- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تمہاری آگ دوزخ کی آگ کا سترواں جزو ہے ۱∞؎عرض کیا گیا یارسول اللہ یہ ہی آگ کافی تھی ۲؎فرمایا وہ آگ ان آگوں سے انہتر درجہ زیادہ تیز رکھی گئی ہے ہر درجہ اس آگ کی مثل ہے ۳؎(مسلم،بخاری)اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی روایت میں ہے تمہاری وہ آگ ہے جو انسان جلاتا ہے اور اس روایت میںعلیہنّاورکلھنّکی عوضعلیھااورکلھاہے ۴؎
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "نَارُكُمْ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً. قَالَ: "فُضِّلَتْ عَلَيْهِنَّ بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: "نَارُكُمُ الَّتِي يُوقِدُ ابْنُ آدَمَ وَفِيهَا: "عَلَيْهَا" وَ"كُلَّهَا" بَدَلَ "عَلَيْهِنَّ" وَ"كُلُّهُنَّ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5665 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اس دن دوزخ لائی جائے گی جس کی ۱∞؎ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچیں گے ۲؎(مسلم)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ، لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ، مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5666 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ ہوگا جس کے لیے آگ کا جوتا اوردو تسمے ہوں گے جس سے اس کا دماغ کھولتا ہے جیسے ہانڈی کھولتی ہے ۱∞؎وہ نہ سمجھے گا کہ کوئی بھی اس سے سخت تر عذاب والا ہے حالانکہ وہ ان سب میں ہلکے عذاب والا ہوگا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ، مَا يُرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5667 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والے ابو طالب ہوں گے وہ دو جوتے پہنے ہوں گے جن سے انکا دماغ کھولتا ہوگا ۱∞؎(بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ، وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5668 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قیامت کے دن عیش والے دنیا دار دوزخی کو لایا جاوے گا اسے آگ میں ایک بار غوطہ دیا جاوے گا ۱∞؎پھر کہا جاوے گا اے انسان تو نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی تھی کیا تجھ پر کبھی کوئی نعمت آئی تھی وہ کہے گا یارب واللہ کبھی نہیں ۲؎اور دنیا میں سخت مصیبت زدہ جنتی کو لایا جاوے گا اسے جنت میں ایک غوطہ دیا جاوے گا ۳؎پھر اس سے کہا جاوے گا اے انسان تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی تھی تجھ پر کبھی کوئی سختی آئی تھی وہ کہے گا یارب واللہ کبھی نہیں ۴؎نہ مجھ پر کبھی تکلیف آئی نہ میں نے کبھی کوئی سختی دیکھی ۵؎(مسلم)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ: يَا ابْنَ آدَمَ! هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ! وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ! هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ وَهَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ، وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قطُّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5669 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں اللہ تعالٰی قیامت کے دن ہلکے عذاب والے دوزخی سے کہے گا ۱∞؎اگر تیرے پاس ساری زمین کی چیزیں ہوتیں تو تو اس آگ سے بچنے کے لیے دے دیتا تو بندہ کہے گا ہاں پھر اللہ تعالٰی فرمائے گا میں نے تجھ سے اس سے آسان چیزطلب کی تھی جب کہ تو آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھا ۲؎کہ تو کسی چیز کو میرا شریک نہ مان تو میرا شریک ٹھہرانے کے سوا سے انکاری ہوگیا ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَقُولُ اللَّهُ لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ، أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا، فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5670 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بعض دوزخی وہ ہوں گے جنہیں ٹخنوں تک آگ پکڑے ہوگی اور بعض وہ ہوں گے جنہیں ان کے گھٹنوں تک آگ پکڑے ہوگی اور بعض وہ ہوں گے جنہیں ان کی کمر تک آگ پکڑے ہوگی اور بعض وہ ہوں گے جنہیں آگ ان کے گلے تک پکڑے ہوگی ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5671 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دوزخ میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان فاصلہ تیز سوار کی تین دن کی راہ کا ہوگا ۱∞؎اور ایک روایت میں ہے کہ کافر کی داڑھ احد پہاڑ کی طرح ہوگی ۲؎اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی راہ ۳؎اور حضرت ابوہریرہ کی حدیث کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی،تعجیل نمازکے بیان میں ذکر کردی گئی ۴؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا بَيْنَ مَنْكِبَي الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ". وَفِي رِوَايَةٍ: "ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ، وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ: "إِذَا اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا". فِي "بَابِ تَعْجِيلِ الصَّلَوَاتِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5672 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا دوزخ کی آگ پر ایک ہزار سال تک دھونکا گیا حتی کہ سرخ ہوگئی پھر اس پر ایک ہزار سال تک دھونکا گیا حتی کہ سفید ہوگئی ۱∞؎پھر اس پر ایک ہزار سال تک دھونکاگیا حتی کہ سیاہ ہوگئی چنانچہ وہ سیاہ تاریک ہے ۲؎(ترمذی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "أُوقِدَ عَلَى النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى احْمَرَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ، فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5673 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قیامت کے دن ۱∞؎کافر کی داڑھ احد پہاڑ کی طرح ہوگی اور اس کی ران بیضاء پہاڑ کی طرح ۲؎اور اس کی آگ کی نشست گاہ ربذہ کی طرح تین دن کی راہ ہوگی ۳؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ، وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مسيرَةُ ثَلَاثٍ مِثْلُ الرَّبَذَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5674 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کافرکی کھال کی موٹائی بیالیس گز ہوگی ۱∞؎اور اس کی داڑھ احد پہاڑ کی طرح اور اس کی دوزخ کی بیٹھک ایسی ہوگی جیسی مکہ اورمدینہ کے قریب کی مسافت ۲؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الْكَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا، وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ، وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5675 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کافر اپنی زبان کوس دو کوس تک نکالے گا جسے لوگ روندیں گے ۱∞؎(احمد،ترمذی)فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ الْكَافِرَ لَيَسْحَبُ لِسَانَهُ الْفَرْسَخَ وَالْفَرْسَخَيْنِ يَتَوَطَّؤُهُ النَّاسُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5676 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسعید سے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا صعود آگ کا پہاڑ ہے جس میں دوزخی ستر سال چڑھے گا اور وہاں سے گرے گا ہمیشہ ایسا ہی کرتا رہے گا ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "الصَّعُودُ جَبَلٌ مِنْ نَارٍ يُتَصَعَّدُ فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا، وَيُهْوَى بِهِ كَذَلِكَ فِيهِ أَبَدًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5677 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے ان ہی سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا رب کے قولکالمھلکے متعلق ۱∞؎یعنی تیل کے تلچھٹ کی طرح تو جب اس کے چہرے کے قریب کیا جاوے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گرجاوے گی ۲؎(ترمذی)
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ فِي قَوْلِهِ: {كَالْمُهْلِ} أَيْ: كَعَكَرِ الزَّيْتِ، فَإِذَا قُرِّبَ إِلَى وَجْهِهِ سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5678 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ گرم پانی دوزخیوں کے سر پر ڈالا جائے گا تویہ گرم پانی اس میں سرایت کرجاوے گا حتی کہ اس کے پیٹ تک پہنچ جاوے گا ۱∞؎تو اس کے پیٹ کی چیزوں کو کاٹ ڈالے گا حتی کہ اس کے قدموں سے نکل جاوے گا ۲؎صہریہ ہی ہے۳؎پھر جیسا تھا ویسا ہی لوٹا دیا جاوے گا۴؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رُؤُوسِهِمْ، فَيَنْفُذُ الْحَمِيمُ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى جَوْفِهِ، فَيَسْلُتُ مَا فِي جَوْفِهِ، حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ وَهُوَ الصَّهْرُ، ثُمَّ يُعَادُ كَمَا كَانَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5679 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی رب کے اس قول کے متعلق کہ پلایا جاوے گا پیپ کے پانی سے جسے بمشکل نگلے گا ۱∞؎فرمایا یہ اس کے منہ کے قریب کیا جاوے گا وہ اسے ناپسند کرے گا ۲؎جب اس سے قریب کیا جاوے گا تو اس کا چہرہ بھون دے گا اور اس کے چہرے کی کھال گر جاوے گی پھر جب اسے پئے گا تو اس کی آنتیں کاٹ دے گا۳؎حتی کہ اس کی دبر سے نکل جاوے گا رب تعالٰی فرماتا ہے وہ گرم پانی مانگے گا تو تلچھٹ جیسا پانی دیئے جائیں گے جو چہرہ بھون دے گا یہ برا پانی ہے۴؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي قَوْلِهِ: {وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ} [إبراهيم: 16 - 17] ، قَالَ: "يُقَرَّبُ إِلَى فِيهِ فَيَكْرَهُهُ، فَإِذَا أُدْنِي مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ، وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ، فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ دبرِهِ. يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: {وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ} [محمد: 15]. وَيَقُولُ: {وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ} [الكهف: 29] ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. [ت: 2583].
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5680 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا وہ دوزخ کی دیوار یں چار ہیں ہر دیوار کی موٹائی چالیس سال کی راہ ہے ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لِسُرَادِقِ النَّارِ أَرْبَعَةُ جُدُرٍ، كِثَفُ كُلِّ جِدَارٍ مَسِيْرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5681 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر غساق ۱∞؎کا ایک ڈول دنیا میں گرادیا جائے تو دنیا والے سخت بدبو میں مبتلا ہوجاویں۲؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يُهْرَاقُ فِي الدُّنْيَا لأَنْتَنَ أَهْلُ الدُّنْيَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5682 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی کہ اللہ سے ڈرو اس کے ڈرنے جیسا حق ۱∞؎اور نہ مرو مگر اسی حالت میں کہ تم مسلمان ہو۲؎فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اگر زقوم کا ایک قطرہ زمین میں ٹپکا دیا جاوے تو دنیا والوں پر ان کی روزیاں خراب کردے۳؎تو اس کا کیا حال ہوگا جس کا کھانا ہی زقوم ہو۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّوْمِ قَطَرَتْ فِي دَارِ الدُّنْيَا لأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ مَعَايِشَهُمْ، فَكَيْفَ بِمَنْ يَكُونُ طَعَامَهُ؟ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صحِيحٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5683 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسعید سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا وہ دوزخی دوزخ میں منہ سکوڑے ہوں گے ۱∞؎فرمایا اسے آ گ بھون دے گی تو اس کا اوپری ہونٹ سکڑ جاوے گا حتی کہ اس کے سر تک پہنچ جاوے گا اور اس کا نیچا ہونٹ لٹک جاوے گا حتی کہ اس کی ناف پر پڑے گا ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: {وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ} [المؤمنون: 104] ، قَالَ: "تَشْوِيهِ النَّارُ فتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا حَتَّى تَبْلُغَ وَسْطَ رَأْسِهِ، وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى حَتَّى تَضْرِبَ سُرَّتَهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5684 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- 1
- 2