باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ملے ۱؎حالانکہ میں ناپاک تھا آپ نے میرا ہاتھ پکڑلیا ۲؎میں آپ کے ساتھ چلاحتی کہ آپ بیٹھ گئے میں چپکے سے نکل گیامنزل میں آیاغسل کیا پھر حاضر ہوا حالانکہ آپ تشریف فرما تھے۳؎فرمایا اے ابوہریرہ کہاں تھے؟ میں نے واقعہ عرض کیا فرمایاسبحان اﷲ!مؤمن گندہ نہیں ہوتا۴؎یہ بخاری کے لفظ ہیں مسلم کی روایت میں اس کے معنی ہیں اورقُلْتُکے بعد یہ بھی ہے کہ آپ مجھے ملے حالانکہ میں جنبی تھا میں نے غسل کے بغیر آپ کے پاس بیٹھنا ناپسند کیا۵؎بخاری کی دوسری روایت میں ایسے ہی ہے۔

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: لَقِيَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَخَذَ بِيَدِيْ فَمَشَيْتُ مَعَهٗ حَتّٰى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ ، فَقُلْتُ لَهٗ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجَسُ. هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلمُسْلِمٍ مَعْنَاهُ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهٖ: فَقُلْتُ لَهٗ: لَقَدْ لَقِيْتَنِيْ وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتّٰى أَغْتَسِلَ،وَكَذَا البُخَارِيُّ فِيْ رِوَايَةٍ أُخْرٰى.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 451 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمرابن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ انہیں رات میں جنابت پہنچتی ہے ۱؎تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کرو عضو خاص دھولو پھرسوجاؤ۲؎(بخاری مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيْبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نَمْ
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 452 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب جنبی ہوتے اورکچھ کھانایاسوناچاہتے تونماز کا وضو فرمالیتے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ تَوَضَّأَ وُضُوءَهٗ لِلصَّلَاةِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 453 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت ابی سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جائے پھردوبارہ جانا چاہے تو بیچ میں وضو کرے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتٰى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُوْدَ فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوْءًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 454 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک غسل سے اپنی ساری بیویوں پر دورہ فرماتے تھے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلٰى نِسَائِهٖ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 455 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت ذکر الٰہی کرتے تھے ۱؎(مسلم)ہم ابن عباس کی حدیثان شاءاﷲکھانوں کے باب میں بیان کریں گے۲؎

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰى كُلِّ أَحْيَانِهٖ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ سَنَذْكُرُهٗ فِيْ كِتَابِ الْأَطْعِمَةِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالٰی

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 456 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے لگن میں غسل کیا ۱؎حضور نے ا س سے وضو کرنا چاہا انہوں نے عرض کیا یارسول الله میں ناپاک تھی۔فرمایا پانی تو ۱؎ناپاک نہیں ہوتا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)دارمی نے اس کی مثل

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ جَفْنَةٍ فَأَرَادَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَّتَوَضَّأَ مِنْهُ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنِّيْ كُنْتُ جُنُبًا فَقَالَ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ . وَرَوَى الدَّارمِيُّ نَحْوَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 457 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

اور شرح سنہ میں انہیں سے وہ حضرت میمونہ سے راوی مصابیح کے الفاظ سے۔

وَفِيْ شَرْحِ السُّنَّةِ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ بِلَفْظِ الْمَصَابِيْحِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 458 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنابت سے غسل فرماتے پھر میرے غسل سے پہلے مجھ سے گرمی حاصل کرتے ۱؎اسے ابن ماجہ نے روایت کیااورترمذی نے اس کی مثل روایت کی اورشرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ-صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ يَسْتَدْفِئُ بِيْ قَبْلَ أَنْ أَغْتَسِلَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهٗ. وَفِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ" بِلَفْظِ "الْمَصَابِيْحِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 459 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ سے آتے تو ہمیں قرآن پڑھاتے اورہمارے ساتھ گوشت کھاتے تھے ۱؎جنابت کے سواحضورکو قرآن سے کوئی چیز نہ روکتی تھی ۲؎(ابوداؤد،نسائی)ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَخْرُجُ مِنَ الْخَلَاءِ، فَيُقْرِئُنَا الْقُرآنَ، وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ، وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهٗ أَوْ يَحْجُزُهٗ عَنِ الْقُرآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ نَحْوَهٗ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 460 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ حائضہ اورجنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں ۱؎(ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 461 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ان گھروں کو مسجدسے پھیردو ۱؎کیونکہ میں حائضہ اورجنبی کے لیئے مسجد کو حلا ل نہیں کرتا۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَجِّهُوْا هٰذِهِ الْبُيُوْتَ عَنِ الْمَسْجدِ، فَإِنِّيْ لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 462 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس میں تصویرہو اور نہ اس میں جس میں کتا اورجنبی ہو ۱؎(ابو داؤد،نسائی)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 463 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت عمار ابن یاسر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تین شخص ہیں جن کے قریب بھی فرشتے نہیں آتے کافر مردار خلوق سے لتھڑاہوا اورجنبی مگر یہ کہ وضو کرے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "ثَلَاثَةٌ لَا تَقْرَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ: جِيْفَةُ كَافِرِ، وَالْمُتَضَمِّخ ُ بِالْخَلُوقِ، وَالْجُنُبِ إِلَّا أَن يَتَوَضَّأَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 464 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت عبد الله ابن ابی بکر ابن محمدابن عمرو ابن حزم سے ۱؎کہ وہ خط جو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن حزم کو لکھا ۲؎اس میں یہ تھا کہ قرآن کو صرف پاک آدمی ہی چھوئے ۳؎(مالک دار قطنی)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِيْ بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: أَنَّ فِي الْكِتَابِ الَّذِيْ كتَبَهُ رَسُوْلُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: "أَنْ لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَالدَّارَقُطْنِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 465 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت نافع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر کے ساتھ کسی کام میں گیا حضرت ابن عمرنے اپنی حاجت پوری کرلی۲؎اور آپ کی اس دن کی حدیث یہ تھی کہ فرمایا ایک آدمی گلیوں میں سے کسی گلی میں گزرا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی ملاقات ہوگئی۳؎حالانکہ آپ پاخانہ یا پیشاب سے آئے تھے۴؎اس نے سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا۔حتی کہ وہ شخص جب گلی میں چھپ جانے کے قریب ہوا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے جن سے اپنے چہرے کا مسح کیا پھر دوبارہ ہاتھ مارے اور اپنے ہاتھوں پر پھیر ے پھر اس شخص کا جواب دیا۵؎اورفرمایا کہ مجھے تمہارے جواب دینے میں رکاوٹ صرف یہ تھی کہ میں پاک نہ تھا۶؎(ابوداؤد)

