- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- باب: میراث کے حصّے
باب: میراث کے حصّے
تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا میں مسلمانوں کا ان کی جانوں سے زیادہ والی ہوں ۱؎جو مرجائے اور اس پر قرض ہو جس کی ادا کا ذریعہ نہ چھوڑے اس کی ادائیگی مجھ پر ہے ۲؎اورجو مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۳؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جو قرض یا بال بچے چھوڑے تو میرے پاس آئے ۴؎تو میں اس کا والی ہوں ایک روایت میں یوں ہے کہ جو مال چھوڑے تو اس کے وارثوں کا ہے اور جو بوجھ چھوڑ دے وہ ہمارے ذمہ ہے ۵؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا أَوْلٰى بِالمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَمْ يَتْرُكْ وَفَاءً فَعَلَيَّ قَضَاؤُهٗ . وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهٖ ».وَفِي رِوَايَةٍ: "مَنْ تَرَكَ دَيْنًاأَو ضِيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ».وَفِي رِوَايَةٍ: «مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهٖ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3041 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ مقرر شدہ میراثی حصے ان کے حقداروں کو دو پھرجو بچ رہے وہ قریب ترین مرد کو دو ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلٰى رَجُلٍ ذَكَرٍ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3042 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ نہ مسلمان کافر کا وارث نہ کافر مسلمان کا ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3043 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا قوم کا آزاد کردہ غلام ان ہی سے ہے ۱؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3044 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ قوم کا بھانجہ ان ہی سے ہے ۱؎(مسلم،بخاری)اور حضرت عائشہ کی حدیث "انما الولاء"باب السلمسے پہلے والے باب میں ذکر کردی گئی اور حضرت براء کی حدیث کہ خالہ ماں کے درجے میں ہےان شاءاللّٰهبچے کے بلوغ اور ان کی پرورش کے باب میں ذکر کی جائے گی ۲؎
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اِبْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَذُكِرَ حَدِيثُ عَائِشَةَ: «إِنَّمَا الْوَلَاءُ» فِي بَابٍ قَبْلَ "بَابِ السَّلَمِ"،وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ الْبَرَاءِ: "الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الأُمِّ" فِي "بَابِ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهٖ" إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3045 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ دو مختلف دین والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ )
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتّٰى.رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3046 ، باب: میراث کے حصّے
اور ترمذی نے حضرت جابر سے روایت کی
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ جَابِرٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3047 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ قاتل وارث نہیں ہوتا ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3048 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دادی کے لیے چھٹا حصہ مقرر فرمایا جب کہ اس کے اوپر ماں موجود نہ ہو ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لِلْجَدَّةِ السُّدُسَ إِذَا لَمْ تَكُنْ دُوْنَهَا أُمٌّ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3049 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب بچہ چیخے تو اس پر نماز پڑھی جائے اور اسے وارث بنایا جائے گا ۱؎(ابن ماجہ،دارمی)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِّثَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه والدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3050 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت کثیر ابن عبداللّٰهسے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے قوم کا آزاد کردہ غلام ان ہی میں سے ہے اور قوم کا حلیف ان ہی میں سے ہے ۲؎اور قوم کا بھانجہ ان ہی میں سے ہے ۳؎(دارمی)
وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ وَحَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3051 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت مقدام سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے میں ہر مسلمان کا اس کی جان سے زیادہ والی ہوں جو قرض یا بال بچے چھوڑے وہ ہماری سپرد ہے ۱؎اور جو مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۲؎میں اس کا والی ہوں جس کا کوئی والی نہیں میں اس کے مال کا وارث ہوں گا ۳؎اور اس کے قیدی کو چھوڑاؤں گا اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں کہ اس کے مال کا وارث ہوگا ۴؎اور اس کا قیدی چھوڑائے گا ۵؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں وارث ہوں اس کا جس کا کوئی وارث نہیں کہ اس کی دیت بھی دوں گا اور اس کا وارث بھی ہوں گا ۶؎اور ماموں وارث ہے اس کا جس کا کوئی وارث نہ ہو کہ اس کی دیت دے گا اور میراث لے گا۔(ابوداؤد)
وَعَنِ الْمِقْدَامِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوْلٰى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهٖ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيْنَا وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهٖ وَأَنَا مَوْلٰى مَنْ لَا مَوْلٰى لَهٗ أَرِثُ مَالَهٗ وَأَفُكُّ عَانَهٗ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهٗ يَرِثُ مَالَهٗ وَ يَفُكُّ عَانَهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهٗ أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهٗ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهٗ يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهٗ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3052 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک عورت تین میراثیں سمیٹتی ہے ۱؎اپنے آزاد کردہ غلام کی اپنے پڑے پائے بچہ کی اور اپنے اس بچے کی جس پر اس نے لعان کیا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ وَاثِلَةَبْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَحُوزُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3053 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص آزاد عورت یا لونڈی سے زناکرے تو بچہ حرام کا ہے کہ نہ وہ اس کا وارث ہو اور نہ یہ اس کا وارث ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ عَاهَرَ بِحُرَّةٍ أَوْ أَمَةٍ فَالْوَلَدُ وَلَدُ زِنًا، لَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3054 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کا ایک غلام فوت ہوگیا اس نے کچھ مال چھوڑا ۱؎اور نہ کوئی قرابت دار چھوڑا نہ اولاد تب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کی میراث اس کے کسی بستی والے کو دے دو ۲؎(ابوداؤد،ترمذی)
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ مَوْلًى لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ حَمِيمًا وَلَا وَلَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطُوا مِيرَاثَهٗ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهٖ » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3055 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ بنی خزاعہ ۱؎کا ایک شخص فوت ہوگیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں اس کی میراث لائی گئی تو فرمایا اس کا کوئی وارث یا ذی رحم ڈھونڈو تو نہ اس کا کوئی وارث پایا اور نہ ذی رحم ۲؎تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ میراث خزاعہ کے کسی قریبی کو دے دو ۳؎(ابو داؤد)اور اس کی ایک روایت میں یوں ہے فرمایا خزاعہ کے کسی بڑے آدمی کو دیکھو ۴؎
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهٖ فَقَالَ: الْتَمِسُوا لَهٗ وَارِثًا أَوْ ذَا رَحِمٍ فَلَمْ يَجِدُوا لَهٗ وَارِثًا وَلَا ذَا رَحِمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطُوا الْكُبْرَ مِنْ خُزَاعَةَ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ: قَالَ: انْظُرُوا أَكْبَرَ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3056 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت علی سے فرمایا تم یہ آیت پڑھتے ہو کہ تمہاری کی ہوئی وصیت کے یا قرض کے بعد،حالانکہ رسولاللّٰهصلى الله عليه وسلم نے قرض کا وصیت سے پہلے حکم دیا ہے ۱؎اور حکم دیا ہے کہ ماں والی اولاد وارث ہوگی نہ کہ علاتی اولاد ۲؎آدمی اپنے حقیقی بھائی کا وارث ہوگا نہ کہ علاتی بھائی گا۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور دارمی کی روایت میں یوں ہے کہ ماں جائے بھائی بہن آپس میں وارث ہوں گے نہ کہ علاتی بھائی،الخ ۴؎
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هَذِهِ الآيَةَ: {مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ} رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضٰى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ الرَّجُلُ يَرِثُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهٖ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيُّ: قَالَ: «الْإِخْوَةُ مِنَ الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ. . .» إِلٰى آخِرِهٖ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3057 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ سعد ابن ربیع کی بیوی اپنی دو لڑکیاں جو سعد ابن ربیع سے تھیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائیں ۱؎بولیں یا رسولاللّٰهسعد ابن ربیع کی لڑکیاں ہیں جن کے باپ آپ کے ساتھ احد کے دن شہید ہوکر قتل کردیئے گئے اور انکے چچا نے ان کا مال لے لیا ۲؎کہ ان کے لیے کچھ مال نہ چھوڑا اور بغیر مال ان کا نکاح نہیں کیا جاسکتا ہے ۳؎حضور نے فرمایااللّٰهاس بارے میں فیصلہ فرمائے گا ۴؎تب میراث کی آیت نازل ہوئی ۵؎تب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان لڑکیوں کے چچا کو بلا بھیجا فرمایا سعد کی بیٹیوں کو دو تہائی دے دو اور ان بچیوں کی ماں کو آٹھواں حصہ جو باقی بچے وہ تمہارا ۶؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا وَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا وَلَا تُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ قَالَ: «يَقْضِي اللّٰهُ فِي ذٰلِكَ» فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَبَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى عَمِّهِمَا فَقَالَ: «أَعْطِ لِابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غريبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3058 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت ہزیل ابن شرحبیل سے فرماتے ہیں کہ جناب ابو موسیٰ سے ایک بیٹی پوتی اور بہن کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا بیٹی کا آدھا اور بہن کا آدھا ہے ۱؎اور تم حضرت ابن مسعود کے پاس جاؤ وہ بھی ہماری ہی مطابقت کریں گے۲؎چنانچہ حضرت ابن مسعود سے مسئلہ پوچھا گیا اور حضرت موسیٰ کی بات کی خبر دی گئی وہ بولے تب تو بہک جاؤں گا اور راہ پانے والوں سے نہ ہوں گا ۳؎میں تو اس میں وہ فیصلہ کروں گاجو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کیا تھا،بیٹی کا آدھا ہے اور پوتی کا چھٹا حصہ دو تہائی پوری کرنے والے کو اور جو باقی بچے وہ بہن کا ۴؎پھر ہم ابو موسیٰ کے پاس آئے تو ہم نے انہیں حضرت ابن مسعود کے فیصلہ کی خبر دی تو آپ بولے جب تک یہ علّامہ تم میں رہے مجھ سے نہ پوچھو ۵؎(بخاری)
وَعَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: سُئِلَ أَبُو مُوسٰى عَنِ ابْنَةٍ وَبِنْتِ ابْنٍ وَأُخْتٍ فَقَالَ: لِلْبِنْتِ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ، وَائْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنِي فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَأُخْبِرَ بِقَوْلِ أَبِي مُوسٰى، فَقَالَ: لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذَنْ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْبِنْتِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةً لِلثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ» فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسٰى فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هٰذَا الْحِبْرُ فِيكُمْ.رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3059 ، باب: میراث کے حصّے
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں ایک شخص رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا میرا بیٹا مرگیا ہے تو اس کی میراث میں میرا کتنا ہے ۱؎فرمایا تیرا چھٹا حصہ ہے جب اس نے پیٹھ پھیری تو اسے بلایا فرمایا تیرے لیے دوسرا چھٹا بھی ہے ۲؎پھر جب پیٹھ پھیری تو اسے بلایا فرمایا دوسرا چھٹا عصبۃً ہے۳؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِن ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهٖ ؟ قَالَ: «لَكَ السُّدُسُ» فَلَمَّا وَلّٰى دَعَاهُ قَالَ: «لَكَ سُدُسٌ آخَرُ» فَلَمَّا وَلّٰى دَعَاهُ قَالَ: «إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3060 ، باب: میراث کے حصّے
- 1
- 2