باب:سلام کا باب

اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے کہ الله نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ۱∞؎جن کے قدکی لمبائی ساٹھ گز تھی ۲؎تو جب انہیں پیدا کیا تو فرمایا جاؤ ان لوگوں پٖر سلام کرو وہ فرشتوں کی ایک جماعت تھی بیٹھی ہوئی ۳؎تو غور سے سنو وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں پھر وہ ہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا تحیہ ہے ۴؎چنانچہ آپ گئے تو کہا السلام علیکم ۵؎ان سب نے کہا السلام علیک ورحمۃ الله فرمایا تو انہوں نے ورحمۃ الله بڑھا دیا۶؎تو جو بھی جنت میں جاوے گا حضرت آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا ۷؎اور اس کا قد ساٹھ۶۰ گز ہوگا پھر جناب آدم علیہ السلام کے بعد مخلوق گھٹتی رہی حتی کہ اب تک ۸؎(مسلم، بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلَقَ اللّٰهُ آدَمَ عَلٰى صُورَتِهٖ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهٗ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلٰى أُولٰئِكَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ فَاسْتَمِعْ مَا يُجِيبُونَكَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ فَذَهَبَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ " قَالَ: «فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» . قَالَ: «فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلٰى صُورَةِ آدَمَ وَطُولُهٗ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدَهٗ حَتَّى الْآنَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4628 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے کہ ایک شخص نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام اچھا ہے ۱∞؎فرمایا کھانا کھلاؤ اور سلام کرو اسے جسے پہچانو یا نہ پہچانو ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلٰى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4629 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ )سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن کے مؤمن پر چھ حق ہیں ۱∞؎جب وہ بیمار ہو تو مزاج پرسی کرے ۲؎اور جب مرجاوے تو جنازہ پر حاضر ہو ۳؎جب دعوت دے تو قبول کرے،جب اس سے ملے تو اسے سلام کرے اور جب چھینکے ۴؎تو جواب دے اور اس کی خیر خواہی کرے جب وہ غائب ہو یا حاضر ۵؎یہ روایت میں نے نہ تو مسلم،بخاری میں پائی نہ کتاب حمیدی میں لیکن اسے جامع والے نے بروایت نسائی فرمایا ۶؎