وَعَنْ نافِعٍ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِيْ حَاجَةٍ فَقَضٰى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهٗ، وَكَانَ مِنْ حَدِيْثِهٖ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ فِيْ سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ، فَلَقِيَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، حَتّٰى إذَا كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارٰى فِي السِّكَّةِ، ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهٗ، ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرٰى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ وَقَالَ: "إِنَّهٗ لَمْ يَمْنَعْنِيْ أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا أَنِّيْ لَمْ أَكُنْ عَلٰى طُهْرٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 466 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت مہاجرابن قنفذ سے ۱؎کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ پیشاب کر رہے تھے ۲؎انہوں نے سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا حتی کہ وضو کرلیا۔پھر ان سے معذرت کی اور فرمایا کہ میں نے یہ پسند نہ کیا کہ بغیر پاکی کے الله کا ذکرکروں ۳؎(ابوداؤد)اور نسائی نے"حَتّٰی تَوَضَّا"تک روایت کی اور فرمایا کہ جب وضو کرلیا تو اس کا جواب دیا۔

وَعَنِ المُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتّٰى تَوَضَّأَ، ثمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ وَقَالَ: "إِنِّيْ كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللّٰهَ إِلَّا عَلٰى طُهْرٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ إِلٰى قَوْلِهٖ: حَتّٰى تَوَضَّأَ، وَقَالَ: فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَدَّ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 467 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے پھر سو جاتے پھر جاگتے ۱؎پھرسوجاتے۔(احمد)

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ، ثُمَّ يَنْتَبِهُ، ثُمَّ يَنَامُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 468 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت شعبہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جب ناپاکی سے غسل کرلیتے تو داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر سات بارپانی ڈالتے ۲؎پھر استنجاءکرتے ایک دفعہ بھول گئے کہ کتنی بار پانی ڈالا ہے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ مجھےنہیں معلوم فرمایا تمہاری ماں نہ رہے تمہیں کس چیزنے جاننے سے روکا ۳؎پھرنماز کا سا وضو کرتے پھر اپنےجسم پر پانی بہاتے پھر فرماتے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہی طہارت فرماتے تھے۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ شُعْبَةَ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يُفْرِغُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلٰى يَدِهِ الْيُسْرٰى سَبْعَ مِرَارٍ، ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهٗ، فَنَسِيَ مَرَّةً كَمْ أَفْرَغَ فَسَأَلَنِيْ، فَقُلْتُ: لَا أَدْرِيْ، فَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، وَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْرِيَ؟ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهٗ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفِيْضُ عَلٰى جِلْدِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ يَقُولُ: هٰكَذَا كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَطَهَّرُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 469 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں

روایت ہے حضرت ابو رافع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں پردورہ فرمایا ان کے پاس بھی غسل کیا اور انکے پاس بھی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله آپ آخر میں ایک ہی غسل کیوں نہیں کرلیتے فرمایا کہ یہ خوب پسندیدہ اور بہت صاف ہے۲؎(احمدوابوداؤد)

وَعَنْ أَبِيْ رَافِعٍ قَالَ: إنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلٰى نِسَائِهٖ، يَغْتَسِلُ عِنْدَ هٰذِهٖ، وَعِنْدَ هٰذِهٖ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهٗ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ أَلَا تَجْعَلُهٗ غُسْلًا وَاحِدًا آخِرًا؟ قَالَ: "هَذَا أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 470 ، باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں