باب:نماز میں قرأءت

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو سورۂ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ۱؎(مسلم،بخاری)مسلم کی روایت میں ہے کہ اس کی نماز نہیں جو سورۂ فاتحہ اور کچھ زیادہ نہ پڑھے۲؎

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأ بِفَاتِحَة ِالْكِتَابِ » (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 822 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو نماز پڑھے اس میںالحمدنہ پڑھے تو وہ نماز ناقص ہے(تین بار)کامل نہیں ۱؎حضرت ابوہریرہ سے کہا گیا کہ ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں فرمایا اپنے دل میں پڑھ لو ۲؎کیونکہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سن الله تعالٰی نے فرمایا کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھوں آدھ بانٹ دیا ہے۳؎اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جو مانگے ۴؎بندہ کہتا ہے "الحمداللّٰہ رب العلمین"تو الله تعالٰی فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی ۵؎جب بندہ کہتا ہے "الرحمن الرحیم" تو الله تعالٰی فرماتا ہے میرے بندے نے میری ثنا کی ۶؎اور جب کہتا ہے"مالك یوم الدین"تو رب فرماتا ہے میرے بندے نے میری بندگی بیان کی ۷؎اور جب کہتا ہے "ایاك نعبدو ایاك نستعین"تو رب فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے ۸؎اور میرے بندے کے لیئے وہ ہے جو مانگے ۹؎پھرجب کہتا ہے "اھدناالصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم۱۰؎غیر المغضوب علیہم ولا الضالین" تو فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو مانگے ۱۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ صَلّٰى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثَلَاثًا غَيْرُتَمَامٍ» فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ فَقَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «قَالَ اللهُ تَعَالٰى قَسَّمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ (الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ)قَالَ تَعَالٰى حَمِدَنِي عَبْدِي وَإِذَا قَالَ (الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ)قَالَ اللهُ تَعَالٰى أَثْنٰى عَلَيَّ عَبْدِي وَإِذَا قَالَ (مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ) قَالَ مَجَّدَنيِْ عَبدِي وَإِذا قَالَ (إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ)قَالَ هٰذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ (اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ)قَالَ هٰذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 823 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما نمازالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَسے شروع کرتے تھے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ بِ«الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ» )رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 824 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب امامآمینکہے تو تم بھیآمینکہو جس کیآمینفرشتوں کیآمینکے موافق ہوگی تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۱؎(مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا جب امام کہے "غیرالمغضوب علیہم ولا الضالین"تو تم کہوآمین۲؎جس کا کلام فرشتوں کے کلام کے موافق ہو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۳؎یہ بخاری کے لفظ ہیں اور مسلم کے نزدیک اس کی مثل اور بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا جب قاریآمینکہے تو تم بھیآمینکہو کیونکہ فرشتے بھیآمینکہتے ہیں جس کیآمینموافق ہوگی فرشتوں کیآمینکے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۴؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهٗ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهٗ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ»مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: (غَيْرِ المَغْضُوْبِ عَلَيْهِم وَلَا الضَّالِّيْنَ)فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّهٗ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهٗ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ هٰذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُهٗ وَفِيْ أُخْرٰى لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: «إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهٗ تَأْمِيْنَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 825 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم نماز پڑھو تو صفیں سیدھی کرو پھر تم میں سے کوئی تمہارا امام بن جائے ۱؎جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب کہے "غیر المغضوب علیہم ولا الضالین"تو تمآمینکہو الله تمہاری قبول کرے گا ۲؎پھر جب تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا ا ور تم سے پہلے سر اٹھائے گا حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس کے بدلے میں ہوا ۳؎اور جب کہے "سمع الله لمن حمدہ"تو تم کہو "اللھم ربنالك الحمد" الله تمہاری سنے گا ۴؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لِيُؤَمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوْا وَإِذَا قَالَ (غَيْرِ المَغْضُوْبِ عَلَيْهِم وَلَا الضَّالِّيْنَ)فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «فَتِلْكَ بِتِلْكَ» قَالَ: «وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ فَقُولُوا اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعُ اللهُ لَكُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 826 ، باب:نماز میں قرأءت

