باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نماز میں دائیں بائیں کنکھیوں سے دیکھتے تھے اور اپنی گردن پیٹھ کے پیچھے نہ موڑتے تھے ۱؎(ترمذی،نسائی)

وَعَنِ ابْن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْحَظُ فِي الصَّلَاةِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهٗ خَلْفَ ظَهْرِهٖ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 998 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت عدی ابن ثابت سے ۱؎وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی اسے مرفوع کیا فرماتے ہیں کہ نماز میں چھینک،اونگھ،جمائی،حیض،قے اور نکسیر شیطان سے ہیں ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ رَفَعَهٗ قَالَ: «الْعُطَاسُ وَالنُّعَاسُ وَالتَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ وَالْحَيْضُ وَالْقَيْءُ وَالرُّعَافُ مِنَ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 999 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت مطرف ابن عبد الله ابن شخیر سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے پیٹ میں ہانڈی کی سی کھولن تھی یعنی رو رہے تھے ۲؎اور ایک روایت میں ہے فرماتے ہیں میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا حالانکہ آپ کے سینے میں رونے سے چکی کی سی گڑگڑاہٹ تھی۔(احمد)اور نسائی نے پہلی روایت اور ابوداؤد نے دوسری روایت کی۔

وَعَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهٖ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ يَعْنِي: يَبْكِي وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهٖ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَا مِنَ الْبُكَاءِ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَرَوَى النَّسَائِيُّ الرِّوَايَةَ الْأُولٰى وَأَبُو دَاوُدَ الثَّانِيَة

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1000 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت ابوذر )رضی الله عنہ( سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں کھڑا ہو تو کنکر نہ چھوئے کیونکہ رحمت اس کے سامنے ہے ۱؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصٰى فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ» . رَوَاهُ أَحَمَدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَأَبُو دَاوُدَ وَ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1001 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ہمارے لڑکے کو جسے افلح کہا جاتا تھا دیکھا کہ جب وہ سجدہ کرتا ہے تو پھونک مارتا تو فرمایا اے افلح اپنا چہرہ خاک آلود کر ۱؎(ترمذی)

وَعَنْ أُمِّ سَلْمَةَ قَالَتْ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَنَا يُقَالُ لَهٗ : أَفْلَحُ إِذَا سَجَدَ نَفَخَ فَقَالَ: «يَا أَفْلَحُ تَرِّبْ وَجْهَكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1002 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت ابن عمر رضی الله عنہما سے کہ نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنا دوزخیوں کا آرام ہے ۱؎(شرح سنہ)

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا «الِاخْتِصَارُ فِي الصَّلَاةِ رَاحَةُ أَهْلِ النَّارِ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1003 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نماز میں دو کالی چیزوں سانپ اور بچھو کو قتل کردو ۱؎(احمد،ابوداؤد) ترمذی اور نسائی نے اس کے معنے۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ».رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَأَبُو دَاوُدَ وَلِلنَّسَائِيِّ مَعْنَاهُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1004 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نفل پڑھ رہے تھے ۱؎اور دروازہ آپ پر بند تھا میں آئی دروازہ کھلوایا تو آپ چلے اور میر ے لیے کھول دیا پھر اپنے مصلی کی طرف لوٹ گئے اور آپ نے ذکرکیا کہ دروازہ جانب قبلہ تھا ۲؎(احمد،ابوداود،ترمذی)نسائی نے اس کی مثل روایت کی۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ فَمَشٰى فَفَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلٰى مُصَلَّاهُ وَذَكَرْتُ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحوَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1005 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت طلق ابن علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم میں سے کسی کو نماز میں ہوا آجائے تو پھر جائے وضو کرے نماز لوٹائے ۱؎(ابو داؤد)ترمذی نے کچھ زیادتی کمی کے ساتھ۔

وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيْ مَعَ زِيَادَةٍ ونُقْصَانٍ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1006 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت عائشہ رضی الله عنھا سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں بے وضو ہوجائے تو اپنی ناک پکڑ لے پھر چلا جائے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهٖ فَلْيَأْخُذْ بِأَنْفِهٖ ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1007 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی سلام پھیرنے سے پہلے بے وضو ہوجائے حالانکہ آخر نماز بیٹھ لیا ہے تو اس کی نماز جائز ہوگئی ۱؎(ترمذی)اور فرمایا کہ اس کی اسناد قوی نہیں اس کی اسناد میں اضطراب ہے ۲؎

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :«إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهٖ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ جَازَتْ صَلَاتُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهٗ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَقَدِ اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَادِهٖ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1008 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نمازکو تشریف لائے جب تکبیر کہی ۱؎تو واپس ہوئے اور لوگوں کو اشارہ فرمایا کہ تم ایسے ہی رہو ۲؎پھر تشریف لے گئے تو غسل کر لیا پھرتشریف لائے حالانکہ سر شریف سے قطرے ٹپک رہے تھے۳؎پھر انہیں نماز پڑھائی جب نماز پڑھ لی تو فرمایا ہم جنبی تھے غسل کرنا بھول گئے ۴؎(احمد)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَمَّا كَبَّرَ انْصَرَفَ وَأَوْمَی اليْهِمْ أَنْ كَمَا كُنْتُمْ. ثُمَّ خَرَجَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَاءَ وَرَأَسُهٗ يَقْطُرُ فَصَلّٰى بِهِمْ . فَلَمَّا صَلّٰى قَالَ: «إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَنَسَيْتُ أَنْ أَغْتَسِل» . رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1009 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

اور مالک نے عطا ابن یسار سے ارسالًا روایت کیا۔

وَرَوٰى مَالِكٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلًا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1010 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ظہر پڑھتا تھا تو کنکریوں کی ایک مٹھی لے لیتا تھا ۱؎تاکہ وہ میرے ہاتھ میں ٹھنڈی ہوجائیں انہیں اپنی پیشانی کی جگہ رکھ لیتا تاکہ ان پر سجدہ کروں سخت گرمی کی وجہ سے ۲؎(ابوداؤد)نسائی نے اس کی مثل۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي الظُّهْرَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاٰخُذُ قَبْضَةً مِنَ الْحَصٰى لِتَبْرُدَ كَفِّيْ أَضَعُهَا لِجَبْهَتِي أَسْجُدُ عَلَيْهَا لِشِدَّةِ الْحَرِّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1011 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت ابودرداء سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو یہ کہتے سنا کہ میں تجھ سے الله کی پناہ مانگتا ہوں پھر فرمایا میں تجھ پر الله کی لعنت کرتا ہوں تین بار اور اپنا ہاتھ بڑھایا گویا کچھ پکڑ رہے ہیں ۱؎جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا یارسول الله ہم نے آپ کو نماز میں یہ کہتے سنا جو اس سے پہلے آپ کو کہتے نہ سنا تھا اور ہم نے آپ کو ہاتھ بڑھاتے دیکھا ۲؎فرمایا کہ الله کا دشمن ابلیس آگ کا شعلہ لایا تھا تاکہ اسے میرے منہ میں کرے ۳؎میں نے تین بار کہا کہ میں تجھ سے الله کی پناہ مانگتا ہوں پھر میں نے کہا میں تجھ پر الله کی پوری لعنت کرتا ہوں وہ تین بار میں نہ ہٹا۴؎پھر میں نے اسے پکڑنا چاہا خدا کی قسم اگر ہمارے بھائی سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ بندھا ہوا سویرا کرتا جس سے مدینہ والوں کے بچے کھیلتے ۵؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ» ثُمَّ قَالَ: «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ » ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهٗ كَأَنَّهٗ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهٗ قَبْلَ ذٰلِكَ وَ رَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ قَالَ: إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهٗ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ اَن أَخْذَهٗ وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهٖ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1012 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الله ابن عمر ایک شخص پر گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا اسے سلام کیا اس نے کلام سے جواب دیا تو اس کی طرف حضرت عبد الله ابن عمر لوٹے اس سے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی پر نماز کی حالت میں سلام کیا جائے تو کلام نہ کرے اپنے ہاتھ سے اشارہ دے ۱؎(مالک)

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ عَلیٰ رَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ الرَّجُلُ كَلَامًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَقَالَ لَهٗ : إِذَا سُلِّمَ عَلیٰ أَحَدِكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَا يَتَكَلَّمْ وَلْيُشِرْ بِيَدِهٖ. رَوَاهُ مَالِكٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1013 ، باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں