- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس کتاب میں ہے کچھ اور نہ لکھا ۱؎فرمایا کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم فرماتے ہیں مدینہ منورہ عیر سے ثور تک کے درمیان حرم ہے ۲؎تو جو اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اللّٰه کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۳؎اس کے نہ فرائض قبول ہوں نہ نفل ۴؎مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے کہ ان کا ادنی آدمی بھی کوشش کرسکتا ہے ۵؎جوکسی مسلمان کی عہد شکنی کرے اس پر اللّٰہ،فرشتوں اور سارے انسانوں کی لعنت ہے نہ اس کے فرض قبول نہ نفل ۶؎جو اپنے کو اپنے دوستوں کی بغیر اجازت کسی قوم سے عقد دوستی باندھے اس پر اللّٰه کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ اس کے فرض قبول ہوں نہ نفل ۷؎(مسلم، بخاری)انہی کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ جو اپنے کو ا پنے غیر باپ کی طرف منسوب کرے ۸؎یا اپنے غیرمولاؤں سے ولاءکرے تو اس پر اللّٰه کی،فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ اس کے فرض قبول ہوں اور نہ نفل ۹؎
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هٰذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلٰى ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيْهَا حَدَثًا أَوْ آوٰى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَ يَسْعٰى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالٰى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: «مَنِ ادَّعٰى إِلٰى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلّٰى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ »
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2728 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ میں مدینہ کے دو کناروں کے درمیان یہاں سے کانٹے کاٹنا یا یہاں کا شکار قتل کرنا حرام کرتا ہوں ۱؎فرمایا مدینہ مسلمانوں کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے ۲؎ایسا کوئی نہیں جو مدینہ سے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑے مگر اللّٰه اس مدینہ میں اس کو اچھا رہنے والا بسائے گا۳؎اور کوئی شخص مدینہ کی سختی اور بھوک پر صبر نہ کرے گا مگر میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا ۴؎(مسلم)
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ: أَنْ يُقْطَعَ عَضَاهُهَا أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا " وَقَالَ: «الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانوُا يَعْلَمُونَ لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللّٰهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلٰى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهٗ شَفِيعًا أَو شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2729 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرا کوئی امتی مدینہ کی سختیوں اور تکلیف پر صبر نہ کرے گا مگر میں قیامت کے دن اس کا شفیع ہوں گا ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَصْبِرُ عَلٰى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي إِلَّا كُنْتُ لَهٗ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2730 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ لوگ جب پہلا پھل دیکھتے تو اسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں لاتے تھے ۱؎جب حضور اسے لیتے تو فرماتے الٰہی ہمارے پھلوں میں ہمارے لیے برکت دے ہمارے مدینہ میں برکت دے ۲؎ہمارے صاع میں ہمارے مد میں ہمارے واسطے برکت دے ۳؎الٰہی ابراہیم تیرے بندے تیرے خلیل تیرے نبی ہیں اور میں تیرا بندہ تیرا نبی ہوں ۴؎انہوں نے مکہ کے لیے دعا کی ۵؎اور میں مدینہ کے لیے ویسی ہی دعا کرتا ہوں جیسی انہوں نے مکہ کے لیے دعا کی اور اتنی ہی اس کے ساتھ اور ۶؎فرمایا پھر کسی چھو ٹے بچے کو بلاتے اسے یہ پھل عطا فرمادیتے ۷؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرَةِ جَاءُوا بِهٖ إِلٰى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَخَذَهٗ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا اَللّٰهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنَّهٗ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَأَنَا أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَمِثْلَهٗ مَعَهٗ » . ثُمَّ قَالَ: يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهٗ فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2731 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت ابو سعید سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی آپ نے فرمایا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا ۱؎اسی کے لیے احرام بنایا ۲؎اور میں مدینہ کو حرم بناتا ہوں ۳؎اس کے گوشوں کے درمیان کو ۴؎کہ اس میں نہ خون بہایا جائے نہ اس میں جنگ کے لیے ہتھیار اٹھایا جائے ۵؎نہ بجز چارے کے یہاں کا درخت کاٹا جائے ۶؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَامًا وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ، وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلَفٍ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2732 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت عامر ابن سعد سے کہ جناب سعد اپنے ڈیرے کی طرف سوار ہوئے جو عقیق میں تھا تو ایک غلام کو درخت کاٹتے یا پتے جھاڑتے دیکھا ۱؎تو اس کے کپڑے چھین لیے جب حضرت سعد لوٹے تو ان کے پاس غلام والے لوگ آئے اور عرض کیا کہ ان کے غلام کو یا ان کو وہ سامان واپس کردیں جو ان کے غلام سے لیا ہے ۲؎تو آپ نے فرمایامعاذ اللّٰهکہ میں وہ چیز واپس کروں جو مجھے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے غنیمۃً عطا فرمائی ہے اور واپس کرنے سے انکار کردیا ۳؎(مسلم)
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعِدٍ: أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلٰى قَصْرِهٖ بِالعَقِيقِ فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهٗ فَسَلَبَهٗ فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهٗ أَهْلُ الْعَبْدِ فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلٰى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ فَقَالَ: مَعَاذَ اللّٰهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبٰى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2733 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر و بلال کو بخار آگیا ۱؎میں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے حضور انور کو یہ خبر دی تو فرمایا الٰہی مدینہ ہمیں ایسا پیارا کردے جیسے مکہ پیارا تھا یا اس سے بھی زیادہ اور اسے صحت بخش بنا دے اور اس کے صاع و مد میں ہمیں برکت دے اور یہاں کے بخار کو منتقل کرکے حجفہ میں بھیج دے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهٗ فَقَالَ: اَللّٰهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِيصَاعِهَا وَمُدِّهَاوَانْقُلْ حُمَّاهَافَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2734 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عمر سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خواب کے متعلق جو مدینہ کے بارے میں دیکھی ۱؎فرمایا میں نے ایک کالی بال بکھیرے عورت دیکھی کہ مدینہ سے نکلی حتی کہ مہیعہ ہی اتر گئی ۲؎ہم نے اس کی تعبیر یہ کی کہ مدینہ منورہ کی وباء مہیعہ کی طرف منتقل ہوگئی،مہیعہ حجفہ کا نام ہے ۳؎(بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ: " رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتّٰى نَزَلَتْ مَهْيَعَةَ فَتَأَوَّلْتُهَا: أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلٰى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2735 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت سفیان ابن ابی زہیر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عنقریب یمن فتح ہوگا تو ایک قوم دوڑتی ہوئی خوشی خوشی آئے گی ۱؎اور اپنے بال بچوں اور اپنے خدام کو وہاں لے جائے گی حالانکہ اگر وہ سمجھتے تو مدینہ ان کے لیے بہتر تھا ۲؎اور شام فتح ہوگا تو ایک قوم خوشی خوشی دوڑتی آئے گی تو گھر والوں اور خدام کو وہاں لے جائے گی حالانکہ ان کے لیے مدینہ اچھا تھا اگر وہ جانتے اور عراق فتح ہوگا ۳؎تو ایک قوم خوشی خوشی دوڑتی آئے گی اور اپنے بال بچوں اور خادموں کو لے جائے گی حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا اگر جانتے ۴؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَيُفْتَحُ الشِّامُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَيُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2736 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مجھے ایسی بستی کا حکم دیا گیا جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی ۱؎لوگ اسے یثرب کہیں گے حالانکہ وہ مدینہ ہے ۲؎لوگوں کو ایسے صاف کردے گی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو ۳؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرٰى. يَقُولُونَ: يَثْرَبَ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا تَنْفِي الْكِيرُ خُبْثَ الْحَدِيدِ " (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2737 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اللّٰه تعالٰی نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الله سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2738 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت جابر ابن عبداللّٰه سے کہ ایک بدوی نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے بیعت کی ۱؎پھر اسے مدینہ منورہ میں بخار آگیا ۲؎تو وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا یا محمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم میری بیعت فسخ فرمادیجئے ۳؎رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انکار کیا ۴؎وہ پھر حاضر ہوا بولا میری بیعت فسخ کردیجئے ۵؎حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انکار کیا وہ پھر آیا بولا میری بیعت فسخ فرمادیجئے حضور نے انکار کیا وہ بدوی آخر چلا گیا۶؎تب رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو لوہے کے میل کو دور کردیتی ہے اور اچھے کو خالص کرلیتی ہے ۷؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعَكٌ بِالمَدِينَةِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَهٗ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبٰى ثُمَّ جَاءَهٗ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبٰى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبْثَهَا وَیَنصَعُ طَيِّبَهَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2739 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ مدینہ منورہ برے لوگوں کو یوں نکال دے گا جیسے بھٹی لوہے کا میل نکال دیتی ہے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتّٰى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2740 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ مدینہ منورہ کے راستوں پر فرشتے ہیں یہاں نہ طاعون آسکتی ہے اور نہ دجّال ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلٰى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2741 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ ایسا کوئی شہر نہیں جسے دجّال روند نہ ڈالے سوائے مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے ۱؎اس کے راستوں میں سے ایسا کوئی راستہ نہیں جس میں صف بستہ فرشتے نہ ہوں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں ۲؎چنانچہ وہ زمین شور میں اترے گا پھر مدینہ اپنے باشندوں پر تین بار کانپے گا۳؎تو دجّال کی طرف ہر کافر و منافق نکل جائے گا۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَيَطَؤهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ، لَيْسَ نَقَبٌ مِنْ أَنِقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُونَهَا فَيَنْزِلُ السَّبْخَةَ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجْفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2742 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کوئی شخص مدینہ والوں سے فریب نہ کرے گا مگر وہ ایسے گھل جائے گا جیسے پانی میں نمک گھل جاتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَكِيدُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ إِلَّا انْمَاعَ كَمَا يَنْمَاعُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2743 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب سفر سے آتے اور مدینہ پاک کی دیواروں کو دیکھتے تو اپنی سواری کو تیز فرمادیتے اگر گھوڑے پر ہوتے تو اسے ایڑی لگاتے اس کی محبت کی وجہ سے ۱؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلى جُدُراتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهٗ وَإِنْ كَانَ عَلٰى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2744 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے سامنے احد چمکا ۱؎تو فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۲؎یقینًا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرم بنایا اور میں مدینہ کے گوشوں کے درمیان کو حرم بناتا ہوں ۳؎(بخاری، مسلم)
وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهٗ أُحُدٌ فَقَالَ: «هٰذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهٗ اَللّٰهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2745 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے احد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۱؎(بخاری)
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا ونُحِبُّهٗ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2746 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت سلیمان ابن ابی عبداللّٰه سے فرماتے ہیں میں نے سعد ابن ابی وقاص کو دیکھا کہ آپ نے اس شخص کو پکڑ لیا جو حرم مدینہ میں شکار کررہا ہے جسے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حرم بنایا ہے ۱؎تو آپ نے اس کے کپڑے اتارلیے پھر اس کے مالک آپ کے پاس آئے اور اس بارے میں آپ سے کلام کیا آپ نے فرمایا کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس حرم کو حرم قرار دیا اور فرمایا کہ جو یہاں کسی کو شکار کرتے ہوئے پکڑے تو اس کے کپڑے چھین لے لہذا وہ مال میں تم کو واپس نہ دوں گا جو مجھے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے عطا کیا لیکن اگر تم چاہو تو تمہیں اس کی قیمت دے دوں ۲؎(ابوداؤد)
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَبَهٗ ثِيَابَهٗ فَجَاءَهٗ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هٰذَا الْحَرَمَ وَقَالَ: «مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ» . فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلٰكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2747 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
- 1
- 2