باب:وعظ و شعر کا بیان

اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں دو شخص مشرق سے آئے ۱∞؎انہوں نے وعظ کیا ا ن کی تقریر پر لوگوں نے تعجب کیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو ہیں ۲؎(بخاری)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4783 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بعض شعر حکمت ہیں ۱∞؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4784 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ہلاک ہوگئے گہری باتیں کرنے والے یہ تین بار کہا ۱∞؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ . قَالَهَا ثَلَاثًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4785 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نہایت ہی سچی بات جو شاعر کہے وہ لبید کی بات ہے ۱∞؎کہ یقینًا الله کے سواء ہر چیز فانی ہے ۲؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُصَدِّقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيْدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللّٰهَ بَاطِلُ ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4786 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے عمرو ابن شرید سے وہ اپنے والد سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ایک دن ردیف بنا ۲؎تو فرمایا کیا تمہیں امیہ ابن ابی الصلت کے کچھ شعر یاد ہیں۳؎میں نے عرض کیا ہاں فرمایا لاؤ میں نے ایک شعر پڑھا فرمایا اورلاؤ ۴؎حتی کہ میں نے آپ کو سو شعر سنائے ۵؎(مسلم)۶؎

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: هِيْهِ فَأَنْشَدْتُهٗ بَيْتًا. فَقَالَ: هِيْهِ فَانْشَدْتُّهٗ بَيْتًا فَقَالَ: هِيْهِ ثُمَّ أَنْشَدْتُّهٗ مِائَةَ بَيْتٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4787 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت جندب سے ۱∞؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کسی جہاد میں تھے اور آپ کی انگلی شریف خونا خون ہوگئی ۲؎تو فرمایا کہ نہیں ہے تو مگر وہ انگلی جو خونیں ہوگئی اور الله کی راہ میں تو نے یہ مشقت پائی ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جُنْدُبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ وَقَدْ دَمِيَتْ أُصْبُعُهٗ فَقَالَ:هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ الله مَا لَقِيْتِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4788 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے قریظہ کے دن جناب حسان ابن ثابت سے فرمایا ۱∞؎کہ مشرکین کی ہجو کرو کہ جبریل تمہارے ساتھ ہیں اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم حسان سے فرماتے تھے کہ میری طرف سے جواب دو الٰہی روح القدس سے ان کی مدد فرما ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ البَراءِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: اُهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيْلَ مَعَكَ وَكَانَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ: أَجِبْ عَنِّي اللّٰهُمَّ أيِّدْه بِرُوْحِ الْقُدُسِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4789 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریش کی ہجو کرو کہ یہ ان پر تیر کے مارنے سے زیادہ سخت ہے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اُهْجُوْا قُرَيْشًا فَإِنَّهٗ أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ رَشْقِ النَّبْلِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4790 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو حسان سے فرماتے سنا کہ روح القدس تمہاری تائید کرتے رہتے ہیں جب تک کہ تم الله رسول کی طرف سے دفاع کرتے ہو ۱∞؎اور فرماتی ہیں کہ میں نے رسول صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ حسان نے ان کفار کی ہجو کی تو شفا دی اور شفا پائی۲؎(مسلم)

وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ: إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ مَا نَافَحْتَ عَنْ اللّٰهِ وَرَسُوله . سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفٰى وَاشْتَفٰى . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4791 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم خندق کے دن مٹی ہٹا رہے تھے حتی کہ آپ کا پیٹ غبار آلود ہوگیا ۱∞؎فرماتے تھے رب کی قسم اگر الله نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۲؎نہ صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے۳؎تو ہم پرسکون اتار اور اگر ہم دشمن سے مڈھ بھیڑ کریں تو ہم کو ثابت قدم رکھ۴؎یقینًا ان کفار نے ہم پر زیادتی کی ۵؎جب انہوں نے فتنہ کا ارادہ کیا تو ہم نے انکارکردیا ۶؎اس پر اپنی آواز بلند فرماتے تھےابینا۔(مسلم،بخاری)

وَعَنِ الْبَرَّاءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتّٰى اِغْبَرَّ بَطْنُهٗ يَقُولُ:وَاللّٰهِ لَوْلَا اللّٰهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَافَأَنْزِلَنْ سَكِيْنَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهٗ: أَبَيْنَا أَبَيْنَا .(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4792 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ مہاجرین و انصاری خندق کھودنے لگے اور مٹی ہٹانے لگے اور وہ یہ کہتے جاتے تھے کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کرلی جب تک کہ ہم باقی رہیں ہمیشہ کے لیے ۱∞؎اور نبی صلی الله علیہ وسلم انہیں جواب دیتے ہوئے فرماتے تھے الٰہی نہیں ہے عیش مگر آخرت کا ۲؎تو تو انصارومہاجرین کو بخش دے ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَعَلَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ وَيَنْقُلُونَ التُّرَابَ وَهُمْ يَقُولُونَ:نَحْنُ اَلَّذِيْنَ بَايَعُوْا مُحَمَّداً عَلَى الجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُجِيْبُهُمْ:اَللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّاعَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4793 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھرا ہو جو اسے گندہ کردے ۱∞؎اس سے اچھا ہے کہ شعر سے بھرا ہو ۲؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا يَرِيْهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4794 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے ۱∞؎انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا کہ الله تعالیٰ نے شعر کے بارے میں جو آیات نازل کیں وہ کیں ۲؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن اپنی تلوار اپنی زبان سے جہاد کرتا ہے۳؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم اسی شعر سے ان کفار کو تیر کے مارنے کی طرح مارتے ہو ۴؎(شرح سنہ)اور استیعاب عبدالبر میں ہے کہ انہوں نے عرض کیا یارسول الله حضور شعر کے متعلق کیا فرماتے ہیں تو فرمایا کہ مؤمن اپنی تلوار اور زبان سے جہاد کرتا ہے ۵؎

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهٗ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهٖ وَلِسَانِهٖ وَالَّذِي نَفْسِيْ بِيَدِهٖ لَكَأَنَّمَا تَرْمُونَهُمْ بِهٖ نَضْحَ النَّبْلِ رَوَاهُ فِي “شَرْحِ السُّنَّةِ”. وَفِي الْاِسْتِيعَابِ لِابْنِ عَبْدِ الْبَرِّ أَنَّهٗ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَاذَا تَرٰى فِي الشِّعْرِ؟ فَقَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهٖ وَلِسَانِهٖ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4795 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی ہیں فرمایا کہ حیاء اور خاموشی ایمان کی دو شاخیں ہیں ۱∞؎اور فحش گوئی زیادہ بولنا نفاق کی دو شاخیں ہیں ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4796 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے ابو ثعلبہ خشنی سے ۱∞؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے مجھے سب سے پیارا اور قیامت کے دن مجھ سے بہت قریب تم میں سے اچھے اخلاق والا ہے ۲؎اور تم میں سے مجھ کو بہت ناپسند اور مجھ سے بہت دور برے اخلاق والے ہیں۳؎جو زیادہ بولنے و الے منہ پھٹ فراخ گو متکبر ۴؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الخُشَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَسَاوِيْكُمْ أَخْلَاقًا اَلثَّرْثَارُوْنَ اَلْمُتَشَدِّقُوْنَ اَلْمُتَفَيْهِقُوْنَ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4797 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

اور ترمذی نے اس کی مثل حضرت جابر سے روایت کی اور ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہم ثرثارون اور متشدقون کو تو جانتے ہیں مگرمتفیھقونکیا چیز ہے فرمایا تکبر والے ۱∞؎

وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهٗ عَنْ جَابِرٍ وَفِي رِوَايَۃٍ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُوْنَ وَالْمُتَشَدِّقُوْنَ فَمَا الْمُتَفَيْهَقُوْنَ؟ قَالَ: اَلْمُتَكَبِّرُوْنَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4798 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت نہ قائم ہوگی حتی کہ ایسی قوم نکلے گی جو اپنی زبانوں سے اسے کھائیں گے ۱∞؎جیسے گائیں اپنی زبانوں سے کھاتی ہیں ۲؎(احمد)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُقُومُ السَّاعَةُ حَتّٰى يَخْرُجَ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرَةُ بِأَلْسِنَتِهَا رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4799 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالیٰ لوگوں میں اس بلیغ آدمی کو ناپسند کرتا ہے ۱∞؎جو اپنی زبان کو پھیرتا ہے جیسے گائے اپنی زبان کو پھیرا دیتی ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللّٰهَ يُبْغِضُ الْبَلِيْغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهٖ كَمَا يَتَخَلَّلُ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4800 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس رات ہم کو سیر کرائی گئی(معراج)ہم ایسی قوم پرگزرے جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے ۱∞؎تو ہم نے کہا کہ جبریل یہ کون لوگ ہیں فرمایا یہ آپ کی امت کے واعظین ہیں۲؎جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِقَوْمٍ تُقْرَضُ شَفَاهُمْ بِمَقَارِيْضَ النَّارِ فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4801 ، باب:وعظ و شعر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو بات کا ہیر پھیر سیکھے ۱∞؎تاکہ اس سے مردوں یا لوگوں کے دل پھانس لے تو الله تعالیٰ قیامت کے دن اس کے نہ فرائض قبول فرمائے گا نہ نوافل ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَلَّمَ صَرْفَ الْكَلَامِ لِيَسْبِيَ بِهٖ قُلُوبَ الرِّجَالِ أَوِ النَّاسِ لَمْ يَقْبَلِ اللّٰهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4802 ، باب:وعظ و شعر کا بیان