باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہم سے پہلے کسی کے لیے غنیمتیں حلال نہ ہوئیں ۱؎یہ اس لیے ہے کہنے ہماری کمزوری ہماری عاجزی دیکھی تو اس نے ہمارے لیے یہ حلال فرمادیں۲؎

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا، ذٰلِكَ بِأَنَّ اللّٰهَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3985 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حنین کے سال گئے ۱؎تو جب ہم ملے تو مسلمانوں میں بے چینی ہوگئی میں نے مشرکین کے ایک شخص کو دیکھا ۲؎کہ وہ مسلمانوں میں سے ایک مسلمان پر غالب آگیا ۳؎تو میں نے اس کے پیچھے سے اس کی گردن کی رگ پر تلوار ماری ۴؎تو میں نے زرہ کاٹ دی وہ مجھ پر متوجہ ہوگیا مجھے خوب لپٹ گیا میں نے اس سے موت کی بو پالی ۵؎پھر اسے موت نے پالیا تب اس نے مجھے چھوڑ دیا میں حضرت عمر ابن خطاب سے ملا میں نے کہا لوگوں کا کیا حال ہوگیا ہے فرمایاکا حکم ۶؎پھر غازی لوٹ پڑے ۷؎اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف فرما ہوئے تو فرمایا کہ جس نے کسی مقتول کو قتل کیا ہو جس کی گواہی اس کے پاس ہو تو اس کا سامان قاتل ہی کا ہے ۸؎تو میں بولا کہ میری گواہی کون دے گا پھر میں بیٹھ گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی طرح فرمایا میں نے پھر کہا کہ میری گواہی کون دیتا ہے پھر میں بیٹھ گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی طرح فرمایا میں پھر کھڑا ہوا ۹؎تو فرمایا اے ابو قتادہ تمہارا کیا حال ہے چنانچہ میں نے حضور کو خبر دی تو ایک شخص بولا حضور یہ سچے ہیں اور اس کافر کا سامان میرے پاس ہے حضور انہیں میرے متعلق راضی فرمائیں ۱۰؎ابوبکر صدیق نے فرمایاکی قسم تب تو حضور (ّصلی اللہ علیہ و سلم)کے شیروں میں سے ایک شیر کی طرف یہ قصد بھی نہ کریں گے کہ جورسول کی طرف جہاد کرے تجھے اس کا سامان دے دیں ۱۱؎تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ سچے ہیں اسے سامان دے دو چنانچہ اس نے وہ مجھے دے دیا تو میں نے اس کا ایک باغ بنی سلمہ میں خریدا ۱۲؎یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں جمع کیا۔(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَضَرَبْتُهٗ مِنْ وَرَائِهٖ عَلٰى حَبْلِ عَاتِقِهٖ بِالسَّيْفِ، فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللّٰهِ، ثُمَّ رَجَعُوْا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهٗ عَلَيْهِ بَيِّنةٌ فَلَهٗ سَلَبُهٗ" فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهٗ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهٗ فَقُمْتُ فَقَالَ: "مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟ " فَأَخْبَرْتُهٗ فَقَالَ رَجُلٌ: صَدَقَ وَسَلَبُهٗ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنِّي، فَقَالَ أَبُوْ بَكْرٍ: لَا هَا اللّٰهِ، إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللّٰهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهٗ. فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "صَدَقَ فَأَعْطِهِ" فَأَعْطَانِيهِ، فَابْتَعْتُ بِهٖ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَإِنَّهٗ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهٗ فِي الإِسْلَامِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3986 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے مرد کو اور اس کے گھوڑے کو تین حصے دیئے ایک حصہ اسے اور دو حصے اس کے گھوڑے کو ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْهَمَ لِلرَّجُلِ وَلِفَرَسِهٖ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ؛ سَهْمًا لَهٗ وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3987 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت یزید ابن ہرمز سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نجدہ حروری نے ۲؎حضرت ابن عباس کو خط لکھا وہ آپ سے اس غلام و عورت کے متعلق پوچھتا تھا جو غنیمت میں حاضر ہوں کہ کیا انہیں حصہ دیاجائے تو آپ نے یزید سے فرمایا کہ اسے لکھ دو کہ ان کے لئے حصہ نہیں مگر یہ کہ کچھ دے دیاجائے ۳؎اور ایک روایت میں ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے لکھا کہ تو نےلکھ کر مجھے پوچھا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے ساتھ غزوہ فرماتے تھے اور کیا ان کے لیے حصہ مقرر فرماتے تھے تو یقینًا حضور انور ان کے ساتھ غزوہ کرتے تھے یہ بیماریوں کا علاج کرتی تھیں اور غنیمت سے کچھ دے دی جاتی تھیں لیکن حصہ ان کے لئے مقرر نہ تھا ۴؎(مسلم)

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُوْرِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسأَلُهٗ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقسَمُ لَهُمَا؟ فَقَالَ لِيَزِيدَ: اكْتُبْ إِلَيْهِ أَنَّهٗ لَيْسَ لَهُمَا سَهْمٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا. وَفِي رِوَايَةٍ: كَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَّكَ كَتَبْتَ تَسأَلُنِي: هَلْ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُوْ بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ فَقَدْ كَانَ يَغْزُوْ بِهِنَّ يُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا السَّهْمُ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3988 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سواری اپنے غلام رباح کے ساتھ بھیجی اور میں ان کے ساتھ تھا۲؎تو جب ہم نے سویرا کیا تو اچانک عبدالرحمان فزاری نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی سواری پر حملہ کردیا ۳؎تو میں ایک ٹیلہ پر کھڑا ہوا ۴؎پھر مدینہ کی طرف منہ کیا اور ندا دی یا صباحاہ پھر میں اس قوم کے پیچھے چل پڑا ان پر تیر اندازی کرتا تھا ۵؎اور یہ گیت شجاعت کہتا تھا ۶؎کہ میں اکوع کا بیٹا ہوں،آج دودھ چھوٹنے کا دن ہے۷؎تو میں تیر مارتا رہا ان کے جانور کاٹتا رہا ۸؎حتی کہنے حضور کی سواریوں میں سے کوئی اونٹ پیدا نہ فرمایا تھا مگر میں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھےکر لیا ۹؎پھر میں تیر مارتا ہوا ان کے پیچھے چلا حتی کہ وہ لوگ تیس چادروں سے زیادہ اور تیس نیزے پھینک گئے ۱۰؎ہلکا ہونے کے لیے اور وہ نہیں پھینکتے تھے ۱۱؎کوئی چیز مگر میں اس پر پتھروں کی نشانیاں رکھ دیتا تھا ۱۲؎جسے رسولصلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ پہچان لیں۱۳؎حتی کہ میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی سوار فوج دیکھ لی اور ابو قتادہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار عبدالرحمن پر جا پڑے اسے قتل کردیا۱۴؎رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آج ہمارے بہترین سواروں میں بہترین سوار ابوقتادہ ہیں اورپیادوں میں بہترین ۱۵؎سلمہ ہیں پھر مجھے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے دو حصے عطا فرمائے ایک حصہ سوار کا اور ایک حصہ پیادے کا یہ دونوں حصے میرے لیے جمع فرمادیئے ۱۶؎پھر مجھے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پیچھے عضباء پر سوار فرمایا ۱۷؎مدینہ منورہ لوٹتے ہوئے ۱۸؎(مسلم)

