل کا یہ آفتاب 25صَفَرُ الْمُظَفَّر 1340 ہجری مطابق28اکتوبر1921 عیسوی کو جُمُعَۃُ الْمُبارَک کے دن دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کا مزارِ پُرانوار بریلی شریف (یوپی، ہند) میں زیارت گاہِ خاص وعام ہے۔

Share

Articles