- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اے لوگو روؤ اگر رو نہ سکو تو بہ تکلف روؤ ۱∞؎کیونکہ دوزخی لوگ روئیں گے حتی کہ ان کے آنسو ان کے چہروں پر ایسے بہیں گے گویا وہ نالیاں ہیں ۲؎کہ آنسو ختم ہوجائیں گے تو آنکھوں کو زخمی کردیں گے ۳؎اگر کشتیاں اس میں بہائی جاویں تو بہہ جاویں ۴؎(شرح سنہ)
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ! ابْكُوا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِيعُوا فَتَبَاكَوْا، فَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يَبْكُونَ فِي النَّارِ حَتَّى تَسِيلَ دُمُوعُهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ كَأَنَّهَا جَدَاوِلُ، حَتَّى تَنْقَطِعَ الدُّمُوعُ،فَتَسِيلَ الدِّمَاءُ، فَتَقَرَّحُ الْعُيُونُ، فَلَوْ أَنَّ سُفُنًا أُزْجِيَتْ فِيهَا لجَرَتْ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ". [شرح السنة: 4418].
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5685 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دوزخیوں پر بھوک مسلط کی جاوے تو یہ بھوک سارے عذابوں کے برابر ہوجاوے گی ۱∞؎جن میں وہ مبتلا ہیں وہ فریاد کریں گے تو وہ ضریع میں سے دیئے جائیں گے جو نہ موٹا کرے نہ بھوک سے نجات دے ۲؎پھر وہ کھانا مانگیں گے تو انہیں گالنے والا کھانا دیا جاوے گا۳؎تو انہیں یاد آوے گا کہ وہ دنیا میں کاہے پانی سے اتارتے تھے(نگلتے تھے)۴؎چنانچہ وہ پانی مانگیں گے تو ان کی طرف کھولتا پانی پیش کیا جاوے گا لوہے کی سنڈاسیوں سے ۵؎جب وہ ان کے منہ کے قریب ہوگا تو ان کے منہ بھون دے گا ۶؎پھر جب انکے پیٹ میں داخل ہوگا تو ان کے پیٹوں کی ہر چیز کاٹ ڈالے گا تو کہیں گے کہ دوزخ کے منتظمین کو پکارو ۷؎مگر منتظمین کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول دلیلیں نہیں لائے عرض کریں گے ہاں کہیں گے تو پکارے جاؤ کافروں کی پکاریں ہیں ہی برباد ۸؎پھرکہیں گے مالک کو پکارو کہیں گے اے مالک اب تو تمہارا رب ہمارا فیصلہ ہی کردے ۹؎فرمایا وہ انہیں جواب دے گا تم یہاں ہی رہو گے،اعمش فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ دوزخیوں کی پکار اور مالک کے ان کو جواب دینے میں ایک ہزارسال کا فاصلہ ہوگا ۱۰؎پھر کہیں گے اپنے رب کو پکارو کہ تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ۱۱∞؎تو کہیں گے اے ہمارے رب ہماری بدنصیبی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ قوم تھے ۱۲؎اے ہمارے رب ہم کو اس سے نکال اگر اب ہم کفر کی طرف لوٹ آئیں تو ہم ظالم ہیں۱۳؎فرمایا کہ انہیں جواب دے گا پڑے رہو اس میں مجھ سے بات نہ کرو۱۴؎فرمایا کہ اس وقت ہر بھلائی سے ناامید ہوجائیں گے۱۵؎اور اس وقت ندامت اور خرابی کی پکار میں مشغول ہوں گے۱۶؎عبداللہ ا بن عبدالرحمان نے فرمایا کہ لوگ اس حد یث کو مرفوع نہیں کرتے۱۷؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُلْقَى عَلَى أَهْلِ النَّارِ الْجُوعُ، فَيَعْدِلُ مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ، فَيَسْتَغِيثُونَ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ {مِنْ ضَرِيعٍ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ} [الغاشية: 6 - 7] ، فَيَسْتَغِيثُونَ بِالطَّعَامِ، فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِي غُصَّةٍ، فَيَذْكُرُونَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ الْغُصَصَ فِي الدُّنْيَا بِالشَّرَابِ، فَيَسْتَغِيثُونَ بِالشَّرَابِ فَيُرْفَعُ إِلَيْهِمُ الْحَمِيمُ بِكَلَالِيبِ الْحَدِيدِ، فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوهِهِمْ شَوَتْ وُجُوهَهُمْ، فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَهُمْ قَطَعَتْ مَا فِي بُطُوْنِهِمْ، فَيَقُولُوْنَ: ادْعُوا خَزَنَةَ جَهَنَّمَ فَيَقُولُونَ: {قَالُوا أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا بَلَى قَالُوا فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ} [غافر: 50] " قَالَ: "فَيَقُوْلُوْنَ: ادْعُوا مَالِكًا فَيَقُولُوْنَ: {يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ} [الزخرف: 77] " قَالَ: "فيُجيبُهم: {إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ} [الزخرف: 77] ". قَالَ الأَعْمَشُ: نُبُّئْتُ أَنَّ بَيْنَ دُعَائِهِمْ وَإِجَابَةِ مَالِكٍ إِيَّاهُمْ أَلْفَ عَامٍ. قَالَ: "فَيَقُولُونَ: ادْعُوا رَبَّكُّمْ، فَلَا أَحَدَ خَيْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ، فَيَقُولُونَ: {رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ} [المؤمنون: 106 - 107] " قَالَ: "فيُجيبُهم: اخْسَؤُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ" قَالَ: "فَعِنْدَ ذَلِكَ يَئِسُوا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ، وَعِنْدَ ذَلِكَ يَأْخُذُونَ فِي الزَّفِيرِ وَالْحَسْرَةِ وَالْوَيْلِ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَالنَّاسُ لَا يَرْفَعُونَ هَذَا الْحَدِيْثَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5686 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میں نے تم کو آگ سے ڈرایا میں نے تم کو آگ سے ڈرایا ۱∞؎آپ یہ فرماتے رہے حتی کہ اگر حضور میری اس جگہ ہوتے تو بازار والے سن لیتے ۲؎اور حتی کہ جو چادر آپ پر تھی وہ آپ کے پاس قدموں پر گر گئی ۳؎(دارمی)
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ، أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ" فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا سَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ، وَحَتَّى سَقَطَتْ خَمِيصَة كَانَتْ عَلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ. رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5687 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص ۱∞؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر اس جیسی رانگ کھوپڑی کی طرف اشارہ فرمایا ۲؎آسمان سے زمین کی طرف گرائی جاوے حالانکہ یہ فاصلہ پانچ سو سال کا ہے تو رات سے پہلے زمین پر پہنچ جاوے اور اگر وہ ہی رانگا زنجیر کے سرے سے۳؎گرایا جاوے تو چالیس دن رات چلے اس کی جڑ یا اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے ۴؎(ترمذی)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَوْ أَنَّ رَصَاصَةً مِثْلَ هَذِهِ -وَأَشَارَ إِلَى مِثْلِ الْجُمْجُمَةِ- أُرْسِلَتْ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ وَهِيَ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِئَةِ سَنَةٍ لَبَلَغَتِ الأَرْضَ قَبْلَ اللَّيْلِ، وَلَوْ أَنَّهَا أُرْسِلَتْ مِنْ رَأْسِ السِّلْسِلَةِ لَسَارَتْ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ قَبْلَ أنْ تَبْلُغَ أَصْلَهَا أَوْ قَعْرَهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5688 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوبردہ سے وہ اپنے والد سے راوی ۱∞؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دوزخ میں ایک جنگل ہے جسے ہبہب کہا جاتا ہے اس میں ہر ظالم سرکش رہے گا ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ فِي جَهَنَّمَ لَوَادِيًا يُقَالُ لَهُ: هَبْهَبُ يَسْكُنُهُ كُلُّ جَبَّارٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5689 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ دوزخی دوزخ میں بڑے ہوجائیں گے حتی کہ ان میں سے ہر ایک کی گدیاسے لے کر اس کے کندھے تک سات سو سال کا فاصلہ ہوجاوے گا ۱∞؎اور اس کی کھال کی موٹائی ستر گز ہوگی اور اس کی ڈاڑھ احد پہاڑ کی طرح۲؎
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَعْظُمُ أَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ حَتَّى إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبع مِئَةِ عامٍ، وإِنَّ غِلَظَ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا، وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5690 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن حارث ابن جز سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ آگ میں تو سانپ ہیں اونٹنی کی طرح ۲؎ان میں سے ایک ڈسے گا ایک بار ڈسنا کہ وہ دوزخی اس کا زہر چالیس سال تک پائے گا ۳؎اور آگ میں بچھو ہیں پالان والے خچروں کی طرح ان میں سے ایک ڈنگ مارے گا ایک ڈنگ تو وہ اس کا زہر چالیس سال تک پائے گا ۴؎(یہ دونوں حدیثیں احمد نے روایت فرمائیں)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فِي النَّارِ حَيَّاتٍ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ، تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا، وَإِنَّ فِي النَّارِ عَقَارِبَ كَأَمْثَالِ الْبِغَالِ الْمُؤْكَفَةِ، تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا". رَوَاهُمَا أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5691 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت حسن سے فرماتے ہیں ہم کو حضرت ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے حدیث سنائی فرمایا سورج اور چاند قیامت کے دن گہنے ہوئے دو پنیر کے ٹکڑے ہوں گے ۱∞؎خواجہ حسن نے کہا کہ ان دونوں کا گناہ کیا ہے،ابوہریرہ نے فرمایا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے حدیث سنا رہا ہوں تو خواجہ حسن خاموش ہو گئے ۲؎(بیہقی بعث ونشور کا بیان)
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَن رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ثَوْرَانِ مُكَوَّرَانِ فِي النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". فَقَالَ الحَسَنُ: وَمَا ذَنْبُهُمَا فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَسَكَتَ الْحَسَنُ. رَوَاهُ البَيْهَقِيُّ فِي "كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُوْرِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5692 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ آگ میں نہ جاوے گا مگر بدنصیب ۱∞؎عرض کیا گیا یارسول اللہ بدنصیب کون ہے ؟ فرمایا جو اللہ کی فرمانبرداری کا کام نہ کرے اور اس کی نافرمانی نہ چھوڑے ۲؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا شَقِيٌّ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَنِ الشَّقِيُّ؟ قَالَ: "مَنْ لَمْ يَعْمَلْ لِلَّهِ بِطَاعَةٍ وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُ بِمَعْصِيَةٍ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5693 ، باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- 1
- 2