باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک اونٹ کے قریب ہوئے تو اس کے کوہان سے ایک بال لیا ۱؎پھر فرمایا اے لوگو اس فئ میں سے میرے لیے کچھ نہیں اور نہ یہ بال ۲؎اور اپنی انگلی شریف اٹھائی سوائے خمس کے۳؎اورخمس بھی تم پر ہی لوٹ جاتا ہے۴؎لہذا سوئی دھاگہ بھی ادا کردو تو ایک شخص کھڑا ہوا جس کے ہاتھ میں بالوں کی بنڈلی تھی بولا میں نے یہ لیا ہے تاکہ اس سے کمبل کو درست کروں ۵؎تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو میری یا عبدالمطلب کی اولاد کی ہو تو وہ تیرے لیے ہے ۶؎وہ بولا کہ یہ اس حد تک پہنچی ہوئی ہے جو میں دیکھ رہا ہوں تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ۷؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: دَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعِيرٍ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهٖ ثُمَّ قَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّهٗ لَيْسَ لِي مِنْ هٰذَا الْفَيْءِ شَيْءٌ وَلَا هٰذَا -وَرَفَعَ إِصْبَعَهٗ- إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُس مَرْدُوْدٌ عَلَيْكُمْ، فَأَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ" فَقَامَ رَجُلٌ فِي يَدِهٖ كُبَّةٌ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ: أَخَذْتُ هٰذِهٖ لأُصْلِحَ بِهَا بَرْدَعَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطّلِبِ فَهُوَ لَكَ". فَقَالَ: أمّا إِذا بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلَا أَرَبَ لِي فِيهَا ونبَذَهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4025 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن عبسہ سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے غنیمت کے کچھ اونٹوں کی طرف نماز پڑھائی ۱؎پھر جب سلام پھیرا تو اونٹ کے کروٹ سے بال لیا پھر فرمایا کہ تمہاری غنیمتوں سے میرے لیے اتنا بھی حلال نہیں سوا خمس کے اور خمس بھی تم میں ہی لوٹایا جاتا ہے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَم، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ ثُمَّ قَالَ: "وَلَا يَحِلُّ لِي مِنْ غَنَائِمِكُمْ مِثْلُ هٰذَا إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُوْدٌ فِيكُمْ" رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4026 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قرابت داروں کا حصہ بنی ہاشم اور بنی مطلب میں تقسیم فرما دیا۲؎تو میں اور حضرت عثمان ابن عفان حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) یہ ہمارے بھائی بنی ہاشم ہم ان کی بزرگی کے منکر نہیں آپ کے ہونے کی وجہ سے کہ رب نے آپ کو ان میں پیدا فرمایا ۳؎ہمارے بھائیوں بنی مطلب کے متعلق حضور فرمائیں کہ آپ نے انہیں دیا اور ہم کو چھوڑ دیا۴؎حالانکہ ہمارا ان کا رشتہ ایک ہی ہے تو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بنو ہاشم اور بنی مطلب اس طرح ایک ہیں اور اپنی انگلیوں کو مختلط فرما دیا ۵؎(شافعی،ابوداؤد)اور نسائی کی روایت میں اسی طرح ہے اور اس میں یہ ہے کہ میں اور بنی مطلب نہ دور جاہلیت میں الگ ہوئے نہ اسلام میں ہم اور وہ ایک ہی چیز ہیں اور اپنی انگلیوں شریف میں ۶؎اختلاط فرمادیا۔

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطعِمٍ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذَوِي الْقُرْبَى بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَتَيْتُهٗ أَنَا وَعُثْمَانُ اِبْنُ عَفَّانَ فَقُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! هَؤُلَاءِ إِخْوَانُنَا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، لَا نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي وَضَعكَ اللّٰهُ مِنْهُمْ، أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا قَرَابَتُنَا وَقَرَابَتُهُمْ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا بَنُوْ هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ هَكَذَا"، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهٖ. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ نَحْوُهٗ وَفِيهِ: "إِنَّا وَبَنُو الْمُطَّلِبِ لَا نَفْتَرِقُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ" وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ شَيْءٌ وَاحِدٌ"، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهٖ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4027 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن عوف سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں بدر کے دن صف میں کھڑا تھا تو میں نے اپنے داہنے بائیں دیکھا تو میں انصار کے دو نو عمر بچوں کے درمیان تھا ۲؎میں نے تمنا کی کہ میں ان سے بہادروں کے درمیان ہوتا۳؎ان دونوں میں سے ایک نے مجھے اشارہ کیا ۴؎بولا اے چچا کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں۵؎میں بولا تجھے اس سے کیا کام ہے اے بھتیجے؟وہ بولا مجھے خبر ملی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دیتا ہے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا جسم اس کے جسم سے جدا نہ ہوگا تاآنکہ ہم سے جلد موت والا مرجائے ۶؎فرماتے ہیں میں نے اس پر تعجب کیا ۷؎فرماتے ہیں کہ دوسرے نے بھی مجھے اشارہ کیا تو مجھے اس طرح کہا تو میں نہ ٹھہرا حتی کہ میں نے ابوجہل کو دیکھ لیا جو لوگوں کے بیچ گھوم رہا تھا۸؎تو میں بولا کیا تم دیکھتے نہیں یہ تمہارا وہ یار ہے ۹؎جس کے متعلق تم مجھ سے پوچھ رہے تھے فرماتے ہیں کہ وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر اس پر جھپٹے اسے مارا حتی کہ اسے قتل کردیا ۱۰؎پھر دونوں رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی طرف لوٹے حضور کو اس کی خبر دی ۱۱؎تو فرمایا تم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے تو ان میں سے ہر ایک بولا کہ اسے میں نے مارا ہے۱۲؎فرمایا کیا تم نے اپنی تلواریں پونچھ لی ہیں وہ بولے نہیں رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی تلواریں دیکھیں فرمایا تم دونوں نے ہی اسے قتل کیا ہے ۱۳؎اور رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے سلب کا فیصلہ معاذ ابن عمرو ابن جموح کے لیے کیا۱۴؎اور وہ دونوں صاحب معاذ ابن جموح اور معاذ ابن عفرا تھے۱۵؎(مسلم،بخاری)

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ عَوْفٍ قَالَ: إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ، فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بِغُلَامَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا، فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُوْنَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا، فَقَالَ: أَيْ عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهٗ يَسُبُّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَئِنْ رَأَيْتُهٗ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهٗ حتّٰى يَمُوْتَ الأَعْجَلُ مِنَّا، فَتَعَجَّبْتُ لِذٰلِكَ، قَالَ: وَغَمَزنِي الآخَرُ، فَقَالَ لِي مِثْلَهَا، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُوْلُ فِي النَّاسِ، فَقُلْتُ: أَلَا تَرَيَانِ؟ هٰذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسأَلَانِي عَنْهُ قَالَ: فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا، فَضَرَبَاهُ حتّٰى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ فَقَالَ: "أَيُّكُمَا قَتَلَهٗ؟ " فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهٗ، فَقَالَ: "هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا؟ " فَقَالَا: لَا، فَنَظَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّيْفَيْنِ فَقَالَ: "كِلَاكُمَا قَتَلَهٗ"، وَقَضَى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَلَبِهٖ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوْحِ، وَالرَّجُلَانِ: مُعَاذُ ابنُ عَمْرِو بنِ الْجَمُوْحِ وَمُعَاذُ بنُ عَفْرَاءَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4028 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن ۱؎کہ کون دیکھ کر ہم کو بتادے گا کہ ابوجہل کو کیا ہوا ۲؎تو ابن مسعود چلے اسے پایا کہ عفرا کے بیٹوں نے اسے مار دیا ہے حتی کہ ٹھنڈا ہوگیا ہے۳؎آپ نے اس کی داڑھی پکڑکر فرمایا۴؎کہ کیا تو ہی ابوجہل ہے وہ بولا کہ کیا تم نے مجھ سے اوپر والے کو بھی قتل کیا ہے ۵؎ایک روایت ہے کہ بولا کاش مجھے کسان کے علاوہ کوئی اور قتل کرتا۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ: "مَنْ يَنْظُرُ لَنَا مَا صَنَعَ أَبُوْ جَهْلٍ؟ " فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ فَوَجَدَهٗ قَدْ ضَرَبَهٗ ابْنَا عَفْرَاءَ حتّٰى بَرَدَ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهٖ، فَقَالَ: أَنْتَ أَبُوْ جَهْلٍ فَقَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوْهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلنِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4029 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جماعت کو عطیہ فرمایا میں بیٹھا ہوا تھا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ان میں سے ایک ایسے شخص کو چھوڑ دیا جو ان سب میں مجھے زیادہ پسندیدہ تھا ۱؎میں اٹھا اور میں نے عرض کیا فلاں کے متعلق کیا رائے عالی ہے میں تو اسے مؤمن سمجھتا ہوں۲؎تب حضور نے فرمایا بلکہ مسلم کہو۳؎سعد نے یہ تین بار عرض کیا اور حضور نے اسی طرح جواب دیا پھر فرمایا کہ میں کبھی کسی شخص کو دیتا ہوں حالانکہ دوسرا شخص مجھے زیادہ پیارا ہوتا ہے ۴؎اس خوف سے کہ اپنے منہ کے بل آگ میں گرایا جائے ۵؎(مسلم،بخاری)اور ان کی ایک روایت میں ہے زہری نے فرمایا ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام کلمہ طیبہ ہے اور ایمان نیک عمل ہے ۶؎

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: أَعْطَى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ، فَتَرَكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُم رَجُلًا وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟ وَاللّٰهِ إِنِّي لأُرَاهُ مُؤْمِنًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أوْ مُسْلِمًا" ذَكَرَ ..سَعْدٌ ثَلَاثًا وَأَجَابَهٗ بِمِثْلِ ذٰلِكَ، ثُمَّ قَالَ: "إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهٗ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلٰى وَجْهِهٖ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَنَرَى: أَنَّ الإِسْلَامَ الْكَلِمَةُ، وَالإِيمَانُ الْعَمَلُ الصَّالحُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4030 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے ہوئے یعنی بدر کے دن پس فرمایا کہ عثمانتعالٰی کے کام اور اس کے رسول کی خدمت میں گئے ہیں ۱؎ان کی بیعت میں کرتا ہوں۲؎چنانچہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا ان کے سوا کسی غائب شخص کا حصہ مقرر نہ کیا ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ -يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ- فَقَالَ: "إِنَّ عُثْمَانَ انْطَلَقَ فِي حَاجَةِ اللّٰهِ وَحَاجَةِ رَسُوْلِهٖ وَإِنِّي أُبَايعُ لَهٗ" فَضَرَبَ لَهٗ رسولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ وَلَمْ يَضْرِبْ بِشَيْءٍ لِأَحَدٍ غَابَ غَيْرُهٗ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4031 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم غنیمت کی تقسیم میں دس بکریاں ایک اونٹ کے مقابل میں فرماتے تھے۲؎(نسائی)

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلُ فِي قَسْمِ الْمَغَانِمِ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيْرٍ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4032 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نبیوں میں سے ایک نبی نے جہاد کیا ۱؎تو اپنی قوم سے فرمایا کہ میرے ساتھ وہ شخص نہ جائے جوکسی عورت کے بضع کا مالک ہو اور رخصتی کرنا چاہتا ہے ابھی تک کی نہیں ہے ۲؎اور نہ وہ جائے جس نے مکانات بنائے ہیں اور ان کی چھتیں تیار نہ کی ہیں۳؎اور نہ وہ شخص جائے جس نے بکری یا حاملہ اونٹنیاں خریدیں اور وہ ان کے بیاہنے کا منتظر ہے۴؎چنانچہ انہوں نے جہاد کیا تو بستی سے نماز عصر یا اس کے قریب ہوئے تو انہوں نے سورج سے فرمایا کہ تو بھی حکم کے ماتحت ہے اور میں بھی الٰہی اسے ہم پر روک دے ۵؎چنانچہ سورج روک دیا گیا حتی کہنے انہیں فتح دی ۶؎پھر غنیمتیں جمع فرمائیں تو وہ یعنی آگ کھانے کے لیے آئی مگر انہیں کھایا نہیں ۷؎فرمایا کہ ضرور تم میں خیانت ہے ۸؎ہر قبیلہ سے ایک ایک شخص مجھ سے بیعت کرے چنانچہ ایک آدمی کا ہاتھ ان ہی سے چمٹ گیا تو فرمایا تم لوگوں میں خیانت ہے ۹؎پھر وہ سونے کا سر لائے جو گائے کے سر کی طرح تھا۱۰؎اسے رکھ دیا پھر آگ آئی اسے کھالیا ۱۱؎مسلم کی روایت میں ہے یہ زیادتی کی کہ ہم سے پہلے کسی کے لیے غنیمتیں حلال نہ ہوئیں پھرنے ہمارے لیے غنیمتیں حلال کردیں ہماری کمزوری ہماری عاجزی دیکھی تو انہیں ہمارے لیے حلال فرمایا ۱۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهٖ: لَا يَتَّبِعْنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا، وَلَا أَحَدٌ بَنَى بُيُوْتًا وَلَمْ يَرْفَعْ سُقُوْفَهَا، وَلَا رَجُلٌ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلَادَهَا، فَغَزَا فَدَنًا مِنَ الْقَرْيَةِ صَلَاةَ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذٰلِكَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: إِنَّكِ مَأْمُوْرَةٌ وَأَنَا مَأْمُوْرٌ، اَللّٰهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا، فَحُبِسَتْ حَتّٰى فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْغَنَائِمَ فَجَاءَتْ -يَعْنِي النَّارَ- لِتَأْكُلَهَا فَلَمْ تَطْعَمْهَا فَقَالَ: إِنَّ فِيكُمْ غُلُوْلًا، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهٖ فَقَالَ: فِيكُمُ الغُلُوْلُ فَجَاؤوا بِرَأْسٍ مِثْلِ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنَ الذَّهَبِ فَوَضَعَهَا، فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهَا". زَادَ فِي رِوَايَةٍ: "فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ قَبْلَنَا، ثُمَّ أَحَلَّ اللّٰهُ لَنَا الْغَنَائِمَ، رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4033 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھے خبردی کہ جب خیبر کا دن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کی ایک جماعت آئی وہ بولے فلاں اور فلاں شہید ہے حتی کہ ایک شخص پر گزرے تو بولے فلاں شہید ہے ۱؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے آگ میں دیکھا ہے۲؎ایک چادریا ایک عبا کی وجہ سے۳؎پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے عمر ابن خطاب جاؤ لوگوں میں تین بار اعلان کردو کہ جنت میں نہ جائیں گے مگر مؤمن چنانچہ میں نکلا اور میں نے اعلان کیا کہ جنت میں نہ جائیں گے مگر مؤمن لوگ تین بار۴؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمَ خَيبَرَ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، وَفُلَانٌ شَهِيدٌ، حتّٰى مَرُّوْا عَلٰى رَجُلٍ فَقَالُوْا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهٗ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ"، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا ابْنَ الْخَطَّابِ! اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ: أَنَّهٗ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُوْنَ ثَلَاثًا" قَالَ: فَخَرَجْتُ فَنَادَيتُ: أَلَا إِنَّهٗ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُوْنَ، ثَلَاثًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4034 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان