باب:فتنوں کا بیان

فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ ہم میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک جگہ قیام فرمایا ۱؎آپ نے اسی جگہ میں قیامت تک ہونے والی کوئی چیز نہ چھوڑی مگر اس کی خبر دیدی۲؎جس نے اسے یاد رکھا اس نے یاد رکھا جو بھول گیا وہ بھول گیا۳؎یہ بات میرے یہ دوست جانتے ہیں۴؎ان واقعات میں سے کوئی چیز ہوتی ہے جسے میں بھول چکا ہوتا ہوں پھر اسے دیکھتا ہوں تو ایسے یادکرلیتا ہوں جیسے کوئی شخص کسی کا چہرہ پہچان لیتا ہے جب وہ اس سے غائب رہا ہو پھر جب اسے دیکھے تو پہچان لے ۵؎(مسلم،بخاری)

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- مَقَامًا، مَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مقَامه إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا حَدَّثَ بِهِ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلَاءِ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّيْءُ قَدْ نَسِيتُهُ، فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5379 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ دلوں پر فتنے پیش آئیں گے ۱؎جیسے چٹائی کا ایک ریگ جو دل فتنے پلا دیا گیا اس میں سیاہ دھبہ پیدا کر دیں گے اور جو دل انہیں برا سمجھے اس میں سفید داغ پیدا ہوجاوے گا۲؎حتی کہ لوگ دو قسم کے دلوں پر ہوجائیں گے۳؎ایک سفید جیسے سنگ مرمر اسے کوئی فتنہ نقصان نہ دے گا جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں اور دوسرا کالا راکھ ہمرنگ جیسے اوندھا کوزہ۴؎وہ نہ بھلائی کو پہچانے نہ برائی کو برا جانے سواء اس خواہش کے جو اسے پلادی گئی ۵؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا،فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ،وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ، حَتَّى يَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ: أَبْيَضُ مِثْلُ الصَّفَا، فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ، وَالآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ مُجَخِّيًّا لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5380 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے دو خبریں بتائیں ۱؎جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی اور دوسری کا منتظر ہوں۲؎ہم کو خبر دی کہ امانت لوگوں کے دلوں کے اصل میں اتر ی ہے۳؎پھر لوگوں نے قرآن سیکھا پھر حدیث سیکھی۴؎اور حضور نے ہم کو اس کے اٹھ جانے کی خبر دی ۵؎فرمایا آدمی ایک نیند سوئے گا تو اس کے دل سے امانت قبض کرلی جاوے گی۶؎تو اس کا اثر چھالے کی طرح رہ جاتا ہے ۷؎پھر ایک نیند سوئے گا تو امانت قبض کرلی جاوے گی حتی کہ اس کا اثر آبلے کی طرح ہوجاوے گا۸؎جیسے تم اپنے پاؤں پر چنگاری لگاؤ تو ابھار ہو جاوے تم اسے پھولا ہوا دیکھو جس میں کچھ بھی نہ ہو ۹؎لوگ خریدو فروخت کریں گے اور کوئی بھی امانت ادا نہ کرے گا۱۰؎حتی کہ کہا جاوے گا کہ فلاں قبیلہ میں ایک امانت دار شخص ہے ۱۱؎اور کسی شخص کے متعلق کہا جاوے کہ وہ کیسا عقلمند ہے کیسا خوش طبع ہے کیسا بہادر ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کی برابر ایمان نہ ہوگا ۱۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- حَدِيثَيْنِ، رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الآخَرَ، حَدَّثَنَا: "إِنَّ الأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ"وَحَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا قَالَ: "يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ،كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ،وَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ وَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ، فَيُقَالُ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا، وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ: مَا أَعْقَلَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَجْلَدُهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5381 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ لوگ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے اور میں شر کے متعلق پوچھتا تھا اس خوف سے کہ مجھے وہ پہنچ جاوے ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله ہم پہلے جہالت اور شر میں تھے پھر الله ہمارے پاس یہ خیر لایا ۲؎تو کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگی۳؎میں نے عرض کیا کہ کیا اس شر کے بعد خیرہوگی،فرمایا ہاں مگر اس خیر میں کدورت ہوگی۴؎میں نے عرض کیا اس کی کدورت کیا ہے،فرمایا وہ قوم جو میرے طریقے کے خلاف طریقہ اختیار کرے گی اور میری عادت کے خلاف عادت قبول کرے گی۵؎ان کی بعض باتیں اچھی پاؤ گے بعض بری،میں نے عرض کیا کہ کیا اس خیر کے بعد شر ہوگی،فرمایا ہاں۶؎دوزخ کے دروازہ پر بلانے والے جو دوزخ کی طرف انکی بات مانے گا اسے دوزخ میں ڈال دیں گے۷؎میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ان کی علامات بھی بتایئے،فرمایا وہ ہمارے گروہ سے ہوں گے ہماری زبان میں کلا م کریں گے۸؎میں نے عرض کیا کہ اگر میں یہ پاؤں تو مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں،فرمایا مسلمانوں کی جماعت ان کے امام کو پکڑے رہنا ۹؎میں نے عرض کہ اگر مسلمانوں کی نہ جماعت ہو۱۰؎نہ امام فرمایا تو ان تمام فرقوں سے الگ رہنا ۱۱؎اگرچہ اس طرح ہو کہ تم کسی درخت کی جڑ دانتوں سے پکڑ لو حتی کہ تم کو اسی حالت میں موت آجائے ۱۲؎(مسلم،بخاری) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا میرے بعد ایسے پیشوا ہوں گے جو نہ تو میری سنت اختیار کریں گے نہ طریقہ پر چلیں گے ۱۳؎ان میں کچھ لوگ اٹھیں گے جن کے دل شیطانوں کے دل ہوں گے انسانی جسموں میں۱۴؎حضر ت حذیفہ نے عرض کیا یارسول الله اگر میں یہ وقت پاؤں تو کیا کروں فرمایا اپنے امیر کی سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تمہاری پیٹھ پر مارے اور تمہارا مال لے لے جب بھی سنو اور اطاعت کرو ۱۵؎

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَن الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ؛ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرِّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ، فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: "نَعَمْ،وَفِيهِ دَخَنٌ"، قلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟ قَالَ: "قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي، وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ"، قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ:"نَعَمْ، دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: "هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا"، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْركَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: "تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ"، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ: "فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: قَالَ: "يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ"، قَالَ حُذَيْفَةُ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "تَسْمَعُ وَتُطِيعُ الأَمِيرَ وَإِنْ ضَرَبَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5382 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ان فتنوں سے پہلے اعمال کرلو جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے کہ انسان سویرا پائے گا مؤمن ہوکر شام کرے گا کافر ہوکر اور شام کرے گا ۱؎مؤمن ہوکر سویرا پائیگا کافر ہوکر،دنیاوی سامان کے عوض اپنا دین فروخت کر دے گا ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ فِتنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِم، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5383 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے عنقریب ایسے فتنے ہوں گے ان میں بیٹھ رہنے والا بہتر ہوگاکھڑے ہونے والے سے اور ان میں کھڑا ہونے والا بہتر ہوگا چلنے والے سے اور ان میں چلنے والا بہتر ہوگا دوڑنے والے سے ۱؎جو ان کی طرف جھانکے گا وہ اسے اچک لیں گے تو جو کوئی پناہ یا ٹھکانہ پائے تو اس کی پناہ لے لے ۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا ایسے فتنے ہوں گے کہ ان میں سونے والا جاگنے والے سے بہتر ہوگا۳؎اور ان میں جاگنے والا کھڑے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہوا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ۴؎جو کوئی ٹھکانا یا پناہ پائے تو اس کی پناہ لے لے۵؎

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "سَیَكُونُ فِتَنٌ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمٌ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فليَعُذْ بِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: قَالَ: "تَكُونُ فِتْنَة النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْيَقْظَانِ، واليقظانُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَسْتَعِذْ بِهِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5384 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ عنقریب فتنے ہوں گے پھر فتنے،خبردار پھر فتنے ہوں گے۲؎پھر وہ فتنے ہوں گے کہ ان میں بیٹھا ہوا چلتے ہوئے سے بہتر ہوگا اور چلتا ہوا دوڑتے ہوئے سے بہتر ہوگا ۳؎آگاہ رہو کہ جب وہ فتنے واقع ہوں تو جس کے اونٹ ہو اور اونٹوں سے مل جاوے اور جس کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں چلا جاوے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں پہنچ جاوے ۴؎تو ایک صاحب بولے یارسول الله فرمایئے تو جس کے پاس نہ اونٹ ہوں نہ بکریاں نہ زمین ۵؎فرمایا وہ اپنی تلوار کی طرف رخ کرے اور اس کی دھار کو پتھر سے کوٹ دے پھر الگ ہونے کی طاقت رکھے۶؎اے الله کیا میں نے پہنچا دیا(تین بار فرمایا)۷؎پھر ایک شخص نے عرض کی یارسول الله فرمایئے تو اگر مجھے مجبور کیا جاوے حتی کہ مجھے دونوں صفوں میں سے ایک صف تک لے جایا جاوے پھر مجھے کوئی اپنی تلوار سے مار دے یا آوے کہ مجھے قتل کردے ۸؎فرمایا وہ اپنا اور تمہارا گناہ لے کر لوٹے گا اور وہ دوزخی ہوگا ۹؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ، أَلَا ثُمَّ تَكُونُ فِتنٌ، أَلَا ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةٌ، القاعدُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي فِيهَا، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا، أَلَا فَإِذَا وَقَعَتْ فَمَنْ كَانَ لَهُ إِبِل فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلَا غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ؟ قَالَ: "يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ فَيَدُقُّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ،ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ، اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ " ثَلَاثًا، فَقَالَ: رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ أُكْرِهْتُ حَتَّى يُنْطَلَقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ، فَضَرَبَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ، أَوْ يجِيءُ سَهْمٌ فَيَقْتُلُنِي؟ قَالَ: "يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ، وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّار". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5385 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں یا پانی کی جگہ لے جائے ۱؎اپنا دین فتنوں سے بچاکر بھاگ جائے۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتَّبِعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5386 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم مدینہ کے ٹیلوں میں سے کسی ٹیلہ پر تشریف لے گئے ۱؎پھر فرمایا کیا تم وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں۲؎لوگوں نے عرض کیا نہیں فرمایا کہ میں فتنے دیکھ رہا ہوں جو تمہارے گھروں کے درمیان بارش گرنے کی طرح گررہے ہیں۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: أَشْرَفَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: "هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: "فَإِنِّي لأَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَوَقْعِ الْمَطَرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5387 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے میری امت کی ہلاکت قریش کے کچھ لڑکوں کے ہاتھ پر ہوگی ۱؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "هَلَكَةُ أُمَّتِي عَلَى يَدَي غِلْمةٍ مِنْ قُرَيْشٍ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5388 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے زمانہ چھوٹا ہوجاوے گا ۱؎اور علم اٹھالیا جاوے گا ۲؎اور فتنے ظاہر ہوجائیں گی اور بخل ڈال دیا جاوے گا۳؎ہرج بڑھ جاوے گا،لوگوں نے عرض کیا ہرج کیا ہے فرمایا قتل ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ، وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ"، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: "الْقَتْلُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5389 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے دنیا نہ جائے گی حتی کہ لوگوں پر وہ دن آجائے گا جب قاتل نہ جانے گا کہ کس جرم میں قتل کیا اور نہ مقتول جانے گا کہ وہ کس جرم میں قتل کیا گیا ۱؎عرض کیا گیا یہ کیسے ہوگا فرمایا فتنہ عامہ کی وجہ سے۲؎قاتل مقتول دونوں دوزخ میں جائیں گے۳؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَأْتِيَ علی الناس يَوْمٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِيمَ قَتَلَ؟ وَلَا الْمَقْتُولُ فِيمَ قُتِلَ؟ " فَقِيلَ: كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "الْهَرْجُ، الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5390 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے حضرت معقل ابن یسار سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ فتنوں کے زمانہ میں عبادت ایسی ہے جیسے میری طرف ہجرت ۱؎(مسلم)

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5391 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے حضرت زبیر ابن عدی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم حضرت انس کے پاس گئے تو ہم نے ان تکالیف کی شکایت کی جو ہم حجاج سے اٹھاتے ہیں۲؎فرمایا صبرکرو نہیں آئے گا کوئی زمانہ مگر اس کے بعد والا زمانہ اس سے بدتر ہوگا حتی کہ تم اپنے رب سے ملو،یہ میں نے تمہارے نبی صلی الله علیہ و سلم سے سنا ۳؎(بخاری)

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: "اصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ أَشَرُّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ"، سَمِعْتُهُ مِنْ نبَيِّكُمْ -صلى اللَّه عليه وسلم-. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5392 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں الله کی قسم میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھی بھول گئے یا بھلا بیٹھے ۱؎الله کی قسم رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے دنیا ختم ہونے تک تمام فتنہ گروں کو ۲؎جو تین سو یا کچھ زیادہ ہیں۳؎نہیں چھوڑا مگر ہم کو ان کے نام بتادیئے اس کا نام اس کے باپ کا نام اس کے قبیلہ کا نام۴؎(ابوداؤد)

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَصْحَابِي أَمْ تَنَاسَوْا؟ وَاللَّهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- مِنْ قَائِدِ فِتْنَةٍ إِلَى أَنْ تَنْقَضِيَ الدُّنْيَا يَبْلُغُ مَنْ مَعَهُ ثَلَاثَ مِئَةٍ فَصَاعِدًا إِلَّا قَدْ سَمَّاهُ لَنَا بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ وَاسْمِ قَبِيلَتِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5393 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں اپنی امت پر گمراہ گر پیشواؤں کا خوف کرتا ہوں ۱؎اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جاوے گی تو ان سے روز قیامت تک نہ اٹھے گی ۲؎(ابوداؤد،ترمذی)

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ، وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5394 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے حضرت سفینہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ خلافت تیس سال تک ہے ۱؎پھر سلطنت ہوجاوے گی۲؎پھر سفینہ کہتے تھے کہ حساب لگا لو ابوبکر صدیق کی خلافت دو سال اور حضرت عمر کی خلافت دس سال،حضرت عثمان کی بارہ سال،جناب علی کی چھ سال۳؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ سَنَةً،ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا"، ثُمَّ يَقُولُ سَفِينَةُ: أَمْسِكْ: خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ سَنَتَيْنِ، وَخِلَافَةَ عُمَرَ عَشْرَةً، وَعُثْمَانَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ، وَعَلِيٍّ سِتَّةً. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5395 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله کیا اس خیر کے بعد شر ہوگی جیسے اس سے پہلے تھی ۱؎فرمایا ہاں میں نے عرض کیا تو حفاظت کیا ہے فرمایا تلوار ۲؎میں نے عرض کیا کیا تلوار کے بعد کچھ بقایا ہے۳؎فرمایا ہاں ہوگی سلطنت ناپسندیدگی۴؎اور صلح دھوئیں پر ۵؎میں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا فرمایا پھر گمراہی کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے ۶؎تو اگر زمین میں کوئی الله کا خلیفہ ہو وہ تمہارے پشت پر کوڑے مارے اور تمہارا مال لے مگر تم اس کی فرمانبرداری کرنا ۷؎ورنہ اس طرح مر جانا کہ کسی درخت کی جڑ دانتوں سے پکڑے ہو۸؎میں نے کہا پھر کیا ہوگا،فرمایا پھر اس کے بعد دجال نکلے گا جس کے ساتھ نہر اور آگ ہوگی تو جو اس کی آگ میں گرے گا اس کا ثواب ثابت ہوجاوے گا اور اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے اور جو اس کی نہر میں گرے گا اس کا گناہ ثابت ہوجاوے گا ۹؎اور اس کا ثواب ضبط،میں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا فرمایا پھر گھوڑی بچہ دے گی تو اس پر سواری نہ کی جاسکے گی حتی کہ قیامت قائم ہوجاوے گی۱۰؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا صلح دھوئیں پر اور لوگوں کا اجتماع ناپسندیدگی،میں نے عرض کیا یارسول الله کہ دھوئیں پر صلح ۱۱؎کیا چیز ہے فرمایا کہ قوموں کے دل اس طرح نہ لوٹیں گے جس پر پہلے تھے میں نے عرض کیا کہ کیا اس خیر کے بعد شر ہوگی فرمایا اندھے بہرے فتنے ہوں گے۱۲؎جن پر کچھ لوگ دوزخ کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہوں گے۱۳؎تو اے حذیفہ اگر تم اس حالت میں وفات پاؤ کہ تم کسی درخت کی جڑ دانت سے پکڑے ہو تو تمہارے لیے اس سے اچھا ہے کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کو۱۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَكُونُ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ؟ قَالَ: "السَّيْفُ"، قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ السَّيْفِ بَقِيَّةٌ؟ قَالَ: "نَعَمْ، تكونُ إِمارةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ"، قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: "ثُمَّ يَنْشَأُ دُعَاةُ الضَّلَالِ،فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ فِي الأَرْضِ خَلِيفَةٌ جَلَدَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَأَطِعْهُ، وَإِلَّا فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْلِ شَجَرَةٍ"، قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: "ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ بَعْدَ ذَلِكَ مَعَهُ نَهْرٌ وَنَارٌ، فَمَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهْرِهِ وَجَبَ وِزْرُهُ وَحُطَّ أَجْرُهُ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: "ثُمَّ يُنْتَجُ الْمُهْرُ فَلَا يُرْكِبُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ".
وَفِي رِوَايَة: قال: "هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ وَجَمَاعَةٌ عَلَى أَقْذَاءِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْهُدْنَةُ عَلَى الدَّخَنِ مَا هِيَ؟ قَالَ: "لَا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ"، قُلْتُ: بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: "فِتْنَةٌ عَمْيَاءُصَمَّاءُ، عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ، فَإِنْ مُتَّ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبِعَ أَحَدًا مِنْهُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5396 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پیچھے ایک دن ردیف تھا ۱؎ایک گدھے پر تو جب ہم مدینہ کے گھروں سے نکل گئے تو فرمایا اے ابوذر اس دن تمہارا کیا حال ہوگا جب مدینہ میں عام بھوک ہوگی ۲؎تم اپنے بستر سے اٹھو گے تو اپنی مسجد نہ پہنچو گے کہ تم کو بھوک مشقت میں ڈال دے گی۳؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا الله رسول ہی جانیں، فرمایا پرہیز گار رہنا۴؎اے ابو ذر فرمایا،اے ابوذر اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب مدینہ میں عام موت پھیل جاوے گی۵؎کہ گھر غلام کی قیمت کو پہنچ جاوے گا ۶؎حتی کہ ایک قبر ایک غلام کی عوض بکے گی ۷؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا الله رسول خوب جانیں،فرمایا صبر کرنا اے ابوذر۸؎فرمایا اے ابوذر اس وقت تمہارا کیا ہے حال ہوگا جب کہ مدینہ میں قتل عام ہوگا حتی کہ خون ریت کے پتھروں کو ڈبو دے گا ۹؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا الله رسول خوب جانیں فرمایا ان میں چلے جانا جن میں سے تم ہو۱۰؎میں نے عرض کیا کہ ہتھیار باندھ لوں فرمایا تب تو تم قوم میں شریک ہوگئے ۱۱؎میں نے عرض کیا کہ میں کیا کروں یا رسول اللہ فرمایا اگر تمہیں خطرہ ہو کہ تمہیں تلوار کی شعاعیں چوندھیاویں گی تو اپنے کپڑے کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا تاکہ وہ تمہارا اور اپنا گناہ لے کر لوٹے ۱۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفًا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَوْمًا عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا جَاوَزْنَا بُيُوتَ الْمَدِينَةِ قَالَ: "كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ جُوعٌ تَقُومُ عَنْ فِرَاشِكَ وَلَا تَبْلُغُ مَسْجِدَكَ حَتَّى يُجْهِدَكَ الْجُوعُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "تَعَفَّفْ يَا أَبَا ذَرٍّ"، قَالَ: "كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ مَوْتٌ يَبْلُغُ الْبَيْتُ الْعَبْدَ حَتَّى إِنَّهُ يُبَاعُ الْقَبْرُ بِالْعَبْدِ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "تَصَبَّرْ يَا أَبَا ذَرٍّ"، قَالَ: "كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ قَتْلٌ تَغْمُرُ الدِّمَاءُ أَحْجَارَ الزَّيْتِ؟ " قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "تَأْتِي مَنْ أَنْتَ مِنْهُ"، قَالَ: قُلْتُ: وَأَلْبَسُ السِّلَاحَ؟ قَالَ: "شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذًا"، قُلْتُ: فَكَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ فَأَلْقِ نَاحِيةَ ثَوْبِكَ عَلَى وَجْهِكَ لِيَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ". رَوَاهُ وأَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5397 ، باب:فتنوں کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تم لوگوں کی بھوسی میں رہ جاؤ گے ۱؎کہ ان کے عہدوپیمان اور امانتیں گڑ بڑ ہوں گی اور آپس میں اختلاف کریں گے تو ایسے ہوجائیں گے اور اپنی ا نگلیوں شریف کو گتھا دیا ۲؎عرض کیا مجھے کیا حکم ہے فرمایا جسے بھلا جانو اسے لازم مضبوط پکڑ لو اور جسے برا جانو وہ چھوڑ دو اور تم اپنی خاص ذات کی فکر رکھو عوام سے بچو۳؎اور ایک روایت میں ہے کہ اپنا گھر لازم پکڑ لو اپنی زبان قابو میں رکھو۴؎جو اچھا جانو وہ اختیار کرلو اور جو برا جانو چھوڑ دو اور اپنا خاص معاملہ اختیار کرو اور عام لوگوں کا معاملہ چھوڑ دو ۵؎(ترمذی) اور اسے صحیح فرمایا۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "كَيْفَ بِكَ إِذَا أُبْقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ، مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ؟ وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ: فَبِمَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: "عَلَيْكَ بِمَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ وَإِيَّاكَ وَعَوَامَّهُمْ" وَفِي رِوَايَةٍ: "الْزَمْ بَيْتَكَ وَأَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ، وَخُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعْ أَمْرَ الْعَامَّةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5398 ، باب:فتنوں کا بیان