- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بھوکوں کوکھلاؤ ۱∞؎بیماروں کی مزاج پرسی کرو قیدی چھوڑاؤ ۲؎(بخاری)
عَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَعُودُوا الْمَرِيض وفُكُّوْا الْعَانِيْ” . رَوَاهُ البُخَارِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1523 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں ۱∞؎سلام کا جواب دینا،بیمارکی عیادت کرنا،جنازوں کے ساتھ جانا،دعوت قبول کرنا،چھینک کا جواب دینا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَقُّ الِمُسْلِم عَلَی الِمُسْلِم خَمْسٌ: رَدُّ السَّلَامِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَتَشْمِيْتُ الْعَاطِسِ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1524 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسو ل الله صلی الله علیہ وسلم نے مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں:پوچھا گیا یا رسول الله وہ کیا فرمایا جب تم اس سے ملو تو اسے سلام کرو ۱∞؎جب تمہیں بلائے تو قبول کرو ۲؎اور جب تم سے خیرخواہی چاہے تو کرو۳؎جب چھینکے الله کی حمدکرے تو اس کا جواب دو، جب بیمارہوتو عیادت کرو،جب مرجائے تو ساتھ جاؤ ۴؎(مسلم)
وَ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “حَقُّ الِمُسْلِم عَلَی الِمُسْلِم سِتٌّ” . قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ: “إِذَا لَقِيتَهٗ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهٗ وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللهَ فَشَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1525 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہےحضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ ہم کو نبی صلی الله علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا اور سات سے منع کیا،ہمیں مریض کی عیادت،جنازوں کے ساتھ جانے، چھینک والے کا جواب دینے،سلام کا جواب دینے،دعوت قبول کرنے،قسم والے کو بری کرنے ۱∞؎مظلوم کی مددکرنے کا حکم دیا ۲؎اورسونے کی انگوٹھی باریک وموٹے ریشم و دیباج پہننے ۳؎سرخ نمدے ۴؎اورقسی پہننے۵؎چاندی کے برتن کے استعمال سے منع فرمایا اور ایک روایت میں ہے کہ چاندی میں پینے سے منع فرمایا کہ جو دنیا میں اس میں پی لے گا وہ آخرت میں اس سے نہ پی سکے گا۶؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا: بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَنَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ الْحَرِيرِ والْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَالْقَسِّيِّ وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ وَفِي رِوَايَةٍ وَعَنْ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ فَإِنَّهٗ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرِبْ فِيهَا فِي الْآخِرَةِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1526 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو جنت کے باغ میں رہتا ہے حتی کہ لوٹ آئے ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِنَّ الِمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الِمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتّٰى يَرْجِعَ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1527 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی قیامت کے دن فرمائے گا اے انسان میں بیمار ہوا تو نے میری مزاج پرسی نہ کی بندہ کہے گا الٰہی میں تیری عیادت کیسے کرتا تو تو جہانوں کا رب ہے فرمائے گا کیا تجھے خبر نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تو تو نے اس کی بیمار پرسی نہ کی ۱∞؎کیا تجھے خبرنہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا اے آدمی میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے نہ کھلایا عرض کرے گا الٰہی تجھے میں کیسےکھلاتا تو تو جہانوں کا رب ہے فرمائے گا کیا تجھےعلم نہیں کہ تجھ سے میرے فلاں بندے نے کھانا مانگا تونے اسے نہ کھلایا کیا تجھے پتہ نہیں کہ اگر تو اسے کھلاتا تو میرے پاس پاتا ۲؎اے انسان میں نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے مجھے نہ پلایا عرض کرے گا مولا میں تجھے کیسے پلاتا تو تو جہانوں کا رب ہے فرمائے گا تجھ سے میرے فلاں بندے نے پانی مانگا تو نے اسے نہ پلایا اگر تو اسے پلاتا تو آج میرے پاس وہ پاتا ۳؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِن الله تعالي يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَّا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهٗ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهٗ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهٗ لَوَجَدْتَ ذٰلِكَ عِنْدِي؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تُسْقِنِي قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ لَمْ تُسْقِهٖ أما إِنَّك لَو سَقَيْتُهٗ لَوَجَدْتُّ ذٰلِكَ عِنْدِيْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1528 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ایک بدوی کے پاس بیمار پرسی کے لیئے تشریف لے گئے اور جب بھی آپ کسی بیمار کی عیادت فرماتے تو کہتے تھےکوئی ڈرنہیں خدانے چاہا یہ توصفائی ہے ۱∞؎چنانچہ اس سےبھی فرمایا کہ کوئی ڈرنہیںاِنْ شَاءَاللّٰهُصفائی ہے وہ بولا ہرگز نہیں یہ تو بہت بوڑھے پر بخار جوش ماررہا ہے اسے قبر جھنکا دے گانبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تو ایسے ہی سہی۲؎(بخاری)
