- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- باب:ناموں کا بیان
باب:ناموں کا بیان
اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میرا نام رکھو تو میری کنیت نہ رکھو ۱∞؎(ترمذی، ابن ماجہ)ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے اور ابوداؤ د کی روایت میں ہے کہ فرمایا جو میرا نام رکھے تو میری کنیت نہ رکھے ۲؎جو میری کنیت رکھے وہ میرا نام نہ رکھے۔
وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِذَا سَمَّيْتُمْ بِاسْمِي فَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: مَنْ تَسَمّٰى بِاِسْمِيْ فَلَا يَكْتَنِ بِكُنْيَتِي وَمَنْ تَكَنّٰى بِكُنْيَتِي فَلَا يَتَسَمَّ باسمي
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4770 ، باب:ناموں کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ ایک عورت نے عرض کیا یارسول الله میں نے ایک لڑکا جنا ہے تو میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے اور کنیت ابوالقاسم رکھی ہے ۱∞؎تو مجھ سے ذکر کیا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں تو فرمایا وہ کیا ہے جس نے میرا نام حلال کیا اور میری کنیت حرام کی یا کس نے میری کنیت حرام کی اور میرا نام حلال کیا ۲؎(ابوداؤ د)محی السنہ نے کہا کہ یہ غریب ہے۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي وَلَدْتُ غُلَامًا فَسَمَّيْتُهٗ مُحَمَّدًا وَكَنَّيْتُهٗ أَبَا الْقَاسِمِ فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهٗ ذٰلِكَ. فَقَالَ: مَا الَّذِي أَحَلَّ اِسْمِيْ وَحَرَّمَ كُنْيَتِيْ؟ أَوْ مَاالَّذِيْ حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اِسْمِيْ؟ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ. وَقَالَ مُحِيُّ السُّنَّةِ: غَرِيْبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4771 ، باب:ناموں کا بیان
روایت ہے محمد ابن حَنفیہ سے ۱∞؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله فرمایئے تو اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام آپ کے نام پر اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ دوں فرمایا ہاں ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنْفِيَّةِ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِيْ بَعْدَكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4772 ، باب:ناموں کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی سے رکھی جسے میں چنا کرتا تھا ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث وہ ہے جسے صرف اسی وجہ سے ہم پہچانتے ہیں اور مصابیح میں سے صحیح کہا۲؎
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَنَّانِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ الا مِنْ هٰذَا الْوَجْه. وَفِي الْمَصَابِيْحِ صَحَّحَهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4773 ، باب:ناموں کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم برے ناموں کو بدل دیا کرتے تھے ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ كَانَ يُغَيِّرُ الِاسْمَ الْقَبِيْحَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4774 ، باب:ناموں کا بیان
روایت ہے بشیر ابن میمون سے وہ اپنے چچا اسامہ ابن اخدری سے ۱∞؎راوی کہ ایک شخص کو اصرم کہا جاتا تھا ۲؎وہ اس جماعت میں تھا جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئی تو اس سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا نام کیا ہے وہ بولے اصرم فرمایا بلکہ تم زرعہ ہو۳؎(ابوداؤ د)
وَعَنْ بَشِيْرِ بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهٗ أَصْرَمُ كانَ فِي النَّفرِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4775 ، باب:ناموں کا بیان
اور کہا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے عاص عزیز عتلہ شیطان حکم عراب حباب شہاب نام تبدیل فرمائے۱؎اور کہا کہ میں نے ان کی اسنادیں مختصر کرنے کے لیے چھوڑ دیں ۲؎
وَقَالَ:وَغَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْم الْعَاصِ وعزير وَعَتَلَةَ وَشَيْطَانٍ وَالْحَكَمِ وَعُرَابٍ وَحُبَابٍ وَشِهَابٍ وَقَالَ: تَرَكْتُ أَسَانِيْدَهَا لِلْاِخْتِصَارِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4776 ، باب:ناموں کا بیان
روایت ہے حضرت ابو مسعود انصاری سے کہ انہوں نے ابو عبدالله سے کہا یا ابوعبدالله نے ابو مسعود سے کہا ۱∞؎کہ آپ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سےزعمواکے متعلق کیا فرماتے سنا ۲؎فرمایا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ یہ انسان کی بری سواری ہے ۳؎(ابوداؤ د)اور فرمایا کہ ابو عبدالله حذیفہ ہیں۔
وَعَنْ أَبِي مسعودٍ الأنصاريِّ قَالَ لِأَبِي عَبْدِ اللّٰهِ أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللّٰهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي (زَعَمُوا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَقَالَ: إِنَّ أَبَا عَبْدِ اللّٰهِ حُذَيْفَة
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4777 ، باب:ناموں کا بیان
روایت ہے حضرت حذیفہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا یہ نہ کہو کہ الله نے چاہا اور فلاں نے چاہا لیکن کہو کہ الله نے چاہا پھر فلاں نے چاہا ۱∞؎(احمد،ابوداؤ د)
وَعَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللّٰهُ وَشَاءَ فُلَانٌ وَلٰكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ شَاءَ فلَانٌ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4778 ، باب:ناموں کا بیان
اور ایک منقطع روایت میں ہے فرمایا نہ کہو کہ چاہا الله نے اور چاہا محمد نے(صلی اللہ علیہ وسلم)اور کہو کہ صرفماشاءالله۱∞؎(شرح السنہ)
وَفِي رِوَايَةٍ مُنْقَطِعًا قَالَ:"لَا تَقُولُوا:مَا شَاءَ اللّٰهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ وَقُولُوا مَا شَاءَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ "
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4779 ، باب:ناموں کا بیان
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا منافق کو سردار نہ کہو ۱∞؎کہ اگر وہ سید ہوا تو تم نے اپنے رب کو ناراض کردیا ۲؎(ابوداؤ د)
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ سَيِّدٌ فَإِنَّهٗ إِنْ يَكُ سَيِّدًا فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4780 ، باب:ناموں کا بیان
روایت ہے عبدالحمید ابن جبیر ابن شیبہ سے فرماتے ہیں کہ میں سعید ابن جبیر کے پاس بیٹھاتھا ۱∞؎تو انہوں نے مجھے خبر دی کہ ان کے دادا حزن نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو فرمایا تمہارا نام کیا ہے عرض کیا میرا نام حزن ہے فرمایا بلکہ تم سہل ہو ۲؎عرض کیا میں وہ نام نہ بدلوں گا جو میرے باپ نے رکھا ہے۳؎ابن مسیب نے کہا کہ پھر ہم میں ہمیشہ رنج و غم رہا ۴؎(بخاری)
عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ قَالَ: جَلَسْتُ إِلٰى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَحَدَّثَنِي أَنَّ جَدَّهٗ حَزْنًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: اِسْمِي حَزْنٌ قَالَ: بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ قَالَ: مَا أَنَا بِمُغَيِّرٍ اِسْمًا سَمَّانِيْهِ أَبِي. قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: فَمَا زَالَتْ فِينَا الْحُزُونَةُ بَعْدُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4781 ، باب:ناموں کا بیان
روایت ہے حضرت ابو وہب جشمی سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نبیوں کے نام پر نام رکھو ۱∞؎اور الله تعالٰی کو زیادہ پسند نام عبدالله اور عبدالرحمن ہیں۲؎اور بہت سچے نام حارث،ہمام ہیں۳؎اور بہت برے نام حرب اور مرہ ہیں ۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي وَهَبٍ الْجُشَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَمُّوا أَسْمَاءَ الْأَنْبِيَاءِ وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللّٰهِ عَبْدُ اللّٰهِ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَامٌ أَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةُ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4782 ، باب:ناموں کا بیان
- 1
- 2