باب :نیک باتوں کا حکم دینا

اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری( رضی اللہ عنہ)سے ۱∞؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو تم میں سے برا کام دیکھے ۲؎تو اسے ہاتھ سے روک دے اگر اس کی طاقت نہیں ۳؎رکھتا تو زبان سے اگر اس کی بھی نہیں رکھتا تو دل سے۴؎اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۵؎(مسلم)

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخدريِّ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ رَأٰى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهٖ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ، وَذٰلِكَ أَضْعَفُ الإِيْمَانِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5137 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

روایت ہے حضرت نعمان بن بشیر (رضی اللہ عنہ) سے ۱∞؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی حدود میں سستی کرنے والوں۲؎اور ان میں گرنے والوں کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے کشتی میں قرعہ ڈالا پس کچھ لوگ اس کے نچلے حصے میں رہے اور کچھ اوپر والے میں نیچے والے پانی لے کر اوپر والوں کے پاس سے گزرے انہیں اسپر تکلیف دی جاتی تو انہوں نے کلہاڑی لی اور کشتی کا نچلہ حصہ توڑنا شروع کردیا فریق ثانی نے آکر کہا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کہا کہ میری وجہ سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے اور مجھے پانی کی ضرورت ہے اگر وہ اس کا ہاتھ پکڑ لیں تو اسے بچالیں گے اور اپنی جانوں کو بھی اوراگر چھوڑ دیں تو اسے ہلاک کردیں گے اور اپنی جانوں کو بھی ہلاک کرلیں گے۳؎(بخاری)

وَعَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: " مثلُ الْمُدْهِنِ فِي حُدُودِ اللّٰهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا سَفِينَةً فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلَاهَا فَكَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّ بِالْمَاءِ عَلَى الذِينَ فِي أَعْلَاهَا فَتَأَذَّوْا بِهٖ فَأَخَذَ فَأْسًا فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: مَا لَكَ؟ قَالَ: تَأَذَّيْتُمْ بِي وَلَا بُدَّ لِي مِنَ الْمَاءِ. فَإِنْ أَخَذُوا عَلٰى يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ وَإِنْ تَرَكُوهُ أَهْلَكُوهُ وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5138 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

روایت ہے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے ۱∞؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے روز ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا آگ میں اس کی انتڑیاں نکل پڑیں گی۲؎وہ پھرے گا جیسے گدھا چکی کے گرد پھرتا ہے جہنمی اس کے پاس جمع ہوکر کہیں گے اے فلاں کیا بات ہے جب کہ آپ تو ہمیں نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے تھے ؟ کہے گا میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا تمہیں برائی سے روکتا تھا لیکن خود نہیں رکتا تھا۳؎(متفق علیہ)

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقٰى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهٗ فِي النَّارِ فَيَطْحَنُ فِيهَا كَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ فَيَقُولُونَ: أَيْ فُلَانُ مَا شَأْنُكَ؟ أَلَيْسَ كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ؟قَالَ: كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5139 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

روایت ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ۱∞؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم ضرور نیک کاموں کا حکم کرنا اور برے کاموں سے منع کرتے رہنا ورنہ قریب ہے ۲؎کہ اللہ تعالٰی تم پر اپنے پاس سے عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعا کرو گے تو تمہاری دعا قبول نہیں کی جائے گی۳؎(ترمذی)

عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللّٰهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ عِنْدِهٖ ثُمَّ لَتَدْعُنَّهٗ وَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5140 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

روایت ہے حضرت عرس بن عمیرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب زمین میں گناہ کیا جاوے تو جو وہاں موجود ہو اور وہ اسے ناپسند کرے تو ایسا ہے جیسے وہاں موجود نہیں اور جو موجود نہیں لیکن اس سے راضی ہے تو وہ ایسا ہے جیسے موجود ہو۲؎(ابوداؤد)

وَعَنِ الْعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الْأَرْضِ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَاكَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5141 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎نے فرمایا کہ اے لوگو تم یہ آیت پڑھتے ہو اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو تم پر اپنی جانوں کا بچانا لازم ہے گمراہ ہونے والا تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا جب کہ تم ہدایت پر ہو۲؎میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ لوگ جب کوئی برا کام دیکھیں اور اس سے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالٰی ان پر اپنا عذاب بھیج دے۳؎روایت کیا اسے ابن ماجہ اور ترمذی نے اور اس کو صحیح کہا اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ اگر ظالم کو دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالٰی ان پر اپنا عذاب بھیج دے۴؎اور اسی کی دوسری روایت میں ہے کہ جس قوم میں ظلم کیے جاتے ہوں اور لوگ انہیں روکنے پر قدرت رکھتے ہو لیکن نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالٰی ان پر عذاب بھیج دے اور اسی کی ایک روایت میں ہے کہ جس قوم میں گناہ کیے جاتے ہوں اورکرنے والوں سے دوسرے لوگ زیادہ ہوں ۵؎

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هٰذِهِ الآيَةَ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ}فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا مُنْكَرًا فَلَمْ يُغَيِّرُوهُ يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللّٰهُ بِعِقَابِهٖ ». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالتِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهٗ. وَفِي رِوَايَةِ أبي دَاوُد: «إِذا رَأَوْا الظَّالِم فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلٰى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللّٰهُ بِعِقَابٍ» . وَفِي أُخْرٰى لَهٗ: «مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي ثُمَّ يَقْدِرُونَ عَلٰى أَنْ يُغَيِّرُوا ثُمَّ لَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللّٰهُ بِعِقَابٍ» . وَفِي أُخْرٰى لَهٗ: «مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَكْثَرُ مِمَّن يَعْمَلُهٗ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5142 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

حضرت جریر ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ ۱∞؎کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کسی قوم کا کوئی آدمی ان کے درمیان گناہ کرتا ہو اور وہ اسے روکنے کی طاقت رکھتے ہوں لیکن نہ روکیں تو اللہ تعالٰی ان سب پر عذاب بھیجے گا اس سے پہلے کہ وہ مریں۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَن جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يَعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي يَقْدِرُونَ عَلٰى أَنْ يُغَيِّروا عَلَيْهِ وَلَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا أَصَابَهُمُ اللّٰهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ قَبْلَ أَنْ يَمُوتُوا».رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْن مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5143 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎نے فرمایا ارشاد باری تعالٰی تم پر اپنی جانوں کو بچانا لازم ہے گمراہ ہونے والا تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا جب کہ تم ہدایت پر ہو کے متعلق فرمایا خدا کی قسم میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو فرمایا تم نیکی کا حکم کرتے رہو اور برے کاموں سے روکتے رہو یہاں تک کہ جب دیکھو کہ بخل کی تابعداری کی جارہی ہے خواہشات کی پیروی ہو رہی ہے دنیا کو ترجیح دی جا رہی ہے ہر ایک اپنی رائے پر نازاں ہو۲؎اور ایسا معاملہ دیکھو کہ چارہ کار کوئی نہ ہو تو تم پر خودکو بچانا لازم ہے۳؎اور عوام کو چھوڑ دو کیونکہ پیچھے صبر کے دن ہیں جس نے ان دنوں میں صبر کیا تو گویا چنگاری پکڑی ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر ثواب ہے جو اسی طرح عمل کرتے ہوں،عرض کی گئی کہ یارسول اللہ ان کے پچاس جتنا ؟ فرمایا کہ تمہارے پچاس آدمیوں جتنا ثواب ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبةَ فِي قَوْلِهٖ تَعَالٰى:(عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذا اهْتَدَيْتُمْ) فَقَالَ: أَمَا وَاللّٰهِ لَقَدْ سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " بَلِ ائْتَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتّٰى إِذَا رأيتَ شُحّاً مُطاعاً وَهَوًى مُتَّبَعاً وَدُنْيا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهٖ وَرَأَيْتَ أَمْرًا لَا بُدَّ لَكَ مِنْهُ فَعَلَيْكَ نَفْسَكَ وَدَعْ أَمْرَ الْعَوَامِّ فَإِنَّ وَرَاءَكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ فَمَنْ صَبَرَ فِيهِنَّ قَبَضَ عَلَى الجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: «أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5144 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصرکے بعد ہمارے درمیان خطبہ دینے کھڑے ہوئے پس آپ نے قیامت تک ہونے والی کوئی خبر نہ چھوڑی ۱∞؎مگر اس کا ذکر کردیا یاد رکھا جس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا،اسی میں آپ نے فرمایا بے شک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ تعالی اس کی تم کو خلافت دینے والاہے پس دیکھتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ خبردار! دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو اور ذکر فرمایا کہ قیامت کے روز ہر دغا باز۲؎کے لیے اس کی دنیاوی دغا بازی کے مطابق جھنڈا ہوگا اور حاکم کی عام دغا بازی سے بڑھ کر کوئی دغا بازی نہیں اس کا جھنڈا اس کے پاخانے کی جگہ کے پاس گاڑا جائے گا،فرمایا کہ تم میں سے کسی کو لوگوں کا خوف حق بات کہنے سے نہ روکے جب کہ اسے معلوم ہو،ایک روایت میں ہے کہ اگر برا کام دیکھے تو اسے روکے،پس حضرت ابو سعید رو پڑے اور فرمایا ہم اسے دیکھتے ہیں اور لوگوں کی ہیبت ہمیں اس کے متعلق بولنے سے روکتی ہے پھر فرمایاکہ آدمی مختلف درجوں کے پیدا کیے گئے ہیں بعض وہ ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں مؤمن ہی زندہ رہتے ہیں اور مؤمن مرتے ہیں اور ان میں سے بعض کافر پیدا ہوتے ہیں کافر زندہ رہتے ہیں اور کافر ہی مرتے ہیں اور ان میں سے بعض مؤمن پیدا ہوتے مؤمن زندہ رہتے اور کافر مرتے ہیں اور ان میں سے بعض کافر پیدا ہوتے کافر زندہ رہتے اور مؤمن مرتے ہیں،راوی کا بیان ہے کہ آپ نے غصے کا ذکر فرمایا کہ ان میں سے بعض کو جلد غصہ آتا اور جلد چلا جاتا ہے پس ایک دوسرے کے ساتھ ہے ان میں سے بعض کو دیر سے غصہ آتا اور دیر سے جاتا ہے پس ایک دوسرے کے ساتھ ہے تم میں سے بہتر وہ ہیں جن کو دیر سے غصہ آئے اور جلد چلا جائے اور تم میں سے برے وہ ہیں جن کو جلدی غصہ آئے۳؎اور دیر سے جائے۴؎فرمایا کہ غصے سے بچو کیونکہ یہ آدمی کے دل پر چنگاری ہے کیا تم اس کی رگوں کے پھولنے ۵؎اور آنکھوں کے سرخ ہونے کو نہیں دیکھتے جس کو غصہ محسوس ہو تو چاہیے کہ لیٹ جائے اور زمین سے چمٹ جائے،راوی کا بیان ہے کہ آپ نے قرض کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تم میں سے کوئی اچھی طرح ادا کردیتا ہے لیکن جب اس کا کسی پر ہو تولینے میں سختی کرتا ہے دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہیں ان میں سے کوئی ادا کرنے میں برا ہے لیکن اگر اس کا کسی پر ہو تو طلب میں اچھا ہے یہ ایک عادت دوسری کے ساتھ ہے اور تم میں سے بہتر وہ ہے کہ جب اس پر کسی کا قرض ہوتو اچھی طرح ادا کرے اور اس کا کسی پر ہو تو اچھی طرح طلب کرے اور تم میں سے برا وہ ہے کہ جب اس پر کسی کا قرض ہو تو بری طرح ادا کرے اور اس کا کسی پر ہو تو سختی سے طلب کرے خواہ سورج درختوں کی چوٹیوں اور دیواروں کے کناروں پر ہو۶؎نیز فرمایا کہ دنیا کی زندگی میں سے گزرے ہوئے وقت کے مقابلے میں نہیں باقی رہا مگر اتنا حصہ جتنا آج گزرے ہوئے وقت سے باقی رہ گیا ہے۔(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا بَعْدَ الْعَصْرِ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يَكُونُ إِلٰى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا ذَكَرَهٗ حَفِظَهٗ مَنْ حَفِظَهٗ وَنَسِيَهٗ مَنْ نَسِيَهٗ وَكَانَ فِيمَا قَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللّٰهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ» وَذَكَرَ: «إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهٖ فِي الدُّنْيَا وَلَا غَدْرَ أَكْبَرُ مِنْ غَدْرِ أَمِيرِ الْعَامَّةِ يُغْرَزُ لِوَاؤُهٗ عِنْدَ اسْتِهٖ » . قَالَ: «وَلَا يَمْنَعْنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهٗ» وَفِي رِوَايَةٍ:«إِنْ رَأٰى مُنْكَرًا أَنْ يُغَيِّرَهُ» فَبَكٰى أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ:قَدْ رَأَيْنَاهُ فَمَنَعَتْنَا هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ نَتَكَلَّمَ فِيهِ.ثُمَّ قَالَ:«أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلٰى طَبَقَاتٍ شَتّٰى فَمِنْهُمْ مَن يُولَدُ مُؤمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا» قَالَ: وَذَكَرَ الْغَضَبَ«فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ سَرِيعَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرٰى وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرٰى وَخِيَارُكُمْ مَنْ يَكُونُ بَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ وَشِرَارُكُمْ مَنْ يَكُونُ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ» . قَالَ: «اتَّقُوا الْغَضَبَ فَإِنَّهٗ جَمْرَةٌ عَلٰى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ أَلَا تَرَوْنَ إِلٰى انْتِفَاخِ أَوْدَاجِهٖ ؟ وَحُمْرَةِ عَيْنَيْهِ؟ فَمَنْ أَحَسَّ بِشَيْءٍ مِنْ ذٰلِكَ فَلْيَضْطَجِعْ وَلْيَتَلَبَّدْ بِالْأَرْضِ» قَالَ: وَذَكَرَ الدَّيْنَ فَقَالَ: «مِنْكُمْ مَنْ يَكُونُ حَسَنَ الْقَضَاءِ وَإِذَا كَانَ لَهٗ أَفْحَشَ فِي الطَّلَبِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرٰى وَمِنْهُم مَنْ يَكُونُ سَيِّئَ الْقَضَاءِ وَإِنْ كَانَ لَهٗ أَجْمَلَ فِي الطَّلَبِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرٰى وَخِيَارُكُمْ مَنْ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَحْسَنَ الْقَضَاءِ وَإِنْ كَانَ لَهٗ أَجْمَلَ فِي الطَّلَبِ وَشِرَارُكُمْ مَنْ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَسَاءَ الْقَضَاءَ وَإِنْ كَانَ لَهٗ أَفْحَشَ فِي الطَّلَبِ» . حَتّٰى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلٰى رؤوسِ النَّخْلِ وَأَطْرَافِ الْحِيطَانِ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهٗ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضٰى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِيمَا مَضٰى مِنْهُ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5145 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

ابوالبختری۱∞؎نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ ہلاک نہیں کیے جائیں گے یہاں تک کہ اپنے آپ کو معذور بنائیں ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم:« لَنْ يَهْلِكَ النَّاسُ حَتَّى يُعْذِرُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5146 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

عدی ابن عدی الکندی ۱∞؎کا بیان ہے کہ ہمارے مولٰی نے ہم سے حدیث بیان کی کہ اس نے میرے جد امجد سے سنا فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالٰی عام لوگوں کو خاص لوگوں کے عمل کے باعث عذاب نہیں دیتا ۲؎یہاں تک کہ وہ اپنے درمیان برے کام ہوتے ہوئے دیکھیں اور اسے روکنے کی طاقت رکھتے ہوں لیکن نہ روکیں اگر انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالٰی عام اور خاص سب کو عذاب دے گا۳؎(شرح السنہ)

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَوْلًى لَنَا أَنَّهٗ سَمِعَ جَدِّي يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ حَتّٰى يَرَوُا الْمُنْكَرَ بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ وَهُمْ قَادِرُونَ عَلٰى أَنْ يُنْكِرُوهُ فَلَا يُنْكِرُوا فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِكَ عَذَّبَ اللّٰهُ العَامَّةَ والخَاصَّةَ» . رَوَاهُ فِي « شَرْحِ السُّنَّةِ »

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5147 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

روایت ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے تو ان کے علماء نے انہیں روکا لیکن وہ باز نہ آئے پس علماء ان کی مجالس میں شامل ہوتے رہے اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے رہے پس اللہ تعالٰی نے بعض کے دلوں کو دوسرے بعض کے دلوں سے ملادیا پس ان پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ بن مریم کی زبانی لعنت فرمائی یہ اس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے گزرتے تھے،راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے یہاں تک کہ تم انہیں ظلم سے پوری طرح روک لو۲؎(ترمذی،ابوداؤد)اور ایک روایت میں فرمایا خدا کی قسم تم ضرور نیک کاموں کا حکم دو گے برے کاموں سے منع کرو گے ظالم کا ہاتھ پکڑ کر اسے حق کی طرف کھینچ لو گے اور اسے مجبورکردو گے کہ اپنے حق پر ہی رہے ورنہ اللہ تعالٰی تمہارے بعض دلوں کو دوسرے بعض دلوں سے ملادے گا پھر تم پر لعنت کرے گا جیسے دوسروں پر لعنت کی تھی۳؎

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«لَمَّا وَقَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ فِي الْمَعَاصِي نَهَتْهُمْ عُلَمَاؤُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَجَالَسُوهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ وَآكَلُوهُمْ وَشَارَبُوهُمْ فَضَرَبَ اللّٰهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَلَعَنَهُمْ عَلٰى لِسَانِ دَاوُد وَعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ».قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ: «لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ حَتّٰى تَأْطِرُوهُمْ أَطْرًا».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَفِي رِوَايَتِهٖ قَالَ: «كَلَّا وَاللّٰهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلٰى يَدَيِ الظَّالِمِ وَلَتَأْطِرُنَّهٗ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا، وَلَتَقْصُرَنَّهٗ عَلَى الحَقِّ قَصْرًا أَوْ لَيَضْرِبَنَّ اللّٰهُ بِقُلُوبِ بَعْضِكُمْ عَلٰى بَعْضٍ ثُمَّ لَيَلْعَنَنَّكُمْ كَمَا لَعَنَهُمْ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5148 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معراج کی رات میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ انکے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے میں نے کہا اے جبرائیل یہ کون ہیں ؟کہا کہ یہ آپ کی امت کے واعظ ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں لیکن اپنی جانوں کو بھلا دیتے ہیں۲؎روایت کیا اسے شرح السنہ نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں،دوسری روایت میں کہا آپ کی امت کے خطیب جو دوسروں سے کہتے ہیں لیکن خود نہیں کرتے اور اللہ کی کتاب کو پڑھتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے۔

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رِجَالًا تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ قُلْتُ: مَنْ هٰؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ: هٰؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبَرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ رَوَاهُ في "شَرْحِ السُّنَّةِ"، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ " وَفِي رِوَايَتِهٖ قَالَ: «خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ، وَيَقْرَؤُوْنَ كِتَابَ اللّٰهِ وَلَا يَعْمَلُونَ »

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5149 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

روایت ہے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آسمان سے روٹی اور گوشت والا دسترخوان نازل ہوا ۲؎اور حکم دیا گیا کہ خیانت نہ کرنا اور کل کے لیے جمع نه کرنا پس انہوں نے خیانت کی اور اگلے روز کے لیے اٹھا کر رکھ لیتے پس وہ بندروں اور خنزیروں کی شکل میں تبدیل کردیئے گئے ۳؎(ترمذی)۴؎

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُنْزِلَتِ الْمَائِدَةُ مِنَ السَّمَآءِ خُبْزًا وَلَحْمًا وَأُمِرُوا أَنْ لَا يَخُونُوا وَلَا يَدَّخِرُوا لِغَدٍ فَخَانُوا وَادَّخَرُوا وَرَفَعُوا لغَدٍ فمُسِخُوا قِرَدَةً وخَنَازِيرَ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5150 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