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلیٰ أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهٗ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلیٰ مَرِيضٍ يَعُودُهٗ قَالَ: “لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللهُ “ فَقَالَ لَهٗ : “لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللهُ “ . قَالَ: كَلَّا بَلْ حُمّٰى تَفُورُ عَلیٰ شَيْخٍ كَبِيرٍ تُزِيْرُهُ القُبُورُ. فَقَالَ: “فَنَعَمْ إِذاً” . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1529 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب ہم سے کوئی آدمی بیمار ہوتا تو اس پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرتے اور فرماتے اے لوگوں کے رب بیماری دور کردے اسے شفا دے تو شافی ہے ۱∞؎شفا تو صرف تیری ہی ہے وہ شفا دے جو بیماری نہ چھوڑے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكٰى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهٗ بِيَمِينِهٖ ثُمَّ قَالَ: “أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1530 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ جب کسی شخص کا کچھ دکھتا یا اسے پھوڑاپھنسی اور زخم ہوتا تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اپنی انگلی کے ساتھ یوں فرماتےبسم اللهہماری زمین کی مٹی ہمارے بعض کا تھوک ۱∞؎ہمارے بیمارکو ہمارے رب کے حکم سے شفا دیتاہے۔(مسلم،بخاری)
وَ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ إِذَا اشْتَكَى الإِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ أَوْ كَانَتْ بِهٖ قَرْحَةٌ أَوْ جُرْحٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبُعِهٖ: “بِسْمِ اللهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفٰى سَقِيمُنَا بِإِذن رَبِّنَا”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1531 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو اپنے پراعوذکی آیات دم کرتے اور اپنا ہاتھ وہاں پھیرتے ۱∞؎تو جب حضور کو وہ بیماری ہوئی جس میں حضور کی وفات ہوئی تو میں آپ پر وہی دعائیں دم کرتی جو آپ دم کرتے تھے اور آپ کا ہاتھ پھیرتی۲؎(مسلم،بخاری)اورمسلم کی روایت میں ہے فرماتی ہیں کہ جب حضور کے گھر والوں میں سےکوئی بیمارہوتا تو آپ اس پراعوذوالی آیات دم کرتے۳؎
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكٰى نَفَثَ عَلیٰ نَفْسِهٖ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهٖ فَلَمَّا اشْتَكٰى وَجَعَهُ الذِي تُوُفِّيَ فِيهِ كُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفِثُ وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَتْ: كَانَ إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهٖ نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1532 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت عثمان ابن ابی العاص سے کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں درد کی شکایت کی جو ان کےجسم میں تھا ۱∞؎تو ان سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایاکہ اپنےجسم کے بیمارحصہ پر اپنا ہاتھ رکھو،تین باربسم اللهاور سات بار یہ دعا پڑھو،میں الله کی عزت اور الله کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے جو اب میں پاتا ہوں اور جس سے آئندہ خوف کرتا ہوں میں نے یہ عمل کیا تو الله نے میری بیماری دورکردی ۲؎(مسلم)
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهٗ شَكَا إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهٗ فِي جَسَدِهٖ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَعْ يَدَكَ عَلَی الذِي يَأْلَمُ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ: بِسْمِ اللهِ ثَلَاثًا وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهٖ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ". قَالَ: فَفَعَلْتُ فَأَذْهَبَ اللهُ مَا كَانَ بِي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1533 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ جبرئیل امین نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آئے عر ض کیا اے محمد مصطفے! کیا آپ بیمار ہیں ۱∞؎فرمایا ہاں فرمایا میں آپ پر الله کے نام سے افسوں کرتا ہوں موذی چیز سے،ہرنفس کی شرارت سے،حسد والی آنکھ سے الله تمہیں شفا دے الله کے نام سے افسوں کرتا ہوں۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَن جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أِشْتَكَيْتَ؟ فَقَالَ: “نَعَمْ” . قَالَ: بِسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شر كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللهُ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللهِ أَرْقِيْكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1534 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم حسن وحسین پر یوں تعویذ کرتے کہ میں تمہیں الله کے پورے کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ۱∞؎ہر شیطان و زہریلے جانور سے اور ہر بیمارکرنے والی نظر سے۲؎اور فرماتے کہ تمہارے والد اسی دعا سے حضرت اسمعیل و اسحاق کوتعویذکرتے تھے ۳؎(بخاری)اورمصابیح کے اکثر نسخوں میں تثنیہ کے لفظ سے ہے۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ: “أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ” وَيَقُولُ: “إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمٰعِيْلَ وَإِسْحَاقَ” . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي أَكْثَرِ نُسَخِ الْمَصَابِيْحِ: “بهما” عَلیٰ لفظ التَّثْنِيَة
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1535 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله جس کا بھلا چاہتا ہے اس کو مصیبت دیتا ہے ۱∞؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهٖ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ” . رَوَاهُ البُخَارِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1536 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے انہی سے اورحضرت ابوسعید سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ مسلمان کو تکلیف بیماری غم و رنج ایذائےغم حتی کہ کانٹا جو اسے لگے نہیں پہنچتا مگر الله اس کی برکت سے خطائیں مٹا دیتا ہے ۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْہُ وَأبي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “مَا يُصِيبُ الِمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةَ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بهَا خَطَايَاهٗ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1537 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ کو بخارتھا میں نے اپنے ہاتھ سے جسم اطہر چھوا توعرض کیا یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم حضورکو بخار بہت ہی سخت آتا ہے ۱∞؎تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھ کو تمہارے دو شخصوں کے برابر بخار ہواکرتا ہےفرماتے ہیں میں نے عرض کیا یہ اس لیے ہوگا کہ حضورکو ثواب بھی دوگنا ہے ۲؎فرمایا ہاں پھر فرمایا کوئی مسلمان ایسانہیں جسےکوئی تکلیف بیماری وغیرہ پہنچے مگر الله تعالٰی اس کے گناہ یوں جھاڑ دیتا ہےجیسے درخت اپنے پتوں کو ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعِكُ فَمَسَسْتُه بِيَدِهٖ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ” . قَالَ: فَقُلْتُ: ذٰلِكَ لِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ فَقَالَ: “أَجَلْ” . ثُمَّ قَالَ: “مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهٗ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللهُ تَعَالٰى بِهٖ سَيِّئَاتِهٖ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1538 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے ایسا کوئی نہ دیکھا جسےحضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ سخت بیماری ہوتی ہو ۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا الْوَجَعُ عَلَيْهِ أَشَدُّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1539 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے میرے سینے اور گلے کے درمیان وفات پائی ۱∞؎تو میں حضورصلی الله علیہ وسلم کے بعدکسی کے لیئے سختی موت کوکبھی ناپسندنہیں کرتی ۲؎(بخاری)
وَ عَنْهَا قَالَتْ: مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي فَلَا أَكْرَهٗ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1540 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن کی مثال کچی کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی ہیں کبھی گرادیتی ہیں کبھی سیدھاکرتی ہیں یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے اورمنافق کی مثال مضبوط صنوبر کی سی ہے جسےکوئی آفت نہیں پہنچتی حتی کہ یکبارگی اس کا اکھڑنا ہوتاہے ۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تَفَيِّئُهَا الرِّيَاح ُتَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرىٰ حَتّٰى يَأْتِيهِ أَجَلُهٗ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتّٰى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَة» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1541 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن کی مثال کھیت کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی رہتی ہیں اور مؤمن کو مصیبتیں پہنچتی رہتی ہیں اورمنافق کی مثال درخت صنوبر کی سی ہے جو کٹنے تک جنبش نہیں کرتا ۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تزَالُ الرِّيْحُ تُمِيْلُهٗ وَلَا يزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيْبُهُ البَلَاءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزَةِ لَا تَهْتَزَّ حَتّٰى تَسْتَحْصَدَ”
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1542 ، با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان