- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت صالح سے جو سعد کے غلام ہیں ۱؎کہ حضرت سعد نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ منورہ کے درخت کاٹتے دیکھا تو آپ نے ان سب کا سامان چھین لیا۲؎اور ان کے مولاؤں سے فرمایا کہ میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو سنا۳؎کہ آپ مدینہ منورہ کے کسی درخت کے کاٹنے سے منع فرماتے تھے اور حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جو ان میں سے کچھ بھی کاٹے تو پکڑنے والے کے لیے ہے اس کا سامان۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْ صَالِحٍ مَوْلًى لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ وَقَالَ يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ينْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَيْءٌ وَقَالَ: مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهٗ سَلَبُهٗ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2748 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ مقام وجّ کا شکار اور وہاں کے درخت حرام ہیں ۱؎جنہیں اللّٰه نے حرام کیا(ابوداؤد)اور محی السنہ نے فرمایا کہ وج کے متعلق لوگ کہتے ہیں وہ طائف کے اطراف سے ہے اور خطابی نے بجائےانھاکےانہفرمایا ۲؎
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعَضَاهَهٗ حِرْمٌ مُحَرَّمٌ لِلّٰهِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَقَالَ مُحِيُّ السُّنَّةِ: «وَجٌّ» ذَكَرُوا أَنَّهَا مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِفِ وَقَالَ الْخَطَّابِيُّ: "أَنَّهٗ" بَدَلُ "أَنَّهَا"
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2749 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو مدینہ میں مرسکے وہ وہاں ہی مرے کیونکہ میں مدینہ میں مرنے والوں کی شفاعت کروں گا ۱؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد سے حسن بھی ہے،صحیح بھی ہے اور غریب بھی۲؎
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا، فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2750 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ اسلام کی بستیوں میں سے آخری بستی جو ویران ہوگی وہ مدینہ پاک ہے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آخِرُ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْإِسْلَامِ خَرَابًا الْمَدِينَةُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2751 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت جریر ابن عبداللّٰه سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اللّٰه تعالٰی نے مجھے وحی فرمائی ان تینوں بستیوں میں سے جہاں ۱؎بھی آپ قیام فرمائیں وہ ہی آپ کا مقام ہجرت ہے مدینہ منورہ یا بحرین یا قنسرین۲؎(ترمذی)
وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللّٰهَ أَوْحٰى إِلَيَّ: أَيَّ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ نَزَلْتَ فَهِيَ دَارُ هِجْرَتِكَ الْمَدِينَةِ أَوِ الْبَحْرَيْنِ أَوْ قِنَّسْرِينَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2752 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت ابوبکر ہ سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں مدینہ میں مسیح دجّال کا رعب نہ آ سکے اس دن مدینہ کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازہ پر دو فرشتے ۲؎(بخاری)
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلٰى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2753 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی آپ نے فرمایا الٰہی جو برکتیں تو نے مکہ مکرمہ میں دی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ منورہ میں دے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ بِالمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2754 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے اولاد خطاب کے ایک مرد سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جو قصدًا میری زیارت کرے وہ قیامت کے دن میری امان میں ہوگا ۱؎اور جو مدینہ منورہ میں رہے اور یہاں کی تکالیف پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کا شفیع اور گواہ ہوں گا ۲؎اور جو دونوں حرم سے کسی حرم میں مر جائے وہ قیامت کے دن امن والوں سے ہوگا۳؎
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ زَارَنِي مُتَعَمِّدًا كَانَ فِي جِوَارِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَكَنَ الْمَدِينَةَ وَصَبَرَ عَلٰى بَلَائِهَا كُنْتُ لَهٗ شَهِيدًا وَشَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بَعَثَهُ اللّٰهُ مِنَ الْآمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2755 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت ابن عمر سے مرفوعًا کہ جو میری وفات کے بعد حج کرے پھر میری قبر کی زیارت کرے ۱؎وہ اسی طرح ہوگا جو میری زندگی میں میری زیارت کرے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا: «مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2756 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت یحیی ابن سعید سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم تشریف فرما تھے اور مدینہ منورہ میں ایک قبر کھودی جارہی تھی ۱؎تو ایک شخص قبر میں جھانک کر بولا کہ یہ مؤمن کا بڑا برا ٹھکانہ ہے ۲؎تب رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے یہ غلط کہا ۳؎وہ صاحب بولے میری یہ نیت نہ تھی اللّٰه کی راہ میں شہادت میری مراد تھی ۴؎رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا (یہاں کا دفن)شہادت فی سبیل اللّٰه کے برابر بھی نہیں ۵؎زمین کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں مجھے اپنی قبر کا ہونا اس جگہ سے زیادہ پیارا ہو تین بار فرمایا ۶؎(مالک)مرسلًا ۷؎
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا وَقَبْرٌ يُحْفَرُ بِالمَدِينَةِ فَاطَّلَعَ رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ فَقَالَ: بِئْسَ مَضْجَعُ الْمُؤْمِنِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِئْسَمَا قُلْتَ» قَالَ الرَّجُلُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ هٰذَا إِنَّمَا أَرَدْتُ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا مِثْلَ الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ مَا عَلَى الأَرْضِ بُقْعَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَكُونَ قَبْرِي بِهَا مِنْهَا» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2757 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا حضرت عمر ابن خطاب نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا جب کہ آپ عقیق کے میدان میں تھے ۱؎کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کوئی آنے والا آیا اس نے کہا کہ آپ اس مبارک جنگل میں نماز پڑھیں اور فرمائیں عمرہ حج میں ہے ۲؎ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایئے عمرہ اور حج۔(بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْعَقِيقِ يَقُولُ: أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي فَقَالَ: صَلِّ فِي هٰذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ ". وَفِي رِوَايَةٍ: "وَقُلْ عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2758 ، باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
- 1
- 2