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِهٖ مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلٰى ظَهْرِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَقُمْتُ عَلٰى أَكَمَةٍ، فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَاديتُ ثَلَاثًا: يَا صَبَاحَاهْ، ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ، أَرْتَجِزُ وَأَقُوْلُ:
أنَا ابْنُ الأَكْوَعْ واليَومُ يَوْمُ الرُّضَّعْ فَمَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ، وَأَعْقِرُ بِهِمْ حتّٰى مَا خلَقَ اللّٰهُ مِنْ بَعِيرٍ مِنْ ظَهْرِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا خَلَّفْتُهٗ وَرَاءَ ظَهْرِي، ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ، حَتَّى ألقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةٍ وَثَلَاثِينَ رُمْحًا، يَسْتَخِفُّوْنَ وَلَا يَطْرَحُوْنَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِنَ الْحِجَارَةِ، يَعْرِفُهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهٗ، حتّٰى رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، وَلَحِقَ أَبُوْ قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهٗ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُوْ قَتَادَةَ، وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ" قَالَ: ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَيْنِ: سَهْمَ الْفَارِسِ وَسَهْمَ الرَّاجِلِ، فَجَمَعَهُمَا إِلَيَّ جَمِيعًا، ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهٗ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعَيْنِ إِلَى الْمَدِينَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3989 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم کچھ زیادہ عطا فرماتے تھے بعض بھیجے ہوئے لشکروں کو ان کی خاص ذات کے لیے سوا لشکر کے عام حصے کے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَى قِسْمَةِ عَامَّةِ الْجَيْشِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3990 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ہم کو ہمارے حصہ کے علاوہ خمس سے بطور نفل عطا فرمایا ۱؎تو مجھے الگ شارف اونٹنی ملی اور شارف بڑی عمر رسیدہ اونٹنی ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: نفَّلَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَلًا سِوَى نَصِيبِنَا مِنَ الْخُمُسِ، فَأَصَابَنِي شَارِفٌ، وَالشَّارِفُ: الْمُسِنُّ الْكَبِيرُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ .

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3991 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میرا گھوڑا بھاگ گیا تو اسے دشمن نے پکڑ لیا پھر ان پر مسلمان غالب آگئے تو وہ گھوڑا حضور ہی کے زمانہ میں انہیں لوٹا دیا گیا ۱؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ان کا غلام بھاگ کر روم سے مل گیا پھر ان پر مسلمان غالب آ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد خالد ابن ولید نے ان پر لوٹا دیا ۲؎(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: ذَهَبَتْ فَرَسٌ لَهٗ فَأَخَذَهَا الْعَدُوُّ، فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُوْنَ فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي رِوَايَةٍ: أَبَقَ عَبْدٌ لَهٗ فَلَحِقَ بِالرُّوْمِ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُوْنَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3992 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں اور عثمان ابن عفان نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے عرض کیا کہ حضور آپ نے خیبر کے خمس سے بنی مطلب کو توڑ دیا ۲؎اور ہم کو چھوڑ دیا حالانکہ ہم لوگ آپ سے ایک ہی درجہ (رشتہ) میں ہیں تو فرمایا کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی شے ہیں ۳؎حضرت جبیر کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی عبدشمس اور بنی نوفل کو کچھ نہ دیا ۴؎(بخاری)

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، وَتَرَكْتَنَا، وَنَحْنُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْكَ؟ فَقَالَ: "إِنَّمَا بَنُوْ هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ". قَالَ جُبَيْرٌ: وَلَمْ يَقْسِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَبَنِي نوفلٍ شَيْئًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3993 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس بستی میں تم پہنچو اور اس میں تم قیام کرو تو اس میں تمہارا حصہ ہے ۱؎اور جو بستیرسول کی نافرمانی کرے تو اس کا پانچواں حصہرسول کا ہے پھر بقیہ تمہارا ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيَّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوْهَا وَأَقَمْتُمْ فِيهَا، فَسَهْمُكُمْ فِيهَا، وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَإِنَّ خُمُسَهَا للّٰهِ وَلِرَسُوْلِهٖ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3994 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے خولہ انصاریہ سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ کچھ لوگکے مال میں ناحق گھس پڑتے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے ۲؎(بخاری)

وَعَنْ خَوْلَةَ الأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "إِنَّ رِجَالًا يتَخَوَّضُوْنَ فِي مَالِ اللّٰهِ بِغَيْرِ حَقٍّ فَلَهُمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3995 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک دن ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے ہوئے تو خیانت کا ذکر فرمایا ۱؎تو اسے اور اس کے معاملہ کو بڑا گناہ بتایا پھر فرمایا کہ میں تم میں سےکسی کو نہ پاؤں کہ قیامت کے دن یوں آئے کہ اس کی گردن پر اونٹ ہو بلبلاتا،عرض کرے یارسولمیری مدد فرماؤ ۲؎میں کہہ دوں کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں میں تجھے تبلیغ کرچکا۳؎میں تم میں سے کسی کو یوں نہ پاؤں کہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر گھوڑا ہو ہنہناتا ۴؎پھر کہے یا رسول اللہ( صلی اللہ علیہ و سلم )میری مدد فرماؤ میں کہہ دوں کہ تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں میں تجھ کو تبلیغ کرچکا ۵؎میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں یوں کہ وہ قیامت میں اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر بکری ہو جس کی ممیاہٹ ہو ۶؎عرض کرے یا رسولمیری مدد فرماؤ میں فرما دوں کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں میں تو تجھے تبلیغ کرچکا میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر غلام ہوں جس کی چیخ ہو ۷؎کہے یارسولمیری مدد فرمایئے تو میں کہہ دوں کہ میں تیرے لیےکسی چیز کا مالک نہیں میں تم کو تبلیغ کرچکا ہوں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر کپڑے ہوں چر چر کرتے ۸؎تو وہ کہے یارسولمیری مددکرو میں کہہ دوں میں تیرے لے کسی چیز کا مالک نہیں میں تجھے تبلیغ کرچکا اور میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ قیامت کے دن اس طرح آوے کہ اس کی گردن پر سونا چاندی ہو ۹؎وہ کہے یارسولمیری مدد فرماؤ میں کہہ دوں کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے تبلیغ کر چکا۔(مسلم،بخاری) اور یہ لفظ مسلم کے ہیں وہ بہت مکمل ہیں۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَذَكَرَ الْغُلُوْلَ، فَعَظَّمَهٗ وَعَظَّمَ أَمْرَهٗ، ثُمَّ قَالَ: "لَا أُلفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلٰى رَقَبَتِهٖ بَعِيرٌ لَهٗ رُغَاءٌ، يَقُوْلُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَغِثْنِي، فَأَقُوْلُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلٰى رَقَبَتِهٖ فَرَسٌ لَهٗ حَمْحَمَةٌ، فَيَقُوْلُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَغِثْنِي، فَأَقُوْلُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلٰى رَقَبَتِهٖ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ، يَقُوْلُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَغِثْنِي، فَأَقُوْلُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدُكُمْ يجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلٰى رَقَبَتِهٖ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ، فَيَقُوْلُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَغِثْنِي، فَأَقُوْلُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلٰى رَقَبَتِهٖ رِقَاعٌ تَخْفُقُ، فَيَقُوْلُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَغِثْنِي، فَأَقُوْلُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ. ۔۔لَا أُلفِيَنَّ أَحَدُكُمْ يَجيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلٰى رَقَبَتِهٖ صَامِتٌ، فَيَقُوْلُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَغِثْنِي، فَأَقُوْلُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ. وَهٰذَا لَفُظُ مُسْلِمٍ وَهُوَ أَتَمُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3996 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک غلام پیش کیا جسے مدعم کہا جاتا تھا ۱؎تو اس حالت میں کہ مدعم رسولصلی اللہ علیہ و سلم کا سامان اتار رہا تھا کہ اسے غائبانہ ۲؎تیر لگا جس نے اسے قتل کردیا تو لوگ بولے مبارک ہو اسے جنت ۳؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہرگز نہیں اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ چادر جو اس نے خیبر کے دن غنیمت میں سے تقسیم ہونے سے پہلے لے لی تھی وہ اس پر آگ بھڑکا رہی ہے۴؎جب لوگوں نے یہ سنا تو ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک یا دو تسمے لایا تو فرمایا کہ یہ تسمہ آگ کا ہے دو تسمے آگ کے ہیں ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: أَهْدَى رَجُلٌ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا يُقَالُ لَهٗ: مِدْعَمٌ، فَبَيْنَمَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلًا لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَصَابَهٗ سَهْمٌ عَائِرٌ فَقَتَلَهٗ، فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَلَّا وَالَّذِي نَفسِي بِيَدِهٖ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا". فَلَمَّا سَمِعَ ذٰلِكَ النَّاسُ جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3997 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامان پر ایک شخص تھا جسے کرکرہ کہا جاتا تھا ۱؎وہ مرگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ آگ میں ہے تو لوگ تلاش کرنے لگے ایک کمبل پایا جس کی اس نے خیانت کرلی تھی ۲؎(بخاری)

وَعَنْ عَبدِ اللّٰهِ بنِ عَمْروٍ قَالَ: كَانَ عَلٰى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهٗ:كَرْكَرَةُ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هُوَ فِي النَّارِ" فَذَهَبُوْا يَنْظُرُوْنَ فَوَجَدُوْا عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3998 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ اپنے جہاد میں شہد انگور پاتے تھے تو کھالیتے تھے اور اسے پیش نہ کرتے تھے ۱؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نُصِيبُ فِي مَغَازِينَا الْعَسَلَ وَالْعِنَبَ فَنَأْكُلُهٗ وَلَا نَرْفَعُهٗ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3999 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت عبدابن مغفل سے ۱؎فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن میں نے ایک چربی کا تھیلا پایا تو میں اسے لپٹ گیا میں نے کہا کہ آج میں اس میں سے کسی کو کچھ نہ دوں گا ۲؎پھر میں نے ادھر ادھر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میری طرف مسکرا رہے تھے ۳؎(مسلم،بخاری) حضرت ابوہریرہ کی حدیثما اعطیکمالخ حکام کی روزی کے باب میں ذکر کردی گئی۴؎

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: أَصَبْتُ جِرَابًا مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَالْتَزَمْتُهٗ، فَقُلْتُ: لَا أُعْطِي الْيَوْمَ أَحَدًا مِنْ هٰذَا شَيْئًا، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ إِلَيَّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: "مَا أُعْطِيكُمْ" فِي "بَابِ رِزْقِ الْوُلَاة".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4000 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہنے مجھے تمام نبیوں پر بزرگی دی ۱؎یا فرمایا کہ میری امت تمام امتوں پر بزرگی دی گئی ۲؎اور ہمارے لیے غنیمتیں حلال فرمادیں۳؎(ترمذی)

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ فَضَّلَنِي عَلَى الأَنْبِياءِ -أَوْ قَالَ: فَضَّلَ أُمَّتِي عَلَى الأُمَمِ- وَأَحَلَّ لَنَا الْغَنَائِمَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4001 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یعنی حنین کے دن فرمایا کہ جو کسی کافر کو قتل کرے تو اس کافر کا سامان اسی کا ہوگا ۱؎چنانچہ اس دن ابو طلحہ نے بیس آدمی مارےاورانکے سامان لئے ۲؎(دارمی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمئِذٍ -يَعْنِي يَوْمَ حُنَيْنٍ-: "مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهٗ سَلَبُهٗ"، فَقَتَلَ أَبُوْ طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ. رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4002 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک اشجعی ۱؎اور خالد ابن ولید سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مقتول کے سامان کا فیصلہ قاتل کے لیے کیا اور اس سامان سے خمس نہ لیا ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي السَّلَبِ لِلْقَاتِلِ. وَلَمْ يُخَمِّسِ السَّلَبَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4003 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت عبدابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن ابوجہل کی تلوار عطا فرمائی اور اسے انہی نے قتل کیا تھا ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: نفَّلَنِي رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ سَيْفَ أَبِي جَهْلٍ. وَكَانَ قَتَلَهٗ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4004 ، باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان