جاں نِثارانِ بَدْر و اُحُد پر دُرود/ شیرِ غُرّانِ سَطْوَت پہ لاکھوں سلام

شَوِّالُ الۡمُکَرَّم3ہجری میں غزوۂ اُحُد واقِع  ہوا  اور اسی معرکے  میں حضرت سیّدنا حمزہ بن عبدالمطلب   رضیَ اللہُ تَعالٰی عنہ کی شہادت ہوئی، اِسی مناسبت سے مشہورِ زمانہ سلامِ رضا ”مصطفےٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام“ کے دو اشعار مع شَرْح پیشِ خدمت ہیں:

جاں نِثارانِ بَدْر و اُحُد پر دُرود

حق گُزارانِ بیعت پہ لاکھوں سلام

                                      (حدائقِ بخشش، ص311 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

الفاظ و معانی:جاں نثاران: جان قربان کرنے والے۔ حق گزاران: حق ادا کرنے والے۔

شرح کلامِ رضا:غزوۂ بدر اور غزوۂ  اُحُد میں دینِ اسلام کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے والے صحابۂ کرام علیہِمُ الرِّضْوَان پر اللہ رَبُّ الۡعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہو نیز ”بیعتِ رضوان“ کا حق ادا کرنے والوں پر لاکھوں سلام ہوں۔

اصحابِ بدر و بیعتِ رضوان کی افضلیت:خُلَفائے اربعۂ راشدین کے بعد بقیۂ عَشَرَۂ مُبَشَّرہ و حضراتِ حَسَنَین و اصحابِ بدر و اصحابِ بیعۃ الرضوان (رضوانُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہِم اَجْمَعِیْن) کے لئے اَفْضَلِیَّت ہے اور یہ سب قَطْعی جنّتی ہیں۔(بہارِ شریعت،ج 1،ص249)

آگ میں داخل نہیں ہوں گے:فرمانِ مصطفےٰصلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم ہے:اِنِّی لَاَرْجُوۡ اَلَّا يَدْخُلَ النَّارَ اَحَدٌ اِنْ شَآءَاللَّهُ تَعَالٰی مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَّ الْحُدَيْبِيَةَ یعنی مجھے اُمّید ہے کہ جو غزوۂ بدر اورحُدَیبِیہ میں حاضر تھے اِنْ شَآءَ اللہ تَعَالٰی وہ آگ میں داخل نہیں ہوں گے۔(ابنِ ماجہ،ج4،ص508، حدیث:4281)

بیعتِ رضوان میں شریک نُفُوسِ قُدْسیہ کے متعلق فرمانِ باری تعالیٰ ہے: (لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ) تَرجمۂ کنز الایمان: بیشک اللّٰہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔(پ26، الفتح: 18) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) چونکہ ان بیعت کرنے والوں کو رضائے الٰہی کی بِشَارَت دی گئی اس لئے اس بیعت کو ”بیعتِ رضوان“ کہتے ہیں۔(خزائن العرفان)

سیّدِ عالَم صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: لَا يَدْخُلُ النَّارَ اِنْ شَآءَ اللَّهُ مِنْ اَصْحَابِ الشَّجَرَةِ اَحَدٌ الَّذِينَ بَايَعُوۡا تَحْتَهَا یعنی جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی،اِنْ شَآءَ اللہ ان میں سےکوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔(مسلم،ص1041،حدیث:6404)

اُن کے آگے وہ حَمزہ کی جانْبازیاں

شیرِ غُرّانِ سَطْوَت پہ لاکھوں سلام

                                                (حدائقِ بخشش، ص308 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

الفاظ و معانی:شیرِ غُرّان: دہاڑنے والا شیر۔ سَطْوَت: شان و شوکت۔

شرح کلامِ رضا:رحمتِ عالَمِیَّان صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چچا جان اور رَضاعی (دودھ شریک) بھائی سَیِّدُالشُّہَدَاء حضرتِ سیّدنا حمزہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ بہادر، جاں نثار اور دہاڑنے والے شیر کی طرح  رُعْب و دبدبے والے تھے، آپ پر لاکھوں سلام ہوں۔

حضرت سیّدنا حمزہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے غزوۂ اُحُد میں بہت بہادری سے کفار کا مقابلہ فرمایا اور شہید ہونے سے پہلے اکتیس (31) کفار کو جَہَنَّم رَسِید کیا۔(معرفۃ الصحابۃ،ج ،2ص17)

حضرت سیّدنا حمزہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے اللہ و رسول (عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم) کا شیر ہونے سے متعلق فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: اُس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! ساتویں آسمان پر یہ لکھا ہوا ہے کہ حضرتِ حمزہ اللہ اور اس کے رسول (عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے شَیر ہیں۔(مستدرک للحاکم، ج4،ص420، حدیث:4950)

وہ خدا کے شیر ہیں، وہ مصطفےٰ کے شير ہیں

ہم سگِ غوث و رضا ہیں، ہم سگِ اجمیر ہیں

Share

Articles

Comments


Security Code