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لِلْمُؤْمِنِ عَلَى المُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ: يَعُودُهٗ إِذَا مَرِضَ وَيَشْهَدُهٗ إِذَا مَاتَ وَيُجِيبُهٗ إِذَا دَعَاهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهٗ وَيُشَمِّتُهٗ إِذَا عَطَسَ وَيَنْصَحُ لَهٗ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ «لَمْ أَجِدْهُ» فِي الصَّحِيحَيْنِ «وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلٰكِنْ ذَكَرَهٗ صَاحِبُ» الْجَامِع " بِرِوَايَةِ النَّسَائِيِّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4630 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم جنت میں نہ جاؤ گے حتی کہ مؤمن بن جاؤ اور مؤمن نہ بنو گے ۱∞؎حتی کہ آپس میں محبت کرو ۲؎کیا میں تمہیں اس پر رہبری نہ کروں کہ جب تم وہ کرلو تو اس میں محبت کرنے لگو اپنے درمیان سلام پھیلاؤ ۳؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتّٰى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتّٰى تَحَابُّوا أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُموهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4631 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سلام کرے سوار پیدل پر ۱∞؎اور پیدل بیٹھے ہوئے پر ۲؎اور تھوڑے بہتوں پر ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى المَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى القَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الكَثِيرِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4632 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سلام کرے چھوٹا بڑے پر ۱∞؎اورگزرنے والا بیٹھے ہوئے پر اور تھوڑے بہت پر ۲؎(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الكَبِيرِ وَالْمَارُّ عَلَى القَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الكَثِيرِ»رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4633 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم چند لڑکوں پرگزرے تو انہیں ۱∞؎سلا م کیا۔(مسلم، بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4634 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ یہودیوں عیسائیوں پر سلام کی ابتداء نہ کرو ۱∞؎اور جب تم ان میں سے کسی راستہ میں ملو تو تنگ راستہ کی طرف انہیں مجبور کرو ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «لَا تَبْدَؤُواالْيَهُودَ وَلَا النَّصَارٰى بِالسَّلَامِ وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلٰى أَضْيَقِهٖ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4635 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم کو یہودی سلام کرتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک کہتا ہے تم پر موت پڑے تو تم کہہ دو کہ تجھ پر ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ فَإِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمْ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُلْ: وَعَلَيْكَ"(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4636 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت انس)رضی اللہ عنہ( سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم کو اہلِ کتاب سلام کریں تو کہہ دو وعلیکم ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ" (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4637 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاسے فرماتی ہیں کہ یہود کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے حاضری کی اجازت مانگی تو بولے السام علیکم ۱∞؎تو میں نے کہا بلکہ تم پر موت و لعنت پڑے ۲؎تو حضور نے فرمایا اے عائشہ الله رحیم ہے ہر کام میں نرمی پسند کرتا ہے۳؎میں نے کہا کیا آپ نے وہ نہ سنا جو انہوں نے کہا تھا،فرمایا میں نے کہہ دیا اور تم پر ۴؎اور ایک روایت میں ہے تم ہی پر یعنی واؤ کا ذکر نہیں ۵؎(مسلم،بخاری) اور بخاری کی روایت میں ہے فرماتی ہیں کہ یہود نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو بولے السام علیک حضور نے فرمایا وعلیکم تو جناب عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا موت ہو تم پر اور تم پر خدا لعنت کرے غضب کرے ۶؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ٹھہرو نرمی لازم کرو اور سختی اور فحش سے بچو ۷؎انہوں نے عرض کیا، کیا آپ نے نہ سنا جو انہوں نے کہا فرمایا کیا تم نے نہ سنا جو میں نے کہا میں نے ان پر ہی لوٹادیا تو میری دعا ان کے بارے میں قبول ہوگی اور ان کی دعا میرے متعلق نہ قبول ہوگی ۸؎اور مسلم کی روایت میں ہے فرمایا تم فحش گو نہ بنو ۹؎کیونکہ الله تعالٰی فحش کہنے کو پسند نہیں کرتا ۱۰؎

وَعَنْ عائشةَ قَالَتْ: اِسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ. فَقُلْتُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ. فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللّٰهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهٖ » قُلْتُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: «قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ»وَفِي رِوَايَةٍ: «عَلَيْكُمْ» وَلَمْ يَذْكُرِ الْوَاوَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ. قَالَتْ: إِنَّ الْيَهُودَ أَتَوُا النَّبِي صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ. قَالَ: «وَعَلَيْكُمْ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ وَلَعَنَكُمُ اللّٰهُ وَغَضِبَ عَلَيْكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « مَهْلًا يَا عَائِشَةُ! عَلَيْكِ بالرِّفقِ ، وإِيَّاكَ وَالْعُنْفَ والفُحْشَ » . قَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: "أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ»وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ. قَالَ: «لَا تَكُونِي فَاحِشَةً فَإِنَّ اللّٰهَ لَا يُحبُّ الفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ »

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4638 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک مجلس پرگزرے جس میں مسلمان مشرکین بت پرست اور یہود مخلوط لوگ تھے ۱∞؎حضور نے انہیں سلام کیا ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4639 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا راستوں پر بیٹھنے سے بچو ۱∞؎لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہم کو وہاں بیٹھنے کے سوا چارہ نہیں ہم وہاں بات چیت کرتے ہیں ۲؎فرمایا اگر بغیر بیٹھے نہ مانو تو راستہ کو اس کا حق دو۳؎انہوں نے عرض کیا کہ راستہ کا کیا حق ہے یارسول الله ، فرمایا نگاہ نیچے رکھنا،تکلیف دہ چیز ہٹانا اور سلام کا جواب دینا اور اچھائیوں کا حکم دینا،برائیوں سے روکنا ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ» . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا. قَالَ: «فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهٗ» . قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: «غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذٰى وَرَدُّ السَّلَامِ، والأَمرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4640 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سےوہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی اس قصہ میں فرمایا اور لوگوں کو راستہ بتانا ۱∞؎ابوداؤد نے حدیث خدری کے پیچھے یوں روایت کیا۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هٰذِهِ القِصَّةِ قَالَ: وَإِرْشَادُ السَّبِيلِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ عَقِيبَ حَدِيثِ الْخُدْرِيِّ هٰكَذَا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4641 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت عمر سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی اس ہی قصہ میں فرمایا کہ مظلوم کی مدد کرو،گمے ہوئے (بھولے ہوئے)کو ہدایت دو ۱∞؎اس سے ابوداؤد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے پیچھے یوں ہی روایت کیا اور ۲؎میں نے یہ دونوں حدیثیں مسلم،بخاری میں نہ پائیں۔

وَعَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هٰذِهِ القِصَّةِ قَالَ:«وَتُغِيثُوا الْمَلْهُوفَ وَتَهْدُوا الضَّالَّ » . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ عَقِيْبَ حَدِيْثِ أَبِي هُرَيْرَةَ هٰكَذَا وَلَمْ أَجَدْهُمَا فِي "الصَّحِيحَيْنِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4642 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت علی (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مسلمان کے لیے مسلمان پر چھ اچھی خصلتیں ہیں ۱∞؎جب اس سے ملے تو سلام کرے ۲؎جب وہ دعوت دے تو قبول کرے ۳؎اور جب چھینکے تو اسے جواب دے جب بیمار ہوجاوے تو مزاج پرسی کرے جب مرجاوے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے ۴؎اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۵؎(ترمذی،دارمی)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلْمُسْلِمِ عَلَى المُسْلِمِ سِتٌّ بِالْمَعْرُوفِ: يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهٗ وَيُجِيبُهٗ إِذَا دَعَاهُ وَيُشَمِّتُهٗ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهٗ إِذَا مَرِضَ وَيَتْبَعُ جِنَازَتَهٗ إِذَا مَاتَ وَيُحِبُّ لَهٗ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4643 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو عرض کیا السلام علیکم ۱∞؎حضور انور نے اس کا جواب دیا پھر بیٹھ گیا تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا دس ۲؎پھر دوسرا آدمی اس نے عرض کیا السلام علیکم ورحمۃ الله حضور نے اس کا جواب دیا وہ بیٹھ گیا تو فرمایا بیس پھر وہ دوسرا آیا عرض کیا السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ آپ نے اس کا جواب دیا وہ بیٹھ گیا تو فرمایا تیس ۳؎(ترمذی، ابوداؤد)

وعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرٌ . ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَجَلَسَ، فَقَالَ: "عِشْرُونَ". ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهٗ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَقَالَ: ثَلَاثُونَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4644 ، باب:سلام کا باب

ابوداؤد نے حضرت معاذ ابن انس سے بھی روایت کی وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی ہیں اس کے ہم معنی اور زیادتی کی کہ پھر دوسرا اور آیا اس نے عرض کیا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ و مغفرتہ تو فرمایا چالیس اور فرمایا یونہی زیادتیاں ہوتی رہیں گی ۱∞؎(ابوداؤد)

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ ثُمَّ أَتٰى آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُاللّٰهِ وَبَرَكَاتُهٗ وَمَغْفِرَتُهٗ فَقَالَ: أَرْبَعُونَ وَقَالَ: هٰكَذَا تَكُوْنُ الْفَضَائِلُ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4645 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله سے قریب تر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۱∞؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِاللّٰهِ مَنْ بَدَأَ السَّلَامَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4646 ، باب:سلام کا باب

روایت ہے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وآلہٖ سلم عورتوں پرگزرے تو انہیں سلام کیا ۱∞؎(احمد)

وَعَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلٰى نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4647 ، باب:سلام کا باب