- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- باب:سلام کا باب
باب:سلام کا باب
اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت علی ابن ابی طالب سے فرماتے ہیں کہ جماعت کی طرف سے یہ کافی ہے کہ جب وہ گزریں تو ان میں سے ایک سلام کرے اور بیٹھے ہوؤں کی طرف سے یہ کافی ہے کہ ان میں سے ایک جواب دے دے ۱∞؎بیہقی نے شعب الایمان میں مرفوعًا روایت کیا ۲؎اور ابواؤد نے روایت کی اور کہا کہ اسے حسن ابن علی نے مرفوع کیا وہ ابوداؤد کے شیخ ہیں۳؎
وَعَنْ عَلِيٍّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ مَرْفُوعًا. وَرَوَى أَبُوْدَاوُدَ وَقَالَ: وَرَفَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ شَيْخُ أَبِي دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4648 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ہم سے نہیں جو ہمارے غیروں سے مشابہت کرے ۱∞؎تم نہ تو یہود سے مشابہت کرو نہ نصاریٰ سے،یہود کا سلام انگلیوں سے اشارہ ہے اور عیسائیوں کا سلام ہتھلیوں سے اشارہ ہے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۳؎
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارٰى فَإِنَّ تَسْلِيمَ الْيَهُودِ الْإِشَارَةُ بِالْأَصَابِعِ وَتَسْلِيمَ النَّصَارٰى الإِشَارَةُ بِالْأَكُفِّ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: إِسْنَادُهٗ ضَعِيْفٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4649 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے ۱∞؎تو اسے سلام کرے پھر اگر ان کے درمیان درخت یا دیوار یا پتھر کی آڑ ہوجائے پھر اس سے ملے تو پھر اسے سلام کرے ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ جِدَارٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهٗ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4650 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے قتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم کسی گھر میں جاؤ تو اس کے باشندوں کو سلام کرو ۱∞؎اور جب نکلو تو وہاں کے باشندوں کو سلام سے وداع کرو ۲؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلْتُمْ بَيْتًا فَسَلِّمُوا عَلٰى أَهْلِهٖ وَإِذَا خَرَجْتُمْ فَأَوْدِعُوا أَهْلَهٗ بِسَلَامٍ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الإِيمَانِ» مُرْسَلًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4651 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے میرے بچے جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو سلام کرو یہ برکت ہوگی تم پر اور تمہارے گھر والوں پر ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا بُنَيِّ إِذَا دَخَلْتَ عَلٰى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُونُ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلٰى أَهْلِ بَيْتِكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4652 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سلام کلام سے پہلے ہے ۱∞؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث منکر ہے ۲؎
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّلَامُ قَبْلَ الْكَلَامِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4653 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں کہ ہم زمانہ جاہلیت میں کہتے تھے الله تیری آنکھ ٹھنڈی کرے سویرا اچھا ہو جب اسلام آیا تو ہم اس سے روک دیئے گئے ۱∞؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ نَقُولُ: أَنْعَمَ اللّٰهُ بِكَ عَيْنًا وَأَنْعَمَ صَبَاحًا. فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ نُهِينَا عَنْ ذٰلِكَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4654 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے حضرت غالب سے ۱∞؎کہتے ہیں کہ ہم حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے تھے ۲؎کہ ایک شخص آیا بولا مجھے میرے والد نے میرے دادا سے خبر دی فرمایا مجھے میرے باپ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۳؎کہا حضور کے پاس جاؤ تو حضور کو میرا سلام عرض کرو۴؎فرماتے ہیں میں حضور کے پاس حاضر ہوا میں نے عرض کیا کہ میرے والد آپ کو سلام عرض کرتے ہیں تو فرمایا تم پر اور تمہارے باپ پر سلام ۵؎(ابوداؤد)
وَعَنْ غَالِبٍ قَالَ:إِنَّا لَجُلُوسٌ بِبَابِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ائْتِهِ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ. قَالَ: فَأَتَيْتُهٗ فَقُلْتُ: أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ. فَقَالَ: عَلَيْكَ وَعَلٰى أَبِيكَ السَّلَامُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4655 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے حضرت ابوالعلاء حضرمی سے کہ ابو العلاء حضرمی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے عامل تھے ۱∞؎اور جب آپ ان کی طرف لکھتے تو اپنی ذات سے ابتداء کرتے ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الحَضْرَمِيِّ أَنَّ الْعَلَاءَ الْحَضْرَمِيَّ كَانَ عَامِلَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ إِذَا كَتَبَ إِليْهِ بَدَأَ بِنَفْسِهٖ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4656 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو مٹی اس پر ڈالے کہ یہ ضرورت کو بہت پورا کرنے والی ہے ۱∞؎(ترمذی)اور کہا یہ حدیث منکر ہے ۲؎
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: « إِذَا كَتَبَ أَحَدُكُمْ كِتَابًا فَلْيُتَرِّبْهُ فَإِنَّهٗ أَنْجَحُ لِلْحَاجَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ مُنَكَرٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4657 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے کاتب تھا میں نے حضور کو فرماتے سنا کہ قلم اپنے کان پر رکھو کہ یہ انجام کو زیادہ یاد کرانے والا ہے ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد میں ضعف ہے ۲؎
عَنْ زَيْدِ بنِ ثَابِتٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَاتِبٌ فَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: " ضَعِ الْقَلَمَ عَلٰى أُذُنِكَ فَإِنَّهٗ أَذْكَرُ لِلْمَآلِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَفِي إِسْنَادِهٖ ضُعْفٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4658 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں سریانی زبان سیکھ لوں ۱∞؎اور ایک روایت میں ہے کہ مجھے حکم دیا کہ میں یہود کی خط و کتابت سیکھ لوں اور فرمایا کہ میں کسی تحریر میں یہود پر مطمئن نہیں ۲؎فرماتے ہیں کہ مجھ پر آدھا مہینہ نہیں گزرا حتی کہ میں نے سیکھ لی تو جب حضور یہود کو لکھتے تو میں لکھتا اور جب وہ حضور کو کچھ لکھتے تو حضور کی خدمت میں ان کا خط میں پڑھتا ۳؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَعَلَّمَ السُّرْيَانِيَّةَ. وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّهٗ أَمَرَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ كِتَابَ يَهُودَ وَقَالَ: «إِنِّي مَا آمَنُ يَهُودَ عَلٰى كِتَابٍ» . قَالَ: فَمَا مَرَّ بِيَ نِصْفُ شَهْرٍ حَتّٰى تَعَلَّمْتُ فَكَانَ إِذَا كَتَبَ إِلٰى يَهُودَ كَتَبْتُ وَإِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ قَرَأْتُ لَهٗ كِتَابَهُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4659 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے ۱∞؎پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جاوے ۲؎پھر جب کھڑا ہو تو پھر سلام کرے۳؎کیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ۴؎(ترمذی اورابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَهٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهٗ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولٰى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4660 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے میں بھلائی نہیں ۱∞؎سواء اس کے جو راستہ کو بتائے اور سلام کا جواب دے اور نگاہ نیچے رکھے اور سوارکرنے پر مدد دے ۲؎(شرح سنہ)ابوجری کی حدیث فضل کے باب میں ذکر کردی گئی۳؎
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا خَيْرَ فِي جُلُوسٍ فِي الطُّرَقَاتِ إِلَّا لِمَنْ هَدَى السَّبِيلَ وَرَدَّ التَّحِيَّةَ وَغَضَّ الْبَصَرَ وَأَعَانَ عَلَى الحَمُولَةِ» رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي جُرَيٍّ فِي « بَابِ فَضْلِ الصَّدَقَةِ »
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4661 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب الله نے حضرت آدم کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی تو انہیں چھینک آئی انہوں نے کہاالحمدﷲ(باذن الٰہی)پھر ان سے ان کے رب نے کہا اے آدم الله تم پر رحمت کرے ۲؎ان فرشتوں کے پاس جو جماعت بیٹھی ہے جاؤ تو کہو السلام علیکم ۳؎چنانچہ انہوں نے کہا السلام علیکم وہ بولے علیک السلام ورحمۃ الله ۴؎پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹے ۵؎تو فرمایا یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں سلام ہے پھر ان سے الله نے فرمایا حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ کی مٹھیاں بندتھیں ۶؎کہ جو لینا چاہو اختیار کرلو ۷؎عرض کیا میں نے اپنے رب کا داہنا ہاتھ اختیار کیا میرے رب کے دونوں ہاتھ داہنے اور مبارک ہیں ۸؎پھر رب نے ہاتھ کھولا تو اس میں آدم اور ان کی اولاد تھی ۹؎عرض کیا یارب یہ کون لوگ ہیں فرمایا یہ تمہاری اولاد ہے ۱۰؎تو ہر انسان کی عمر اس کی آنکھوں کے درمیان لکھی تھی ۱۱∞؎ان میں ایک صاحب بہت چمکدار تھے یا ان کے بہت چمک داروں سے ۱۲؎عرض کیا یارب یہ کون ہیں فرمایا یہ تمہارے فرزند داؤد ہیں اور ان کی عمر میں نے چالیس سال لکھی ہے ۱۳؎عرض کیا یارب ان کی عمر میں زیادتی کردے فرمایا میں نے ان کے لیے یہ ہی لکھی ہے ۱۴؎عرض کیا یارب میں نے اپنی عمر میں سے ساٹھ سال انہیں دیئے ۱۵؎فرمایا تم جانو اور یہ کام ۱۶؎فرماتے ہیں پھر جتنا الله نے چاہا حضرت آدم جنت میں رہے پھر وہاں سے اتارے گئے اور حضرت آدم اپنی عمر گنتے تھے ۱۷؎پھر ان کے پاس ملک الموت آئے تو آدم نے ان سے کہا تم نے جلدی کی میری عمر ایک ہزار سال لکھی گئی عرض کیا ہاں لیکن آپ نے اپنے فرزند داؤد کو ساٹھ سال دے دیئے ہیں ۱۸؎حضرت آدم نے انکار کردیا ۱۹؎چنانچہ ان کی اولاد انکار کرتی ہے آپ بھول گئے تو اولاد بھولنے لگی۲۰؎فرماتے ہیں کہ اس دن سے لکھنے گواہ بنانے کا حکم دیا گیا ۲۱∞؎(ترمذی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا خَلَقَ اللّٰهُ آدَمَ وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ فَحَمِدَ اللّٰهَ بِإِذْنِهٖ فَقَالَ لَهٗ رَبُّهُ: يَرْحَمُكَ اللّٰهُ يَا آدَمُ اذْهَبْ إِلٰى أُولَئِكَ الْمَلَائِكَةِ إِلٰى مَلَأٍ مِنْهُمْ جُلُوسٍ فَقُلْ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. قَالُوا: عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ. ثُمَّ رَجَعَ إِلٰى رَبِّهٖ فَقَالَ: إِنَّ هٰذِهٖ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ بَيْنَهُمْ. فَقَالَ لَهُ اللّٰهُ وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ: اِخْتَرْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ؟ فَقَالَ: اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ ثُمَّ بَسَطَهَا فَإِذَا فِيهَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهٗ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ مَكْتُوبٌ عُمْرُهٗ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَضْوَؤُهُمْ - أَوْ مِنْ أَضْوَئِهِمْ - قَالَ: يَا رَبِّ مَنْ هٰذَا؟ قَالَ: هٰذَا ابْنُكَ دَاوُدُ وَقَدْ كَتَبْتُ لَهٗ عُمْرَهٗ أَرْبَعِينَ سَنَةً. قَالَ: يَا رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهٖ . قَالَ: ذٰلِكَ الَّذِي كَتَبْتُ لَهٗ. قَالَ: أَيْ رَبِّ فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهٗ مِنْ عُمْرِي سِتِّينَ سَنَةً. قَالَ: أَنْتَ وَذَاكَ. قَالَ: ثُمَّ سَكَنَ الْجَنَّةَ مَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا وَكَانَ آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهٖ فَأَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهٗ آدَمُ: قَدْ عَجَّلْتَ قَدْ كُتِبَ لِي أَلْفَ سَنَةٍ. قَالَ: بَلٰى وَلَكِنَّكَ جَعَلْتَ لِابْنِكَ دَاوُدَ سِتِّينَ سَنَةً فَجَحَدَ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهٗ وَنَسِيَ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهٗ " قَالَ: « فَمِنْ يَوْمَئِذٍ أُمِرَ بِالْكِتَابِ وَالشُّهُودِ » رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4662 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے فرماتی ہیں کہ ہم پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم گزرے میں چند عورتوں میں تھی تو حضور نے ہم کو سلام کیا ۱∞؎(ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)
وَعَنْ أسماءَ بنت يزيدَ قَالَتْ: مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارَمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4663 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے طفیل بن ابی کعب سے ۱∞؎کہ وہ حضرت ابن عمر کے پاس جاتے تھے تو ان کے ساتھ بازار تک جاتے تو عبدالله ابن عمر کسی معمولی چیزیں بیچنے والے ۲؎اور شاندار تجارت کرنے والے اور مسکین پر اور کسی پر نہ گزرتے مگر اسے سلام کرتے ۳؎طفیل کہتے ہیں کہ ایک دن میں عبدالله ابن عمر کے پاس گیا تو مجھ سے بازار تک چلنے کو کہا میں نے کہا آپ بازار میں کرتے کیا ہیں نہ تو خرید وفروخت پر کھڑے ہوتے ہیں نہ سامان کی دریافت کرتے ہیں نہ اس کا بھاؤ لگاتے ہیں نہ بازار کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں تو ہمارے ساتھ یہاں ہی بیٹھے باتیں کرلیں گے ۴؎فرماتے ہیں کہ تو مجھ سے عبدالله بن عمر نے فرمایا اے پیٹ والے،راوی کہتے ہیں کہ طفیل کا پیٹ بڑا تھا ۵؎ہم سلام کے لئےجاتے ہیں کہ جو ہمیں ملے اسے سلام کریں ۶؎(مالک، بیہقی شعب الایمان)
وَعَنِ الْطُّفَيْلِ بْنِ أُبيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَنَّهٗ كَانَ يَأْتِي ابْنَ عُمَرَ فَيَغْدُو مَعَهُ اِلَى السُّوقِ. قَالَ فَإِذَا غَدَوْنَا إِلَى السُّوقِ لَمْ يَمُرَّ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ عَلٰى سَقَّاطٍ وَلَا عَلٰى صَاحِبِ بَيْعَةٍ وَلَا مِسْكِينٍ وَلَا أَحَدٍ إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ. قَالَ الطُّفَيْلُ:فَجِئْتُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عُمَرَ يَوْمًا فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَى السُّوقِ فَقُلْتُ لَهُ: وَمَا تَصْنَعُ فِي السُّوقِ وَأَنْتَ لَا تَقِفُ عَلَى البَيْعِ وَلَا تَسْأَلُ عَنْ السّلع وتسوم بِهَا وَلَا تَجْلِسُ فِي مَجَالِسِ السُّوقِ فَاجْلِسْ بِنَا هَهُنَا نَتَحَدَّثُ. قَالَ: فَقَالَ لِيْ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ: يَا أَبَا بَطْنٍ قَالَ وَكَانَ الطُّفَيْلُ ذَابَطْنٍ إِنَّمَا نَغْدُو مِنْ أَجْلِ السَّلَامِ نُسَلِّمُ عَلٰى مَنْ لَقِينَاهُ.رَوَاهُ مَالِكٌ وَالْبَيْهَقِيّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4664 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا بولا فلاں شخص کی کھجور کی شاخ میرے باغ میں ہے ۱∞؎اور اس کی شاخ نے مجھے بہت دکھ دیا ہے ۲؎تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا کہ میرے ہاتھ اپنی یہ شاخ فروخت کردے ۳؎وہ بولا نہیں ۴؎فرمایا تو مجھے ہبہ کردے ۵؎بولا نہیں فرمایا تو اسے میرے ہاتھ جنت کے درخت کی عوض بیچ دے ۶؎بولا نہیں تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ایسا شخص نہ دیکھا جو تجھ سے زیادہ بخیل ہو ۷؎سواء اس کے جو سلام میں بخل کرے ۸؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتٰى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لِفُلَانٍ فِيْ حَائِطِيْ عَذْقٌ وَأَنَّهٗ قَدْ آذَانِيْ مَكَانُ عَذْقِهٖ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ بِعْنِيْ عَذْقَكَ قَالَ: لَا. قَالَفَهَبْ لِي . قَالَ: لَا. قَالَ: فَبِعْنِيْهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ ؟ فَقَالَ: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ.رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الإِيمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4665 ، باب:سلام کا باب
روایت ہے حضرت عبدالله سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا سلام میں ابتداءکرنے والا تکبر سے دور ہے ۱∞؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَادِئُ بِالسَّلَامِ بَرِيءٌ مِنَ الْكِبْرِ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4666 ، باب:سلام کا باب
- 1
- 2