تُو ہی مالِکِ بَحرو بَر ہے یا اللہُ یا اللہ/ ہے ذکر میرے لب پر ہر صبح و شام تیرا/ بعدِ رَمضان عید ہوتی ہے


فرمان مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : اَوْلَیالنَّاسِ بِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَکْثَرُہُمْ عَلَیَّ صَلاَ ۃً، یعنی قیامت کے دن لوگوں میں  میرے سب سے زیادہ قریب  وہ شخص ہو گا جو سب سے زیادہ مجھ پردرود شریف پڑھتا ہوگا‘‘(ترمذی ،ج2،ص27،حدیث:474)

حمد/مناجات

تُو ہی مالِکِ بَحرو بَر ہے یا اللّٰہُ یا اللّٰہ

تُو ہی مالِکِ بَحرو بَر ہے یااللّٰہُ یااللّٰہ

تُو ہی خالِقِ جِنّ و بَشَر ہے یااللّٰہُ یااللّٰہ

تُو اَبَدی ہے تُو اَزَلی ہے تیرا نام عَلیم و علی ہے

ذات تِری سب سے بَرتَر ہے یااللّٰہُ یااللّٰہ

وَصف بیاں کرتے ہیں سارے سَنگ و شجر اور چاند ستارے

تسبیحِ ہر خُشک و تَر ہے یااللّٰہُ یااللّٰہ

تیرا چرچا ہر گھر آنگن صحرا صحرا گلشن گلشن

وَاصِف ہر پھول اور ثَمَر ہے یااللّٰہُ یااللّٰہ

خَلقت جب پانی کو تَرسے رِم جھم رِم جھم بَرکھا بَرسے

ہر اِک پر رَحمت کی نَظَر ہے، یا اللّٰہُ یا اللّٰہ

رات نے جب سر اپنا چھُپایا چِڑیوں نے یہ ذِکر سنایا

نَغمہ بار نسیمِ سَحر ہے یااللّٰہُ یااللّٰہ

بَخش دے تُو عطارؔ کو مولیٰ واسِطہ تُجھ کو اُس پیارے کا

جو سب نبیوں کا سَرور ہے یااللّٰہُ یااللّٰہ

وسائلِ بخشش(مرمّم)،ص92

از شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ

Share

تُو ہی مالِکِ بَحرو بَر ہے یا اللہُ یا اللہ/ ہے ذکر میرے لب پر ہر صبح و شام تیرا/ بعدِ رَمضان عید ہوتی ہے

 

نعت/ استغاثہ

ہے ذکر میرے لب پر ہر صبح و شام تیرا

ہے ذکر میرے لب پر ہر صبح و شام تیرا

میں کیا ہوں ساری خلقت لیتی ہے نام تیرا

تُو نائبِِ خدا ہے محبوبِ کبریا ہے

ہے ملک میں خدا کے جاری نظام تیرا

بٹتا ہے دو جہاں میں تیرےہی گھر سے باڑا

لینا ہے سب کا شیوا ،دینا ہے کام تیرا

کیا خُوب ہو جو مجھ سے آکر صبا یہ کہدے

پہنچا دیا ہے میں نے شہہ کو سلام تیرا

دستِ عطا  میں تیرے رحمت کی کنجیاں ہیں

بٹتا ہے سب کو صدقہ ہر صبح و شام تیرا

تو پیشوا ہے سب کا ،سب مقتدی ہیں تیرے

اقصیٰ میں کیسے بنتا کوئی امام تیرا

وہ دن خدا دکھائے تجھ کو جمیلِ رضوی

ہو جائے ان کے در پہ قِصّہ تمام تیرا

قبالۂ بخشش،ص15از مَدَّاحُ الحبیب محمد جمیل الرحمن قادری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی

 


 

 

Share

تُو ہی مالِکِ بَحرو بَر ہے یا اللہُ یا اللہ/ ہے ذکر میرے لب پر ہر صبح و شام تیرا/ بعدِ رَمضان عید ہوتی ہے

کلام

بعدِ رَمضان عید ہوتی ہے

بعدِ رَمضان عید ہوتی ہے

رب کی رَحمت مزید ہوتی ہے

جس کو آقا کی دید ہوتی ہے

اُس پہ قربان ”عید“ ہوتی ہے

عید کے دن عمر یہ رو رو کر

بولے: ”نیکوں کی عید ہوتی ہے“

جو کوئی رب کو کرتے ہیں ناراض

اُن سے رَحْمت بعید ہوتی ہے

بے نمازوں کی روزہ خوروں کی

کون کہتا ہے عید ہوتی ہے!

مجھ کو ”عیدی“ میں دو بقیع آقا

جانے کب میری عید ہوتی ہے!

عید عطارؔ اُس کی ہے جس کو

خواب میں اُن کی دید ہوتی ہے

وسائلِ بخشش(مرمّم)،ص707از شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ

 

Share

Articles

Comments


Security Code