اور مسلم کی ابوہریرہ و قتادہ سے ایک روایت میں ہے کہ جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو ۱؎

وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَتَادَةَ: «وَإِذا قَرَأَ فَأَنْصِتُوْا»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 827 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے ۱؎اور کبھی ہم کو کوئی آیت سنا دیتے تھے ۲؎اور پہلی رکعت میں کسی قدر درازی کرتے جو دوسری رکعت میں نہ کرتے ۳؎یوں ہی عصر میں اور یوں ہی صبح میں کرتے۔(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ فِي الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَيُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُوْلىٰ مَا لَا يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَهٰكَذَا فِي الْعَصْرِ وَهٰكَذَا فِي الصُّبْحِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 828 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ وسلم کے ظہر و عصر کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے ۱؎تو ہم نے آپ کے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہالٓم تنزیل السجدہپڑھنے کے بقدر ۲؎ایک روایت میں ہے کہ ہر رکعت میں تیس آیتوں کی بقدر۳؎اور ہم نے آخری رکعتوں میں قیام کا اندازہ اس سے آدھے کا لگایا ۴؎اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی آخری رکعتوں کے قیام کی بقدر اندازہ لگایا اور عصر کی آخری رکعتوں میں اس سے آدھا ۵؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نَحْرُزُ قِيَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِيَامَهٗ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ قِرَاءَةِ (الٓمّٓ تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ )-وَفِي رِوَايَةٍ: فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً - وَحَزَرْنَا قِيَامَهٗ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَالنّصْفِ مِنْ ذٰلِكَ وَحَزَرْنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلیٰ قَدْرِ قِيَامِهٖ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذٰلِكَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 829 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ظہر میں"وَالَّیۡلِ اِذَا یَغْشٰی"پڑھتے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی" ۱؎اور عصر میں اسی طرح اورفجر میں اس سے کچھ دراز ۲؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ(باللَّيْلِ إِذَا يَغْشىٰ)وَفِي رِوَايَةٍ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَ عَلیٰ )وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذٰلِكَ وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذٰلِكَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 830 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو مغرب میں سورۂ طور پڑھتے سنا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ«بِالطُّورِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 831 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے ام فضل بنت حارث سے ۱؎فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو مغر ب میں"وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا" پڑھتے ہوئے سنا ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِب (بِالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 832 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے پھر آکر اپنی قوم کی امامت کرتے ۱؎ایک رات نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ عشاء پڑھی پھر اپنی قوم میں آئے ان کے امام بنے اور سورۃ بقر شروع کردی تو ایک شخص پھر گیا۲؎کہ اس نے سلام پھیرکر اکیلے نماز پڑھی اور چلا گیا لوگوں نے کہا اے فلاں کیا تو منافق ہوگیا بولا نہیں رب کی قسم میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا اور آپ کو یہ خبر دوں گا۳؎پھر وہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول الله ہم لوگ اونٹ والے ہیں ۴؎دن بھر کام کرتے ہیں اور حضرت معاذنے آپ کے ساتھ نماز پڑھی پھر اپنی قوم میں آئے سورۂ بقر شروع کردی۵؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم معاذ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا اے معاذ کیا تم فتنہ گر ہو "وَالشَّمْسِ وَ ضُحٰىہَا" اور "وَالضُّحٰی""وَالَّیۡلِ اِذَا یَغْشٰی"اور "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی" پڑھا کرو ۶؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُمُّ قَوْمَهٗ فَصَلّٰى لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتٰى قَوْمَهٗ فَأَمَّهُمْ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَانْحَرَفَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ صَلّٰى وَحْدَهٗ وَانْصَرَفَ فَقَالُوا لَهٗ أَنَافَقْتَ يَا فُلَانُ قَالَ لَا وَاللهِ وَلَاٰتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأُخَبِّرَنَّهٗ فَأَتٰى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِالنَّهَارِ وَإِنَّ مُعَاذًا صَلّٰى مَعَكَ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتٰى قَوْمَهٗ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ مُعَاذٍ فَقَالَ: يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اِقْرَأْ: (وَالشَّمْسِ وَ ضُحٰىہَا (وَالضُّحٰى) (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشٰى)و (وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَ عَلیٰ ) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 833 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو عشاء میں"وَالتِّیۡنِ وَالزَّیۡتُوۡنِ"پڑھتے سنا اورآپ سے زیادہ خوش آواز کسی کو نہ سنا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ: (وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ)وَمَا سَمِعتُ أَحَداً أَحْسَنَ صَوتاً مِنْهُ.(متفق علیہ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 834 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم فجر میں"قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیۡدِ"وغیرہ پڑھا کرتے تھے پھر بعد میں آپ کی نماز کچھ ہلکی ہوگئی۲؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرِبْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ (بِقٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيْدِ)وَنَحْوِهَا وَكَانَتْ صَلَاتُهٗ بَعْدُ تَخْفِيفًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 835 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے عمرو بن حریث سے کہ انہوں نےنبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو فجر میں"وَالَّیۡلِ اِذَاعَسْعَسَ"پڑھتے سنا ۱؎(مسلم)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ: أَنَّهٗ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفجْرِ (وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ)رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 836 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضر ت عبد الله ابن سائب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مکہ میں نماز فجر پڑھائی ۲؎سورۂ مؤمنون شروع کی حتی کہ موسیٰ و ہارون کا ذکر یا عیسیٰ کا ذکر آیا تو نبی صلی الله علیہ وسلم کو کھانسی آگئی تورکوع فرمادیا۔(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: صَلّٰى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ (الْمُؤْمِنِينَ) حَتّٰى جَاءَ ذِكْرُ مُوسٰى وَهَارُونَ أَوْ ذِكْرُ عِيسٰى أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُعْلَةٌ فَرَكَعَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 837 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی پہلی رکعت میںالم تنزیلاور دوسری رکعت میں "ھَلْ اَتٰی عَلَی الْإِنْسَان"پڑھتے تھے ۱؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفجْر يَوْم الْجُمُعَة (بِآلٓمٓ تَنْزِيلُ)فِي الرَّكْعَةِ الْأُولٰى وَفِي الثَّانِيَةِ (هَلْ أَتٰى عَلَی الْإِنْسَانِ) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 838 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضرت عبید الله ابن ابی رافع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مروان نے حضرت ابوہریرہ کو مدینہ منورہ پر اپنا خلیفہ بنایا اور خود مکہ معظمہ چلا گیا ۲؎تب ہمیں حضرت ابوہریرہ نے جمعہ پڑھایا ۳؎تو پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ پڑھی اور دوسری میں "اِذَا جَآءَکَ الْمُنٰفِقُوۡنَ"پھر فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو جمعہ کے دن یہ سورتیں پڑھتے سنا۴؎(مسلم)

وَعَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِيْ رَافِعٍ قَالَ: اِسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَی المَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلٰى مَكَّةَ فَصَلّٰى لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْجُمُعَةَ فَقَرَأَ سُورَةَ (الْجُمُعَةِ)فِي السَّجْدَةِ الْأُولٰى وَفِي الْآخِرَةِ: (إِذا جَاءَكَ المُنَافِقُونَ)فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 839 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضرت نعمان بن بشیرسے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَ عَلیٰ"هَلْ أَتَاكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ"پڑھتے تھے۔فرماتے ہیں کہ جب عید اورجمعہ ایک دن میں جمع ہوجاتے تو یہ دونوں سورتیں دونوں نمازوں میں پڑھتے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ ب(سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَ عَلیٰ )و (هَلْ أَتَاكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ)قَالَ: وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ قَرَأَ بِهِمَا فِي الصَّلَاتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 840 ، باب:نماز میں قرأءت

روایت ہے حضرت عبید الله سے کہ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت ابو واقد لیثی سے پوچھا ۱؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم بقر عیداور عید میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے ۲؎انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں میں"قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیۡدِ"اور"اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ"پڑھتے تھے۔(مسلم)

وَعَنْ عُبَيْدِ اللهِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ:(مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهٖ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحٰى وَالْفِطْرِفَقَالَ: كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا: ب(قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيْدِ)وَ(اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ)رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 841 ، باب:نماز میں قرأءت