- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب:نماز میں قرأءت
باب:نماز میں قرأءت
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعتوں میں "قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ" اور "قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدْ"پڑھیں ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ)وَ (قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدْ)رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 842 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں"قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا" اور آل عمران والی آیت "قُلْ يَا أَهْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا"الخ پڑھتے تھے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: (قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا)وَالَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ (قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ)رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 843 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنی نمازبسم الله الرحمن الرحیمسے شروع کرتے تھے۔(ترمذی)اور وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ۱؎
عَنِ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهٗ ب(بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ)رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِذَاكَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 844 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے پڑھا "غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ" تو کہاآمیناپنی آواز کھینچ کر ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی اور ابن ماجہ)
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم قَرَأَ:(غَيْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَآ الضَّالِّيْن) فَقَالَ: اٰمِينَ مَدَّ بِهَا صَوْتَهٗ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ والدَارمِيْ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 845 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت ابو زہیرنمیری سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نکلے تو ایک شخص ایسے پر پہنچے جو دعا مانگنے میں بہت مبالغہ کررہا تھا حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ مہر لگاوے ۲؎تو واجب کرے گا قوم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ کس چیز سے مہر لگا ئے فرمایاآمینسے۔ (ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِيْ زُهَيْرِ النُّمَيْرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَأَتَيْنَا عَلیٰ رَجُلٍ قَدْ أَلَحَّ فِي الْمَسْأَلَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَوْجَبَ إِنْ خَتَمَ فَقَالَ: رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بِأَيِّ شَيْءٍ يَخْتِمُ قَالَ: «بِاٰمِيْنَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 846 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت عائشہ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے مغرب میں سورۂ اعراف پڑھی یہ سورت دو رکعتوں میں تقسیم کردی ۱؎(نسائی)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى الْمَغْرِبَ بِسُورَةِ (الْأَعْرَافِ)فَرَّقَهَا فِي رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 847 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت عقبہ بن عامر سے فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضور کی اونٹنی کی مہارکھینچ رہا تھا کہ مجھ سے فرمایا اے عقبہ کیا میں تمہیں بہترین دو سورتیں نہ بتاؤں جو پڑھی جاتی ہیں مجھے "قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ"اور"قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ" سکھائی ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھے حضورصلی الله علیہ وسلم نے ان دو سورتوں کی وجہ سے زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھاتو جب نمازصبح کے لیے اترے تو انہیں دو سورتوں سے لوگوں کو فجر پڑھائی جب فارغ ہوئے تومیری طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ اے عقبہ تم نے کیسا دیکھا ۲؎(احمد، ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهٗ فِي السَّفَرِ فَقَالَ لِي: «يَا عُقْبَةُ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا» فَعَلَّمَنِي (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ)وَ (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ)قَالَ: فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلّٰى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: «يَا عُقْبَةُ كَيْفَ رَأَيْتَ» . رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 848 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت جابر بن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جمعہ کی رات نماز مغرب میں "قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ" اور "قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ" پڑھتے تھے۔(شرح سنہ)
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ: (قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ)و (قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ)رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 849 ، باب:نماز میں قرأءت
ا بن ماجہ نے حضرت ابن عمر سے روایت کی مگر انہوں نے شبِ جمعہ کا ذکر نہ کیا ۱؎
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنْ ابْنِ عُمَرَ إِلَّا أَنه لَمْ يَذْكُرْ «لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 850 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت عبد الله بن مسعود سے فرماتے ہیں کہ شمار نہیں کرسکتا کہ میں نے کس قدر حضور صلی الله علیہ وسلم کو مغرب کے بعد کی سنتوں اورفجر سے پہلے سنتوں میں "قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ" اور "قُلْ ُھوَ اللّٰہُ اَحَدٌ" پڑھتے سنا ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا أُحْصِيْ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: (قُلْ يٰأَيُّهَا الْكَافِرُونَ)و (قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ)رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 851 ، باب:نماز میں قرأءت
اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا مگر انہوں نے بعد مغرب کا ذکر نہ کیا۔
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا أَنَّهٗ لَمْ يَذْكُرْ: «بَعْدَ الْمَغْرِبِ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 852 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کے پیچھے ایسی نماز نہ پڑھی جو زیادہ مشابہ ہو حضور صلی الله علیہ وسلم کی نماز کے بمقابلہ فلاں کے ۱؎سلیما ن نے فرمایا کہ میں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں دراز کرتے تھے اور آخری رکعتیں ہلکی اور عصر کی ہلکی پڑھتے تھے اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے تھے اور عشاء میں وسط مفصل صبح میں طوال مفصل۲؎(نسائی)اور ابن ماجہ نے یہاں تک روایت کی کہ عصر ہلکی پڑھتے تھے۔
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ. قَالَ سُلَيْمَانُ: صَلَّيْتُ خَلْفَهٗ فَكَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ إِلٰى وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 853 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ ہم نماز فجر میں حضورصلی الله علیہ وسلم کے پیچھے تھے آپ نے قرأت کی آپ پر قرأت بھاری ہوگئی جب فارغ ہوئے تو فرمایا شاید تم لوگ اپنے امام کے پیچھے تلاوت کرتے ہو ہم نے کہا ہاں یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ۱؎آپ نے فرمایا کہ سواء سورۂ فاتحہ کے کچھ نہ پڑھا کروکیونکہ جو فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ۲؎(ابوداؤد)اور(ترمذی)نسائی نے اس کے معنی کی روایت کی۔ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا کہ میں دل میں سوچتا تھا کہ مجھ پر قرآن کیوں بھاری پڑرہا ہے لہذا جب میں آواز بلند سے قرأت کروں توالحمدکے سوا کچھ نہ پڑھو۳؎
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كُنَّا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَقَرَأَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «لَعَلَّكُمْ تَقْرَؤُوْنَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ» قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ . قَالَ: «لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهٗ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَلِلنِّسَائِيِّ مَعْنَاهُ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ قَالَ: «وَأَنَا أَقُولُ مَالِي يُنَازِعُنِي الْقُرْآنُ فَلَا تَقْرَؤُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 854 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے جس میں اونچی قرأت کی جاتی ہے تو فرمایا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی قرأت کی ایک شخص نے کہا ہاں یارسول الله ۱؎فرمایا تب ہی میں سوچتا تھا کہ مجھے کیا ہوا کہ میں قرآن میں جھگڑا کیاجارہا ہوں ۲؎ فرماتے ہیں کہ پھر لوگ حضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ان نمازوں میں قرأت سے باز رہے جن میں بلند قرأت کی جاتی ہے جب حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ۳؎(امام مالک،احمد،ابو داؤد، ترمذی، نسائی)ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی ۴؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: «هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا» فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: إِنِّي أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ«. قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنْ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذٰلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ » . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ نَحْوَهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 855 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت ابن عمر اور بیاضی سے وہ دونوں کہتے ہیں ۱؎کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نمازی اپنے رب سے مناجات کرتا ہے تو چاہیے کہ غور کرے کہ اس سے کیا مناجات کرتا ہے ۲؎اور بعض بعض پر قرآن اونچا نہ پڑھے۳؎
وَعَنْ ابْنِ عُمْرَوَالْبِيَاضِي قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهٗ فَلْيَنْظُرْ مَا يُنَاجِيهِ بِهٖ وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلیٰ بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ» . رَوَاهُ أَحْمدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 856 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ امام اس لیے مقرر کیا گیا کہ اس کی پیروی کی جائے ۱؎تو جب تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ا ور جب تلاوت کرے تو تم خاموش رہو۲؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهٖ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَ النَّسَائِيّ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 857 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت عبد الله ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ میں قرآن کچھ بھی یاد نہیں کرسکتا تو مجھے وہ چیز سکھلا دیجئے جو کافی ہو ۱؎فرمایا یہ کہہ لیا کرو "سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"۲؎عرض کیا یارسول الله یہ تو الله کے لیے ہوا میرے واسطے کیا ہے ۳؎فرمایا کہہ لیا کرو الٰہی مجھ پر رحم کر مجھے امن،ہدایت اور روزی دے ۴؎پھر اس شخص نے دونوں ہاتھ بندکرکے ان سے یوں اشارہ کیا ۵؎حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے اپنے دونوں ہاتھ خیر سے بھر لیے۔(ابوداؤد)نسائی کی روایتالا باللهپرختم ہوگئی۔
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفٰى قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِئُنِي قَالَ: «قُلْ سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ » . قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هٰذَا لِلّٰهِ فَمَاذَا لِي قَالَ: «قُلْ اَللّٰهُمَّ ارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي» . فَقَالَ هٰكَذَا بِيَدَيْهِ وَقَبَضَهُمَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَمَّا هٰذَا فَقَدَ مَلَأَ يَدَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَانْتَهَتْ رِوَايَةُ النَّسَائِيِّ عِنْدَ قَوْلِهٖ: «إِلَّا بِاللهِ »
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 858 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی" پڑھتے تو فرماتےسُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعَلیٰ۱؎(احمد،ابوداؤد)
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ إِذَا قَرَأَ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَ عَلیٰ )قَالَ: (سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَ عَلیٰ )رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 859 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے جو کوئی"وَالتِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ" پڑھے ۱؎اور"اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیۡنَ" پر پہنچے تو کہہ لے ہاں میں اس پر گوا ہوں میں سے ہوں ۲؎اور جو "لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ" پڑھے اور"اَلَیۡسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنۡ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰی"پر پہنچے تو کہہ لے کہ ہاں ۳؎اور جو "وَ الْمُرْسَلٰتِ"پڑھے اور "فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوۡنَ" پر پہنچے تو کہہ لے ہم الله پر ایمان لائے ۴؎(ابوداؤد)اور ترمذی کی روایت اس قول تک ہی ہے کہ میں اس پر گواہوں سے ہوں۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : من قَرَأَ مِنْكُم ب (التِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ)فَانْتَهَى الٰى {أَلَيْسَ اللّٰهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ} فَلْيَقُلْ: بَلٰى وَأَنَا عَلیٰ ذٰلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ. وَمن قَرَأَ: (لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ) فَانْتَهَى الٰى (أَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلیٰ أَن يُّحْيِيَ الْمَوْتٰى)فَلْيَقُلْ بَلٰى.وَمَنْ قَرَأَ (وَالْمُرْسَلَاتِ) فَبَلَغَ:(فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ) فَلْيَقُلْ: آمَنَّا بِاللهِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ إِلٰى قَوْلِهٖ: (وَأَنَا عَلیٰ ذٰلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 860 ، باب:نماز میں قرأءت
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جماعت صحابہ میں تشریف لائے تو ان کے سامنے اول سے آخر تک سورہ ٔالرحمٰنپڑھی ۱؎صحابہ خاموش رہے ۲؎تو حضور نے فرمایا کہ میں نے یہ سورت شب جن میں۳؎جنات پر پڑھی تو وہ تم سے اچھے جواب دینے والے تھے میں جب اس قول پر پہنچا "فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ"تو کہتے نہیں اے مولا ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تیرے ہی لیے تعریف ہے ۴؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ أَصْحَابِهٖ فَقَرَأَ عَلَيْهِم سُورَةَ الرَّحْمٰنِ مِنْ أَوَّلِهَا إِلٰى آخِرِهَا فَسَكَتُوا فَقَالَ: «لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَی الجِنِّ فَكَانُوا أَحْسَنَ مَرْدُودًا مِنْكُمْ كُنْتُ كُلَّمَا أَتَيْتُ عَلٰى قَوْلِهٖ (فَبِأَيِّ آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ)قَالُوا لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 861 ، باب:نماز میں قرأءت