باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت عمیر سے جو ابی اللحم کے مولیٰ ہیں ۱؎فرماتے ہیں کہ میں اپنے مولاؤں کے ساتھ خیبر میں حاضر ہوا تو ان مولاؤں نے میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض معروض کی۲؎اور عرض کیا کہ میں غلام ہوں تو میرے متعلق حکم دیا مجھے ایک تلوار پہنادی گئی تو میں اسے کرہیٹرتا گھسیٹتا تھا۳؎پھر میرے لیے کچھ معمولی سامان کا حکم دیا ۴؎اور میں نے حضور پر ایک منتر پیش کیا جو میں دیوانوں پر کرتا تھا تو حضور نے مجھے کچھ نکال دینے کا حکم دیا اور کچھ کے باقی رکھنے کا ۵؎(ترمذی،ابوداؤد) مگر ابوداؤد کی روایت ان کے قولمتاعپر ختم ہوگئی۔

وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَر مَعَ سَادَتِي، فَكَلَّمُوْا فِيَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمُوْهُ أَنِّي مَمْلُوْكٌ، فَأَمَرَنِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا، فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهٗ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ،وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيةً كُنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ، فَأَمَرَنِي بِطَرْحِ بَعْضِهَا وَحَبْسِ بَعْضِهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ إِلَّا أَنَّ رِوَايَتَهٗ انْتَهَتْ عِنْدَ قَوْلِهِ: "الْمَتَاعِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4005 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت مجمع ابن جاریہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ خیبر حدیبیہ والوں پر بانٹ دیا گیا۲؎چنانچہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اٹھارہ حصوں پرتقسیم فرمایا اورلشکر پندرہ سو نفری تھا جن میں تین سو سوار تھے تو سوار کو دو حصے عطا فرمائے اور پیادہ کو ایک حصہ۳؎(ابوداؤد)اور ابوداؤد نے کہا کہ ابن عمر کی روایت زیادہ صحیح ہے اور اس پر عمل ہے ۴؎مجمع کی حدیث میں وہم یہ ہوگیا کہ انہوں نے کہا تین سو سوار حالانکہ تھے دوسو سوار ۵؎

وَعَنْ مُجَمَّعِ بْنِ جَارِيَةَ قَالَ: ۔۔۔قُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلٰى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَسَمَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا، وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِئَةٍ، فِيهِمْ ثَلَاثُ مِئَةِ فَارِسٍ، فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَالرَّاجِلَ سَهْمًا، رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَقَالَ: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ أَصَحُّ،فَالْعَمَلُ عَلَيْهِ وَأَتَى الْوَهْمُ فِي حَدِيثِ مُجَمِّعٍ أَنَّهٗ قَالَ: ثَلَاثُ مِئَةِ فَارِسٍ، وَإنَّمَا كَانُوْا مِئَتَيْ فَارِسٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4006 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت حبیب ابن مسلمہ فہری سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو ابتداء میں حضور نے چہارم نفل دیا اور لوٹنے پر تہائی ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الفِهْريِّ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الرُّبْعَ فِي البَدأَةِ، وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4007 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے انہی سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم چہارم نفل دیتے تھے خمس کے بعد اور جب لوٹتے تو تہائی نفل دیتے تھے خمس کے بعد ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنَفِّلُ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ وَالثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ إِذَا قَفَلَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4008 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوجویریہ جرمی سے کہ میں نے سلطنت معاویہ کے زمانہ میں ۱؎زمین روم میں ایک سرخ گھڑا پایا جس میں اشرفیاں تھیں اور ہمارے حاکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب تھے نبی سلیم کے جنہیں معن ابن یزید کہا جاتا تھا ۲؎میں وہ سب ان کے پاس لایا آپ نے وہ مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا اور اس میں سے مجھے اتنا ہی دیا جتنا ان میں سے ایک شخص کو دیا۳؎پھر فرمایا اگر میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو یہ کہتے نہ سنا ہوتا کہ نہیں ہے نفل مگر خمس کے بعد تو میں تم کو دے دیتا۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَّةِ الْجَرْمِيِّ قَالَ: أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّوْمِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ، وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ،يُقَالُ لَهٗ: مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ، فَأَتَيْتُهٗ بِهَا، فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَانِي مِنْهَا مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلًا مِنْهُمْ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "لَا نَفَلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ" لأَعْطَيْتُكَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4009 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ ہم آئے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس وقت پایا جب آپ نے خیبر فتح فرمایا ۱؎تو حضور نے ہمارے لیے بھی حصہ مقرر فرمایا کہ اس میں سے ہم کو بھی دیا اور جو فتح خیبر سے غائب رہا تھا اسے غنیمت سے کچھ نہ دیا سوائے ان کے جو آپ کے ساتھ حاضر ہوا سوا ہماری کشتی والوں جعفر اور انکے ساتھیوں کے کہ ان کے ساتھ ان کا بھی حصہ کیا ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي مُوْسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَدِمْنَا فَوَافَقْنَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَأَسْهَمَ لَنَا -أَوْ قَالَ: فَأَعْطَانَا مِنْهَا-، وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهٗ، إِلَّا أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا جَعْفَرًا وَأَصْحَابَهٗ، أَسْهَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4010 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے یزید ابن خالد سے ۱؎کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک شخص خیبر کے دن وفات پا گیا لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ذکر کیا تو فرمایا تم لوگ اپنے صاحب کے لیے نماز پڑھ لو اس سے لوگوں کے منہ کے رنگ بدل گئے ۲؎تو فرمایا کہ تمہارے اس صاحب نے راہِ خدا میں خیانت کی ہے۳؎چنانچہ ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہم نے کچھ منکے یہود کے منکوں سے پائے جو دو درہموں کے برابر نہ تھے۴؎(مالک،ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَذَكَرُوْا لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "صَلُّوْا عَلٰى صَاحِبِكُمْ" فَتَغَيَّرَتْ وُجُوْهُ النَّاسِ لِذٰلِكَ فَقَالَ: "إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ" فَفتَّشْنَا مَتَاعَهٗ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُوْدَ لَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4011 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب غنیمت حاصل فرماتے تو بلال کو حکم دیتے وہ لوگوں میں اعلان کرتے لوگ اپنی اپنی غنیمت لے آتے آپ خمس نکال لیتے اور اسے تقسیم فرمادیتے ۱؎ایک دن ایک شخص بالوں کی لگام اس کے بعد لایا۲؎بولا یا رسول اللہ یہ بھی اس ہی غنیمت سے ہے جو ہم نے حاصل کی تھی تو فرمایا کہ کیا تم نے نہیں سنا تھا کہ بلال نے تین آوازیں دیں تھیں بولا ہاں فرمایا تو تجھے اس کے لانے سے کس نے روکا وہ عذرکرنے لگا۳؎فرمایا تم یوں ہی رہوکہ اسے قیامت کے دن لاؤ گے۴؎میں تم سے ہرگز قبول نہ کروں گا۵؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَبدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْروٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً، أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ، فَيجِيئُوْنَ بِغَنَائِمِهِمْ فَيُخَمِّسُهٗ وَيُقَسِّمُهٗ، فَجَاءَ رَجُل يَوْمًا بَعْدَ ذٰلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، هٰذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْغَنِيمَةِ، قَالَ: "أَسَمِعْتَ بِلَالًا نادَى ثَلَاثًا؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهٖ؟ " فَاعْتَذَرَ قَالَ : "كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِهٖ يَوْمَ القِيَامَةِ فَلَنْ أَقْبَلَهٗ عَنْكَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4012 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت عمر نے غلول کرنے والے کا سامان جلایا اسے مارا ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ حَرَّقُوْا مَتَاعَ الْغَالِّ وَضَرَبُوْهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4013 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ جو کوئی غلول کرنے والے کو چھپائے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ يَكْتُمُ غَالًّا فَإِنَّهٗ مِثْلُهٗ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4014 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تقسیم سے پہلے حصوں کی خریداری سے منع فرمایا ۱؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن شِرَى الْمَغَانِمِ حتّٰى تُقْسَمَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4015 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے تقسیم سے پہلے حصوں کے بیچنے سے منع فرمایا ۱؎(دارمی)

