دعائے قُنوت کے بعد سورت پڑھنا کیسا؟/ حرام کے پیسوں سے  حج کرنا کیسا؟

شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ  دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مدنی مذاکروں میں عقائد، عبادات، اور معاملات کے متعلق کئے جانے والے سوالات کے جوابات عطا فرماتے ہیں، ان میں سے چند سوالات وجوابات ضروری ترمیم کے ساتھ یہاں درج کئے جا رہے ہیں۔

دعائے قُنوت کے بعد سورت پڑھنا کیسا؟

سوال:کیا نمازِ وتر میں دعائے قُنوت کے بعد سورت پڑھنا ضروری ہے؟

جواب:نمازِ وتر میں دعائے قُنوت کے بعد کوئی بھی سورت پڑھنے کی اجازت نہیں ہےاَلْبَتہ بہارِ شریعت میں ہے:دعائے قُنوت کے بعد دُرُود شریف پڑھنا بہتر ہے۔(بہارِ شریعت،ج1ص655)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شیطان کو تکبُّر لے ڈوبا

سوال:شیطان نے اللہ تعالٰی کے حکم فرمانے پر حضرت سَیِّدُنا آدم علٰی نَبِیِّنَا وعلیہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلام کو سجدہ کیوں نہیں کیا؟ اس کی وجہ اِرشاد فرما دیجئے۔

جواب: اللہ عَزَّوَجَلَّ قراٰنِ پاک میں اِرشاد فرماتا ہے:

 (وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَﱪوَكَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴))(پ 1، البقرۃ: 34) ترجمۂ کنز الایمان:”اور یاد کرو  جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو! تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔“(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) شیطان نے غرور و تکبُّر کی وجہ سے حضرتِ سَیِّدُنا آدم علٰی نَبِیِّنَا وعلیہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلام کو سجدہ نہیں کیا اور کہا: (اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُؕ-خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ(۷۶)) (پ23،صٓ: 76) ترجمۂ کنز الایمان:”میں اس سے بہتر ہوں تُو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔“(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) جب شیطان نے ربّ تعالیٰ کا حکم نہ مانا، تکبُّر کیا اور اپنے آپ کو حضرت سَیِّدُنا آدم علٰی نَبِیِّنَا وعلیہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلام سے بہتر بتایا تو اللہ تعالٰی نے ناراض ہو کر اس سے اِرشاد فرمایا: (فَاخْرُ جْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ(۷۷)وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ(۷۸)) (پ 23،ص :77-78) ترجمۂ کنز الایمان:”تو جنّت سے نکل جا کہ تو راندھا (لعنت کیا) گیا اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے قیامت تک۔“ (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)تَو یوں شیطان کو تکبُّر لے ڈوبا، اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں غرور و تکبُّر اور شیطان کے مکر و فریب سے بچائے۔

اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میموری کارڈز میں گانے یا گناہوں بھری موویز بھر کے دینا کیسا؟

سوال:بعض لوگ میموری کارڈز (Memory Cards) میں اپنی پسند کے گانے اور گناہوں بھری موویز (Movies) بھرواتے ہیں تَو ہمارا ان کو گانے یا گناہوں بھری موویز بھر کے دینا کیسا ہے؟

جواب:کسی کو گانے یا گناہوں بھری موویز بھر کے دینا ناجائز و گناہ ہے اور گناہ کے کام میں مدد کرنے سے قراٰنِ کریم میں منع فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ قراٰنِ مجید میں ارشاد فرماتاہے: (وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪-) (پ 6، المآئدۃ: 2) ترجمۂ کنز الایمان:”اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔“(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) گانے سننا، سنانا اورگناہوں بھری موویز دیکھنا، دِکھانا ناجائزو گناہ ہے، ایسے ہی ان کا میموری کارڈز (Memory Cards) میں بھر کر دینا بھی ناجائز و گناہ ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

غیر شادی شدہ اور چھوٹے بچوں کی کنیت رکھنا کیسا؟

سوال:کیا شادی شدہ اسلامی بھائی ہی کُنیَت([1]) رکھ سکتے ہیں یا غیر شادی شدہ بھی کنیت رکھ سکتے ہیں؟

جواب:شادی شدہ اسلامی بھائی بھی کنیت رکھ سکتے ہیں اور غیر شادی شدہ بھی کنیت رکھ سکتے ہیں یہاں تک کے چھوٹے بچوں کی بھی کنیت رکھی جاسکتی ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹ  نکلے

سوال:سرکارِ مدینہ   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک انگلیوں سے جو پانی جاری ہوا تھا اس کا واقعہ بیان فرما دیجئے۔

جواب:سن 6 ہجری میں ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم عمرے کا ارادہ کرکے مدینۂٔ منورہ   زادھَا اللہُ شرفاً و تعظیماً سے مکۂ مکرمہ زادھَا اللہُ شرفاً و تعظیماً کے لئے روانہ ہوئے اور حُدیبیہ کے میدان میں قیام فرمایا، اس مقام پر یہ معجزہ ظاہر ہوا۔ جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت سیّدنا جابر رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حُدیبیہ کے دن لوگ شدتِ پیاس سے دوچار ہوئے اور رسولُ اللہ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے ایک برتن رکھا ہوا تھا جس سے وضو فرما رہے تھے۔ جب لوگ آپ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم نے دریافت فرمایا: تمہارا کیا حال ہے؟ عرض گزار ہوئے: یَارسولَ اللہ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم! ہمارے پاس وضو کرنے اور پینے کے لئے پانی نہیں ہے، بس یہی تھا جو اس برتن کے اندر حضور کی خدمت میں پیش کر دیا تھا۔ حضرت سیّدنا جابر رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ  فرماتے ہیں کہ نبیِّ کریم صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  نے برتن میں اپنا دستِ مبارک رکھ دیا تو آپ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک انگلیوں سے چشموں کی طرح پانی پھوٹ نکلا ہم پانی پیتے اور وضو کرتے رہے۔ حضرت سیّدنا جابر   رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ سے لوگوں نے پوچھا: اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ فرمایا: لَوْ كُنَّا مِائَةَ اَلْفٍ لَكَفَانَا، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً یعنی اگر ہم ایک لاکھ (100000) بھی ہوتے تو پانی سب کے لئے کافی ہو جاتا، ہم پندرہ سو (1500) تھے۔(بخاری،ج 3ص69، حدیث: 4152)

اس حسین منظر کی تصویر کشی کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان علیہِ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:

اُنگلیاں ہیں فیض پر ٹُوٹے ہیں پیاسے جھوم کر

نَدِّیاں پنجابِ رحمت کی ہیں جاری واہ واہ

(حدائقِ بخشش، ص134)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حرام کے پیسوں سے  حج کرنا کیسا؟

سوال:حرام کے پیسے سے حج پر جانا کیسا ہے؟ کیا اس سے حج کا فریضہ ادا ہوجائے گا؟

جواب:بہارِ شریعت میں ہے:توشہ مالِ حلال سے لے ورنہ قبولِ حج کی امّید نہیں اگرچہ فرض اُتر جائے گا، اگر اپنے مال میں کچھ شبہ ہو تو قرض لے کر حج کو جائے اور وہ قرض اپنے مال سے ادا کردے۔(بہارِ شریعت،ج 1،ص1051)

بہرحال حلال پیسوں سے ہی حج کیا جائے کیونکہ حرام کے پیسوں سے حج کرنے سے اگرچہ فرض اُتر جائے گا مگر اس کے قبول ہونے کی کوئی اُمّید نہیں ہے۔ حرام روزی قابلِ ترک (چھوڑنے کے قابل) ہے کیونکہ یہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



[1] کنیت سے مراد وہ نام ہے جو ”اَبْ، اُمْ، اِبْن یا اِبْنَۃ“ سے شروع ہو۔ (التعریفات، ص 132) مثلاً ابو القاسم، اُمِّ ہانی، اِبنِ جوزی وغیرہ۔

Share

Articles

Comments


Security Code