باب:ناموں کا بیان

اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم بازار میں تھے کہ ایک آدمی نے کہا اے ابو القاسم ۱∞؎تو اس کی طرف نبی صلی الله علیہ سلم نے توجہ فرمائی وہ بولا کہ میں نے تو اس کو بلایا ہےتب نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا نام تو رکھو میری کنیت نہ رکھو ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّمَا دَعَوْتُ هٰذَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: سَمُّوْا بِاِسْمِيْ وَلَا تَكْتَنُوْا بِكُنْيَتِيْ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4750 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا نام رکھو اور میری کنیت نہ رکھو کیونکہ میں قاسم بنایا گیا ہوں کہ تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں ۱∞؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمُّوْا بِاِسْمِيْ وَلَا تَكْتَنُوْا بِكُنْيَتِي فَإِنِّي إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4751 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہارے ناموں میں رب تعالٰی کو بہت پسند نام عبداور عبدالرحمن ہے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللّٰهِ: عَبْدُ اللّٰهِ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4752 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اپنے غلام کا نام نہ یسار رکھو ۱∞؎نہ رباح نہ نجیح اور نہ افلح ۲؎کیونکہ تم کہو گے کہ کیا یہاں وہ ہے ہوگا نہیں تو کہے گا نہیں ۳؎(مسلم)اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اپنے غلام کا نام نہ رباح رکھو نہ یسار نہ افلح نہ نافع ۴؎

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: " لَا تُسَمِّيْنَ غُلَامکَ يَسَارًا وَلَا رِبَاحًا وَلَانَجِيْحًا وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ: أَثَمَّ هُوَ؟ فَلَا يَكُونُ فَيَقُولُ لَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ قَالَ: لَا تُسَمِّ غُلَامکَ رِبَاحًا وَلَا يَسَارًا وَلَا أَفْلَحَ وَلَا نَافِعًا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4753 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ارادہ کیا کہ یعلیٰ،برکت،افلح،یسار،نافع اور ان کی مثل نام رکھنے سے منع فرمادیں میں نے پھر آپ کو دیکھا کہ بعد میں اس سے خاموش رہے پھر وفات پاگئے ۱∞؎اور اس سے منع نہ فرمایا۔(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهٰى عَنْ أَنْ يُسَمّٰى بِيَعْلٰى وَبِبَرَكَةٍ وَبِأَفْلَحَ وَبِيَسَارٍ وَبِنَافِعٍ وَبِنَحْوِ ذٰلِكَ. ثُمَّ رَأَیْتُہٗ سَكَتَ بَعْدُ عَنْهَا ثُمَّ قُبِضَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذٰلِكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4754 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن الله کے نزدیک بدترین نام کا وہ شخص ہے جس کا نام ملک الاملاک رکھاجاوے ۱∞؎(بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا الله کا سخت غضب ناک قیامت کے دن اور خبیث ترین وہ شخص ہے جس کا نام ملک الاملاک رکھا جاوے خدا کے سوا کوئی بادشاہ نہیں ۲؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْنَى الأَسْمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللّٰهِ رَجُلٌ يُسَمّٰى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ .رَوَاهُ البُخَارِيُّ.وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَخْبَثُهٗ رَجُلٌ كَانَ يُسَمّٰى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ لَا مَلِكَ إِلَّا اللهُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4755 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت زینب بنت ابی سلمہ سے ۱∞؎فرماتی ہیں کہ میرا نام برہ رکھا گیا ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا خود اپنی صفائیاں نہ دو تم میں سے بھلائی والے کو الله جانتا ہے۳؎اس کا نام زینب رکھو ۴؎(مسلم)

وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِيْ سَلَمَةَ قَالَتْ: سُمِّيتُ بَرَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ اللّٰهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ سَمُّوهَا زَيْنَبَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4756 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جویریہ کا نام برہ تھا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کا نام جویریہ سے تبدیل کردیا ۱∞؎اور یہ ناپسندکرتے تھے کہ کہا جاوے برہ کے پاس سے گئے ۲؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةُ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ يَكْرَهٗ أَنْ يُقَالَ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4757 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ حضرت عمر کی بیٹی کا نام عاصیہ تھا ۱∞؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کا نام جمیلہ رکھا ۲؎(مسلم)

وَعَنْ اِبْنِ عُمَرَ أَنَّ بِنْتًا كَانَتْ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهَا: عَاصِيَةُ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيْلَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4758 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں کہ منذر ابن ابی اسید کو نبی صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا ۱∞؎جب کہ وہ پیدا ہوئے تو اسے حضور نے اپنی ران پر رکھا فرمایا اس کا نام کیا ہے عرض کیا فلاں فرمایا نہیں لیکن اس کا نام منذر ہے ۲؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ فَوَضَعَهٗ عَلٰى فَخِذِهٖ فَقَالَ: مَا اسْمُهٗ؟ قَالَ: فُلَانٌ: لَالٰكِنْ اِسْمُهٗ الْمُنْذِرُ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4759 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی نہ کہے کہ میرا عبد میری امۃ تم سب الله کے عبد ہو اور تمہاری تمام عورتیں الله کی لونڈیاں ہیں ۱∞؎لیکن کہے کہ میرا غلام اورمیری لونڈی اور میرا فتا اور میری فتات۲؎اور غلام نہ کہے کہ میرا رب لیکن کہے میرا سید اور ایک روایت میں ہے کہ کہے میرا سید میرا مولا۳؎اور ایک روایت میں ہے کہ غلام اپنے آقا کو مولا نہ کہے کیونکہ تمہارا مولیٰ الله ہے ۴؎(مسلم)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِيْ وَأُمَّتِيْ كُلُّكُمْ عَبِیْدُ اللّٰهِ وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللّٰهِ. وَلٰكِنْ لِيَقُلْ: غُلَامِي وَجَارِيَتِي وَفَتَايَ وَفَتَاتِي. وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ: رَبِّي وَلٰكِنْ لِيَقُلْ: سَيِّدِي " وَفِي رِوَايَةٍ: " لِيَقُلْ: سَيِّدِي وَمَوْلَايَ ". وَفِي رِوَايَةٍ: " لَا يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهٖ : مَوْلَايَ فَإِنَّ مَوْلَاكُمُ اللّٰهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4760 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کرم نہ کہو کیونکہ کرم مؤمن کا دل ہے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ فَإِنَّ الْكَرْمَ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4761 ، باب:ناموں کا بیان

اور مسلم کی ایک روایت میں وائل ابن حجر سے ہے فرمایا نہ کہوکرملیکن کہوعنباورحبلہ۱∞؎

وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: " لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ وَلٰكِنْ قُولُوا: الْعِنَبَ وَالْحَبْلَةَ "

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4762 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ انگور کا نام کرم نہ رکھو اور نہ کہو ہائے محرومی زمانہ کی ۱∞؎کیونکہ الله ہی زمانہ ہے ۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ وَلَا تَقُولُوا: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنَّ اللّٰهَ هُوَ الدَّهْرُ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4763 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله نے کہ تم میں سےکوئی زمانہ کو گالی نہ دے کیونکہ الله ہی زمانہ ہے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَسُبَّ أَحَدُكُمُ الدَّهْرَ فَإِنَّ اللّٰهَ هُوَ الدَّهْرُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4764 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا لیکن کہے کہ میرا نفس پریشان ہوگیا ۱ ∞؎(مسلم، بخاری)اور ابوہریرہ کی حدیث کہ مجھے ابن آدم نے ستایاباب الایمانمیں ذکر کی گئی ۲؎

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ:خَبُثَتْ نَفْسِي وَلٰكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي".(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَذُكِرَ حَدِيْثُ أَبِي هُرَيْرَةَ : يُؤْذِيْنِيْ اِبْنُ آدَمَ فِي بَابِ الْإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4765 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے شریح ابن ہانی سے ۱ ∞؎وہ اپنے والد سے راوی کہ جب وہ اپنی قوم کے ساتھ وفد بن کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۲؎تو حضور نے لوگوں کو سنا کہ وہ انہیں ابوالحکم کنیت کرتے ہیں ۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں بلایا پھر فرمایا کہ الله ہی حکم ہے اور اسکی طرف فیصلے ہیں تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں ہے۴؎انہوں نے عرض کیا کہ میری قوم جب کسی بات میں جھگڑتی ہے تو میرے پاس آجاتی ہے میں ان کے درمیان فیصلہ کردیتا ہوں تو دونوں فریق میرے فیصلہ سے راضی ہوجاتے ہیں تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کیا ہی اچھا ہے ۵؎تو کیا تمہارے کوئی لڑکا ہے بولے میرے شریح اور مسلم اور عبد اللہ ہیں فرمایا ان میں بڑ ا کون ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کہ شریح فرمایا تو تم ابو شریح ہو ۶؎(ابوداؤد،نسائی)

عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِي عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهٗ لَمَّا وَفَدَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ قَوْمِهٖ سَمِعَهُمْ يُكَنُّوْنَهٗ بِأَبِي الْحَكَمِ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَكَمُ فَلِمَ تُكَنّٰى أَبَا الْحَكَمِ؟ قَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ بِحُكْمِي. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَحْسَنَ هٰذَا فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ؟ قَالَ: لِي شُرَيْحٌ وَمُسْلِمٌ وَعَبْدُ اللّٰهِ قَالَ: فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ؟ قَالَ قُلْتُ: شُرَيْحٌ. قَالَ فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ ". رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4766 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے مسروق سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں حضرت عمر سے ملا تو فرمایا تم کون ہو میں بولا مسروق ابن اجدع جناب عمر نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اجدع شیطان ہے ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ: لَقِيْتُ عُمَرَ فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ. قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْأَجْدَعُ شيطانٌ رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وابنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4767 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم قیامت کے دن اپنے اور اپنے باپوں کے نام سے بلائے جاؤ گے تو اپنے نام اچھے رکھو ۱∞؎(احمد،ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ فَأَحْسِنُوا أَسْمَائِكُمْ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4768 ، باب:ناموں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی حضور کا نام اور آپ کی کنیت جمع کرے اور محمد ابوالقاسم نام رکھے ۱∞؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ نَهٰى أَنْ يَجْمَعَ أَحَدٌ بَيْنَ اِسْمِهٖ وَكُنْيَتِهٖ وَيُسَمِّىْ أَبَا الْقَاسِمِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4769 ، باب:ناموں کا بیان