- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت معاویہ ابن حکم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ قوم میں سے ایک شخص چھینکا میں نے کہ الله تم پر رحم کرے ۲؎مجھے لوگوں نے تیز نگاہوں سے دیکھا تو میں نے کہا ہائے میری ماں کا رونا ۳؎تمہیں کیا ہوا کہ مجھے دیکھتے ہو ۴؎تو وہ رانوں پر ہاتھ مارنے لگے ۵؎جب میں نے دیکھا کہ مجھے خاموش کررہے ہیں تو میں بھی خاموش ہوگیا ۶؎جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو میرے ماں باپ ان پر نثار میں نے ایسا اچھا سکھانے والا معلم نہ آپ سے پہلے دیکھا نہ بعد میں۔خدا کی قسم نہ مجھے ڈانٹا نہ مارا نہ برا کہا ۷؎فرمایا کہ ان نمازوں میں انسانی کلام مناسب نہیں یہ صرف تسبیح،تکبیر اور تلاوت قرآن ہے ۸؎یا جیسا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ۹؎میں نے عرض کیا یارسول الله میرا زمانہ جاہلیت سے قریب ہے الله نے ہمیں اسلام دیا اور ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں فرمایا تم وہاں نہ جاؤ ۱۰؎میں نے کہا کہ ہم میں سے بعض پرندے اڑاتے ہیں فرمایا یہ ایسی بات ہے جسے وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں انہیں یہ کاموں سے نہ روکے ۱۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہم میں سے بعض لکیریں کھینچتے ہیں فرمایا ایک پیغمبر خط کھینچتے تھے جس کا خط ان کے موافق ہوگا تو درست ہے ۱۲؎(مسلم)ان کا قولسکتمیں نہیں،صحیح مسلم میں یوں ہی پایا اور کتاب حمیدی میں ہے کہ جامع اصول میںلٰکنیکے اوپر لفظکذاسے صحیح کہا ۱۳؎۔
عَن مُعَاوِيَةَ ابْن الْحَكَمِ قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ . فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ . فَقُلْتُ: وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلیٰ أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهٗ وَلَا بَعْدَهٗ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ فَوَاللهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي قَالَ: «إِنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ» أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقَدْ جَاءَنا اللهُ بِالْإِسْلَامِ وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ. قَالَ: «فَلَا تَأْتِهِمْ » . قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ. قَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهٗ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ» . قَالَ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ. قَالَ: «كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهٗ فَذَاكَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَوْلُهُ: لَكِنِّي سَكَتُّ هٰكَذَا وَجَدتُّ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ وَكِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَصُحِّحَ فِي «جَامِعِ الْأُصُولِ» بِلَفْظَةِ كَذَا فَوْقَ: لَكِنِّي
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 978 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو جب کہ وہ نماز میں ہوتے سلام کرتے تھے آپ ہمیں جواب دیتے تھے ۱؎جب ہم نجاشی کے پاس سے لوٹے ۲؎تو ہم نے آپ کو سلام کیا آپ نے ہمارا جواب نہ دیا ہم نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ہم آپ کو نماز میں سلام کرتے تھے اور آپ جواب دیتے تھے فرمایا نماز میں مشغولیت ہے۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا فَقَالَ: إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 979 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت معیقیب سے ۱؎وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی اس شخص کے بارے میں جو سجدے کی جگہ مٹی برابر کرے فرمایا اگر تمہیں کرنا ہے تو ایک بار ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ مُعَيْقِيبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ قَالَ:«إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 980 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ حضور انور صلی الله تعالٰی ٰ علیہ وسلم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَصْرِ فِي الصَّلَاةِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 981 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ یہ اچکنا ہے شیطان بندے کی نماز سے اچکتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: «هُوَ اِخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ العَبْدِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 982 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قومیں نماز میں دعا کے وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے باز رہیں ورنہ ان کی نگاہیں چھین لی جائیں گی ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ رَفْعِهِمْ أَبْصَارَهُمْ عِنْدَ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ إِلَى السَّمَاءِ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارهم» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 983 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا آپ لوگوں کی امامت کرتے تھے اور امامہ بنت ابی العاص آپ کے کندھے پر ہوتیں ۱؎جب رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو انہیں لوٹا لیتے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلیٰ عَاتِقِهٖ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ أَعَادَهَا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 984 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں جمائی لے تو جہاں تک ہوسکے دفع کرے کیونکہ شیطان داخل ہوجاتا ہے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 985 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
بخاری کی روایت میں حضرت ابوہریرہ سے ہے فرمایا تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو بقدر طاقت دفع کرے اور نہ کہے"ھا"کیونکہ یہ شیطان سے ہے کہ وہ اس سے ہنستا ہے ۱؎
وَفِي رِوَايَةِ الْبُخَارِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ وَلَا يَقُلْ: هَا فَإِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ يَضْحَكُ مِنْهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 986 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ایک خبیث جن آج رات کھل گیا ۱؎تاکہ میری نماز توڑ دے الله نے مجھے اس پر طاقت دی میں نے اسے پکڑ لیا ۲؎میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون سے باندھ دوں تاکہ تم سب اسے دیکھو۳؎لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آگئی کہ مولا مجھے وہ ملک دے جو کسی کے لائق نہ ہو میرے بعد تو میں نے اسے ناکام چھوڑ دیا ۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلَاتِي فَأَمْكَنَنِي اللهُ مِنْهُ فَأَخَذْتُهٗ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهٗ عَلیٰ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتّٰى تَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ: (رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي)فَرَدَدْتُهٗ خَاسِئًا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 987 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جسے نماز میں کوئی چیز پیش آجائے تو تسبیح پڑھے کیونکہ تالی عورتوں کے لیے ہے ایک روایت میں ہے کہ فرمایا تسبیح مردوں کے لیے ہے اور تالی عورتوں کے لیے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ نَابَهٗ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهٖ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ»وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيْقُ لِلنِّسَاءِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 988 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم حبشہ جانے سے پہلے حضور صلی الله علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے حالانکہ آپ نماز میں ہوتے تو آپ ہم کو جواب دیتے تھے پھر جب ہم حبشہ سے لوٹے تو میں آپ کی خدمت میں آیا آپ کو نماز پڑھتے پایا میں نے آپ کو سلام کیا تو مجھے آپ نے جواب نہ دیا حتی کہ جب اپنی نماز پوری کی تو فرمایا الله اپنے احکام میں جو چاہے نئے حکم دے اب جو نیا حکم بھیجا اس میں یہ ہے کہ نماز میں کلام نہ کرو پھر آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا ۱؎
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهٗ فَوَجَدْتُهٗ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتّٰى إِذَا قَضٰى صَلَاتَهٗ قَالَ: «إِنَّ اللهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهٖ مَا يَشَاءُ وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ أَنْ لَا تَتَكَلَّمُوْا فِي الصَّلَاةِ» . فَرَدَّ عَلَی السَّلَامَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 989 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
اور فرمایا کہ نماز قرآن پڑھنے اور الله کے ذکر کے لیے ۱؎جب تم نماز میں ہو تو یہ ہی تمہارا حال ہونا چاہیے۔(ابوداؤد)
وَقَالَ: «إِنَّمَا الصَّلَاةُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللهِ فَإِذا كُنْتَ فِيْهَافَلْيَكُنْ ذٰلِكَ شَأْنَكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 990 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال سے کہا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم انہیں جواب کیسے دیتے تھے جب صحابہ آپ کو نماز میں سلام کرتے تو فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کردیتے تھے ۱؎(ترمذی) اور نسائی کی روایت میں اسی طرح ہے اور بجائے بلال کے صہیب ہے۔
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِيْنَ کَانُوْا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهٖ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِيِّ نَحْوَهٗ وَعِوَضُ بِلَالٍ صُهَيْبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 991 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے رفاعہ ابن رافع سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی میں چھینکا تو کہہ لیا تمام تعریفیں الله کی ہیں زیادہ اچھی اس میں برکت والی اس پر برکت جیسے ہمارا رب چاہے اور راضی ہو ۱؎تو جب حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پھرے اور فرمایا نماز میں کلام کرنے والا کون تھا کوئی نہ بولا پھر دوبارہ یہی فرمایا کوئی نہ بولا پھر سہ بار یہی فرمایا تو رفاعہ نے عرض کیا یارسول الله میں ہوں۲؎تب نبی کریم رؤف و رحیم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس میں تیس اور چند فرشتوں نے جلدی کی کہ کون انہیں لے کر چڑھے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَ يَرْضٰى فَلَمَّا صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ» فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ فَقَالَ رِفَاعَةُ: أَنَا يَا رَسُوْلَ اللهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 992 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نماز میں جمائی شیطان کی طرف سے ہے تو جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو بقدر طاقت دفع کرے ۱؎(ترمذی)اور ترمذی کی دوسری روایت میں اور ابن ماجہ میں ہے کہ اپنا ہاتھ اپنے منہ میں رکھ لے۲؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي أُخْرٰى لَهٗ وَلِابْنِ مَاجَهْ: «فَلْيَضَعْ يَدَهٗ عَلیٰ فِيهِ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 993 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت کعب ابن عجرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی جب وضو کرے تو اچھا کرے پھر مسجد کے ارادے سے نکلے ۱؎تو انگلیوں میں انگلیاں نہ ڈالے کیونکہ وہ نماز میں ہے ۲؎(احمد،ترمذی، ابوداؤد،نسائی،دارمی)
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهٗ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى المَسْجِدِ فَلَا يُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِهٖ فَإِنَّهٗ فِي الصَّلَاةِ» . رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيّ والدَارمِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 994 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں ،فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الله تعالٰی بندے پر متوجہ رہتا ہے جب کہ وہ نماز میں ہو جب تک ادھر ادھر نہ دیکھے جب ادھر ادھر دیکھتا ہے تو رب اس سے اعراض کرتا ہے ۱؎(احمد،ابوداؤد، نسائی،دارمی)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزَالُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَی العَبْدِ وَهُوَ فِي صَلَاتِهٖ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ فَإِذَا الْتَفَتَ انْصَرَفَ عَنْهُ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَارمِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 995 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے حضرت انس سے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے انس اپنی نگاہ سجدہ گاہ پر رکھو ۱؎(اس کو بیہقی نے اپنی سنن کبیر میں حسن عن انس کے طریق سے مرفوعا روایت کیا ہے)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَنَسُ اجْعَلْ بَصَرَكَ حَيْثُ تَسْجُدُ»رَوَاہُ الْبَیْہَقِیُّ فِیْ سُنَنِہِ الْکَبِیْرِ مِنْ طَرِیْقِ الْحَسَنِ عَنْ اَنَسٍ یَرْفَعَہٗ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 996 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے میرے بچے نماز میں التفات سے بچو کیونکہ نماز میں التفات ہلاکت ہے اگر ضروری ہو تو نفل میں ہو نہ کہ فرض میں ۱؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «يَا بُنَيَّ إِيَّاكَ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ الِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ هَلَكَةٌ. فَإِنْ كَانَ لَابُدَّ فَفِي التَّطَوُّع لَا فِي الْفَرِیْضَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 997 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- 1
- 2