روایت ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخری زمانہ میں میری امت کو اپنے حکمرانوں سے سخت تکلیفیں ۲؎پہنچیں گی ان سے نجات نہیں پائے گا مگر وہ شخص جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور اس پر اپنی زبان،ہاتھ اور دل کے ساتھ جہاد کیا یہ وہ شخص ہے جو پوری طرح سبقت لے گیا۳؎دوسرا وہ آدمی جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور اس کی تصدیق کی،تیسرا وہ آدمی جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور اس پر خاموش رہا اگر کسی کو نیکی کرتے دیکھا تو اس سے محبت کرنے لگا اور اگر کسی کو غلط کام کرتے دیکھا تو اس سے ناخوش رہا یہ سب اپنی اندرونی حالت کے باعث نجات پاجائیں گے۴؎

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهٗ تُصِيبُ أُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ مِنْ سُلْطَانِهِمْ شَدَائِدُ لَا يَنْجُو مِنْهُ إِلَّا رَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللّٰهِ فَجَاهَدَ عَلَيْهِ بِلِسَانِهٖ وَيَدِهٖ وَقَلْبِهٖ فَذٰلِكَ الَّذِي سَبَقَتْ لَهُ السَّوَابِقُ وَرَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللّٰهِ فَصَدَّقَ بِهٖ وَرَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللّٰهِ فَسَكَتَ عَلَيْهِ فَإِنْ رَأٰى مَنْ يَعْمَلُ الْخَيْرَ أَحَبَّهٗ عَلَيْهِ وَإِنْ رَأٰى مَنْ يَعْمَلُ بِبَاطِلٍ أَبْغَضَهٗ عَلَيْهِ فَذٰلِكَ يَنْجُو عَلٰى إِبْطَانِهٖ كلِّهٖ »

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5151 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ ۱∞؎سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے جبرئیل علیہ السلام کی طرف وحی کی فلاں بستی کو اس کے باشندوں پر الٹا دو ۲؎عرض گزار ہوئے کہ اے رب اس میں تو تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے آنکھ جھپکنے کی دیربھی تیری نافرمانی نہیں کی فرمایا کہ اس پر اور دوسرے سب پر الٹا دو کیونکہ میری خاطر اس کا چہرہ ایک ساعت کے لیے بھی متغیر نہیں ہوا تھا۳؎

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْحَى اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلٰى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنِ اقْلِبْ مَدِينَةَ كَذَا وَكَذَا بِأَهْلِهَا قَالَ: يَا رَبِّ! إِنَّ فِيهِمْ عَبْدَكَ فُلَانًا لَمْ يَعْصِكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ".قَالَ:"فَقَالَ: اقْلِبْهَا عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ فَإِنَّ وَجْهَهُ لَمْ يَتَمَعَّرْ فِيَّ سَاعَةً قَطُّ "

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5152 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

روایت ہے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے روز اللہ تعالٰی بندے سے پوچھتے ہوئے فرمائے گا تجھے کیا ہوگیا تھا کہ تو برائی کو دیکھتا تھا لیکن اس سے منع نہیں کرتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے حجت سکھادی جائے گی ۱∞؎لہذا عرض کرے گا اے رب لوگوں سے ڈرتے ہوئے اور تجھ سے امید رکھتے ہوئے ان تینوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۲؎

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ:مَا لَكَ إِذَا رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ فَلَمْ تُنْكِرْهُ؟ " قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَيُلَقّٰى حُجَّتَهٗ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ خِفْتُ النَّاسَ وَرَجَوْتُكَ رَوَى البَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ "

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5153 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے نیکی اور بدی دونوں قیامت کے روز لوگوں کے لیے کھڑی کی جائیں گی نیکی اپنے کرنے والوں کو خوشخبری سنائے گی اور ان سے بھلائی کا وعدہ کرے گی جب کہ برائی کہے گی کہ دور ہوجاؤ اور ان میں طاقت نہیں ہوگی مگر اس کے ساتھ چمٹنے کی،اسے احمد اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۲؎

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ خَلِيقَتَانِ تُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيُبَشِّرُ أَصْحَابَهٗ وَيُوعِدُهُمُ الْخَيْرَ وَأَمَّا الْمُنْكَرُ فَيَقُولُ: إِلَيْكُمْ إِلَيْكُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهٗ إِلَّا لُزُومًا رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5154 ، باب :نیک باتوں کا حکم دینا