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهٗ نَهٰى أَنْ تُبَاعَ السِّهَامُ حتّٰى تُقْسَمَ. رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4016 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت خولہ بنت قیس سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ یہ مال سرسبز میٹھا ہے۲؎جو اسے حق سے لے گا اسے اس میں برکت دی جائے گی۳؎بہت وہ لوگ جورسول کے مال میں گھس پڑتے ہیں جیسے ان کا دل چاہے قیامت کے دن ان کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ۴؎(ترمذی)

وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "إِنَّ هٰذِهِ الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَصَابَهٗ بِحَقِّهٖ بُوْرِكَ لَهٗ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ بِهٖ نَفْسُهٗ مِنْ مَالِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لَيْسَ لَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4017 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن تلوار ذوالفقار خود بطور نفل قبول فرمائی ۱؎ابن ماجہ، ترمذی نے یہ زیادتی بھی کی کہ یہ وہ ہی تلوار ہے جس کے متعلق حضور نے احد کے دن خواب دیکھا تھا ۲؎

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَفَّلَ سَيْفَهٗ ذَا الفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ: وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4018 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت رویفع ابن ثابت سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جوتعالٰی اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کی غنیمت سے کسی گھوڑے پر سوار نہ ہو کہ جب اسے دبلا کردے تو غنیمت میں لوٹا دے ۲؎اور جوشخص ایمان رکھتا ہواور آخری دن پر تو وہ مسلمانوں کی غنیمت سے کپڑا نہ پہنے کہ جب اسے پرانا کردے تو غنیمت میں لوٹا دے ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلَا يَرْكَبْ دابَّةً مِنْ فَيءِ الْمُسْلِمِينَ حتّٰى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسلمين حتّٰى إِذَا أَخْلَقَهٗ رَدَّهٗ فِيهِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4019 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت محمد ابن ابی المجالد سے وہ عبدابن ابی اوفیٰ سے راوی ۱؎فرماتے ہیں میں نے پوچھا کیا آپ لوگ۲؎رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں کھانے سے خمس نکالا کرتے تھے۳؎وہ بولے کہ ہم نے خیبر کے دن کھانا پایا تو کوئی شخص آتا تو اس ہی سے اپنی کفایت کی بقدر لے لیتا پھر لوٹ جاتا ۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: قُلْتُ: هَلْ كُنتُمْ تُخَمِّسُوْنَ الطَّعَامَ فِي عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَصَبْنَا طَعَامًا يَوْمَ خَيْبَرَ، فَكَانَ الرَّجُلُ يجِيءُ فَيَأْخُذُ مِنْهُ مِقْدَارَ مَا يَكْفِيهِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4020 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانہ میں ایک لشکر نے کھانا اور شہد غنیمت میں حاصل کیا تھا تو اس سےخمس نہ لیا گیا ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ جَيْشًا غَنِمُوْا فِي زَمَنِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا وَعَسَلًا، فَلَمْ يُؤخذْ مِنْهُم الْخُمُسُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4021 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت قاسم مولیٰ عبدالرحمن سے ۱؎وہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے بعض صحابہ سے راوی فرماتے ہیں کہ ہم غزوہ میں ایک اونٹ کھا لیا کرتے تھے اسے تقسیم نہ کرتے تھے حتی کہ جب ہم اپنی منزل کی طرف لوٹتے اس طرح کہ ہماری خورجیاں اس سے بھری ہوتیں۲؎(ابوداؤد)

وَعَنِ الْقَاسِم مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنَّا نَأْكُلُ الْجَزُوْرَ فِي الغَزْوِ وَلَا نُقَسِّمُهٗ، حتّٰى إِذَا كُنَّا لَنَرْجِعُ إِلَى رِحَالِنَا وأخْرِجَتُنا مِنْهُ مَمْلُوْءَةٌ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4022 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ دھاگہ اور سوئی تک ادا کرو ۱؎اور خیانت سے بچو کہ یہ خیانت قیامت کے دن خائن پر عار ہوگی ۲؎(دارمی)

وَعَنْ عُبَادَةَ اِبْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُوْلُ: "أَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ، وَإِيَّكُمْ وَالْغُلُوْلَ، فَإِنَّهٗ عَارٌ عَلٰى أَهْلِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4023 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

اور نسائی نے بروایت عمرو ابن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت کی۔

وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4024 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان