DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Hujurat Ayat 9 Translation Tafseer

رکوعاتہا 2
سورۃ ﳵ
اٰیاتہا 18

Tarteeb e Nuzool:(106) Tarteeb e Tilawat:(49) Mushtamil e Para:(26) Total Aayaat:(18)
Total Ruku:(2) Total Words:(387) Total Letters:(1513)
9

وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ-فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِۚ-فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۹)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑپڑیں تو تم ان میں صلح کرادوپھر اگران میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر وہ پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں صلح کروادو اور عدل کرو، بیشک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا: اور اگر مسلمانوں  کے دو گروہ آپس میں  لڑپڑیں  تو تم ان میں  صلح کروادو۔} شا نِ نزول: ایک مرتبہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دراز گوش پر سوار ہو کر تشریف لے جارہے تھے ،اس دوران انصار کی مجلس کے پاس سے گزرہوا تووہاں  تھوڑی دیر ٹھہرے ، اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو عبداللہ بن اُبی نے ناک بند کرلی۔یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے۔ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تو تشریف لے گئے لیکن ان دونوں  میں  بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں  آپس میں  لڑپڑیں  اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ گئی، صورتِ حال معلوم ہونے پر سرکارِ دو عالَم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ واپس تشریف لائے اور ان میں  صلح کرادی، اس معاملے کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا’’ اے ایمان والو!اگر مسلمانوں  کے دو گروہ آپس میں  لڑپڑیں  تو تم سمجھا کر ان میں  صلح کرادو،پھر اگران میں  سے ایک دوسرے پر ظلم اور زیادتی کرے اور صلح کرنے سے انکار کر دے تو مظلوم کی حمایت میں  اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں  تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹ آئے ،پھر اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ دونوں  گروہوں  میں  صلح کروادو اور دونوں  میں  سے کسی پر زیادتی نہ کرو (کیونکہ اس جماعت کو ہلاک کرنا مقصود نہیں  بلکہ سختی کے ساتھ راہِ راست پر لانا مقصود ہے) اور صرف اس معاملے میں  ہی نہیں  بلکہ ہر چیز میں  عدل کرو، بیشک اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں  سے محبت فرماتا ہے تو وہ انہیں  عدل کی اچھی جزادے گا۔( جلالین مع صاوی ، الحجرات ، تحت الآیۃ : ۹، ۵ / ۱۹۹۲-۱۹۹۳، مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۹، ص۱۱۵۳، روح البیان، الحجرات، تحت الآیۃ: ۹، ۹ / ۷۳-۷۶، ملتقطاً)

آیت ’’وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے پانچ باتیں  معلوم ہوئیں ،

(1)… جنگ و جِدال گناہ ہے، مگر یہاں  دونوں  فریقوں  کو مومن فرمایا گیا،اس سے معلوم ہوا کہ گناہ کفر نہیں  ہے۔

(2)… مسلمانوں  میں  صلح کرانا حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت اور اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے۔

(3)…غلط فہمی کی وجہ سے بادشاہِ اسلام کی مخالفت یا اس سے جنگ کرنے والا کافر اور فاسق نہیں  بلکہ مومن ہے۔

(4)… سلطانِ اسلام باغیو ں  سے جنگ کرے یہاں  تک کہ وہ اپنی بغاوت سے باز آ جائیں ۔

(5)… یہ جنگ جہاد نہ ہوگی، نہ ان باغیوں  کا مال غنیمت ہو گا،نہ ان کے قیدی لونڈی غلام بنائے جائیں  گے بلکہ ان کا زور توڑ کران سے برادرانہ سلوک کیا جائے گا۔

 مسلمانوں  میں  صلح کروانے کے فضائل:

            قرآنِ مجید اور اَحادیثِ مبارکہ میں  بکثرت مقامات پر مسلمانوں  کو آپس میں  صلح صفائی رکھنے اوران کے درمیان صلح کروانے کا حکم دیا گیا اور اس کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں  ،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًاؕ-وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ‘‘(النساء:۱۲۸)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر کسی عورت کواپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ ہوتو ان پر کوئی حرج نہیں  کہ آپس میں  صلح کرلیں  اور صلح بہتر ہے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے :

’’ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِؕ -قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ‘‘(انفال:۱)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے محبوب!تم سے اموالِ غنیمت کے بارے میں  پوچھتے ہیں ۔تم فرماؤ، غنیمت کے مالوں  کے مالک اللہ اور رسول ہیں تو اللہ سے ڈرتے رہواور آ پس میں صلح صفائی رکھو۔

            اور ارشاد فرماتا ہے : ’’لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِؕ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا‘‘(النساء:۱۱۴)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اُن کے اکثرخفیہ مشوروں  میں کوئی بھلائی نہیں  ہوتی مگر ان لوگوں  (کے مشوروں ) میں  جو صدقے کا یا نیکی کا یا لوگوں  میں  باہم صلح کرانے کا مشورہ کریں اور جو اللہ کی رضامندی تلاش کرنے کے لئے یہ کام کرتا ہے تواسے عنقریب ہم بڑا ثواب عطا فرمائیں  گے۔

            حضرت ِاُمِّ کلثوم بنت عقبہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’وہ شخص جھوٹا نہیں  جو لوگوں  کے درمیان صلح کرائے کہ اچھی بات پہنچاتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے۔( بخاری، کتاب الصلح، باب لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس، ۲ / ۲۱۰، الحدیث: ۲۶۹۲)

            حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں  تمہیں  ایسا کام نہ بتاؤں  جو درجے میں  روزے ،نماز اور زکوٰۃ سے بھی افضل ہو،صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیوں  نہیں ۔ارشاد فرمایا: ’’آپس میں  صلح کروا دینا۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی اصلاح ذات البین، ۴ / ۳۶۵، الحدیث: ۴۹۱۹)

            البتہ یاد رہے کہ مسلمانوں  میں  وہی صلح کروانا جائز ہے جو شریعت کے دائرے میں  ہو جبکہ ایسی صلح جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دے وہ جائز نہیں  ہے، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’مسلمانوں  کے مابین صلح کرواناجائز ہے مگر وہ صلح (جائز نہیں ) جو حرام کو حلال کر دے یا حلال کو حرام کر دے۔( ابو داؤد، کتاب الاقضیۃ، باب فی الصلح، ۳ / ۴۲۵، الحدیث: ۳۵۹۴)

            اس سے ان لوگوں  کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جوعورت کو تین طلاقیں ہو جانے کے باوجود شوہر اور بیوی سے یہ کہتے ہیں  کہ کوئی بات نہیں  ،تم سے جو غلطی ہوئی اسے اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا ا س لئے تم اب آپس میں  صلح کر لو، حالانکہ تین طلاقوں  کے بعد وہ عورت اللہ تعالیٰ اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَحکام کے مطابق اپنے شوہر پر حرام ہو چکی ہے اور صرف صلح کر لینے سے یہ حرام حلال نہیں  ہو سکتا، تو ان کا یہ صلح کرواناحرام کو حلال کرنے کی کوشش کرنا ہے اور یہ ہر گز جائز نہیں  ہے اور ایسی صلح کروانے والے خود بھی گناہگار ہوں  گے اور اس صلح کے بعد وہ مرد و عورت شوہر اور بیوی والا جوتعلق قائم کریں  گے ا س کا گناہ انہیں  بھی ہو گا کیونکہ ان کے لئے اب وہ تعلق قائم کرنا حرام ہے اور یہ چونکہ حرام کام میں  ان کی مدد کر رہے اور اس کی ترغیب دے رہے ہیں  تواس کے گناہ میں  یہ بھی شریک ہیں ۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور شریعت کی حدود میں  رہتے ہوئے مسلمانوں  کے درمیان صلح کروانے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

معاشرے سے ظلم کا خاتمہ کرنے میں دین ِاسلام کا کردار :

            ظلم ایک ایسا بدترین فعل ہے جس سے انسان اپنے بنیادی حق سے محروم ہو کر اَذِیَّت اور کَرب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے اوریہ وہ عمل ہے جس سے جھگڑے اور فسادات جنم لیتے ، لوگ بغاوت اور سرکشی پر اتر آتے اور اصول و قوانین ماننے سے انکار کر دیتے ہیں  جس کے نتیجے میں  انسانی حقوق تَلف ہوتے اور معاشرے کاا من و سکون تباہ ہو کر رہ جاتا ہے،دینِ اسلام چونکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا محافظ اور معاشرتی امن کو برقرار رکھنے کاسب سے زیادہ حامی ہے اسی لئے اس دین نے انسانی حقوق تَلف کرنے اور معاشرتی امن میں  بگاڑ پیدا کرنے والے ہر فعل سے روکا ہے اوران چیزوں  میں  ظلم کا کردار دوسرے افعال کے مقابلے میں  کہیں  زیادہ ہے اس لئے اسلام نے ظلم کے خاتمے کیلئے بھی انتہائی احسن اِقدامات کئے ہیں  تاکہ لوگوں  کے حقوق محفوظ رہیں  اور وہ امن و سکون کی زندگی بسر کریں  ،ان میں  سے ایک اِقدام لوگوں  کو یہ حکم دینا ہے کہ وہ ظالم کو روکیں  اور دوسرا اِقدام ظالم کو وعیدیں  سنانا ہے تاکہ وہ خوداپنے ظلم سے باز آجائے، جیسا کہ درج ذیل تین اَحادیث سے واضح ہے ،چنانچہ

(1)… حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے بھائی کی مدد کر وخواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے عرض کی، یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر وہ مظلوم ہو تو مدد کروں  گا لیکن ظالم ہو تو کیسے مدد کروں ؟ارشاد فرمایا ’’اس کو ظلم کرنے سے روک دے یہی (اس کی)مدد کرنا ہے۔( بخاری، کتاب الاکراہ، باب یمین الرجل لصاحبہ... الخ، ۴ / ۳۸۹، الحدیث: ۶۹۵۲)

 (2)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰیوَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ مظلوم کی بددعا سے بچو، وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی حق والے کا حق اس سے نہیں  روکتا۔( شعب الایمان،التاسع والاربعون من شعب الایمان... الخ، فصل فی ذکر ماورد من التشدید... الخ، ۶ / ۴۹، الحدیث: ۷۴۶۴)

(3)… حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس کا اپنے مسلمان بھائی پر اس کی آبرو یا کسی اور چیز کا کوئی ظلم ہو تو وہ آج ہی اس سے معافی لے لے، اس سے پہلے کہ(وہ دن آجائے جب) اس کے پاس نہ دینار ہو نہ درہم،(اس دن) اگر اس ظالم کے پاس نیک عمل ہوں  گے تو ظلم کے مطابق اس سے چھین لیے جائیں  گے اور اگر اس کے پاس نیکیاں  نہ ہوں  گی تو اس مظلوم کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیئے جائیں  گے ۔( بخاری ، کتاب المظالم و الغصب ، باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل... الخ، ۲ / ۱۲۸، الحدیث: ۲۴۴۹، مشکاۃ المصابیح، کتاب الآدب، باب الظّلم، الفصل الاول، ۲ / ۲۳۵، الحدیث: ۵۱۲۶)

            اس سے معلوم ہوا کہ معاشرتی امن کو قائم کرنے اور اس کی راہ میں  حائل ایک بڑی رکاوٹ’’ظلم‘‘ کو ختم کرنے میں  اسلام کا کردار سب سے زیادہ ہے اور اس کی کوششیں دوسروں  کے مقابلے میں  کہیں  زیادہ کارگَر ہیں  کیونکہ جب لوگ ظالم کو ظلم کرنے سے روک دیں  گے تو وہ ظلم نہ کر سکے گا اور ظالم جب اتنی ہَولْناک وعیدیں  سنے گا تواس کے دل میں  خوف پیدا ہو گا اور یہی خوف ظلم سے باز آنے میں  اس کی مدد کرے گا، یوں  معاشرے سے ظلم کا جڑ سے خاتمہ ہو گا اور معاشرہ امن و سکون کا پُرلُطف باغ بن جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں  دینِ اسلام کے احکامات اور تعلیمات کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

 مظلوم کی حمایت اور فریاد رَسی کرنے کے دو فضائل:

            یہاں  آیت کی مناسبت سے مظلوم کی حمایت کرنے اور اس کی فریاد رسی کرنے کے دو فضائل ملاحظہ ہوں ،

(1)… حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو کسی مظلوم کی فریاد رسی کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے 73مغفرتیں  لکھے گا، ان میں  سے ایک سے اس کے تمام کاموں  کی درستی ہوجائے گی اور 72 سے قیامت کے دن اس کے درجے بلند ہوں  گے۔( شعب الایمان، الثالث والخمسون من شعب الایمان... الخ، ۶ / ۱۲۰، الحدیث: ۷۶۷۰)

(2)…اورحضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جو کسی مظلوم کے ساتھ اس کی مدد کرنے چلے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن ثابت قدمی عطا فرمائے گا جس دن قدم پھسل رہے ہوں  گے۔( حلیۃ الاولیاء، مالک بن انس، ۶ / ۳۸۳، الحدیث: ۹۰۱۲)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  بھی مظلوم کی حمایت اور مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

 صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور ان کے باہمی اختلافات سے متعلق8اَہم باتیں  :

            اس آیت کے شانِ نزول میں  (اگرچہ جھگڑے میں  کچھ منافق بھی شریک تھے لیکن) اہلِ ایمان کے اختلاف کا بھی ذکر ہوا ،اسی مناسبت سے یہاں  صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور ان کے باہمی اختلافات سے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے کلام سے8اَہم باتوں  کا خلاصہ ملاحظہ ہو،

(1)… تابعین سے لے کر قیامت تک امت کا کوئی بڑے سے بڑ اولی کسی کم مرتبے والے صحابی کے رتبہ تک نہیں  پہنچ سکتا ۔

(2)… اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  جو قرب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے امتی کو مُیَسَّر نہیں  اور جو بلند درجات یہ پائیں  گے وہ کسی اور امتی کو نہ ملیں  گے۔

(3)…اہلسنّت کے خواص اور عوام پہلے سے آخری درجے تک کے تمام صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو انتہاء درجے کا نیک اور متقی جانتے ہیں  اور ان کے اَحوال کی تفاصیل کہ کس نے کس کے ساتھ کیاکیا اور کیوں  کیا،اس پر نظر کرنا حرام مانتے ہیں ۔

(4)… اگر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں  سے کسی کا کوئی ایسا فعل منقول ہے جو کم نظر کی آنکھ میں  ان کی شان سے قدرے گرا ہوا ہو اور اس میں  کسی کو اعتراض کرنے کی گنجائش ملے تو (اس کے بارے میں  اہلسنت کے علماء اور عوام کا طرزِ عمل یہ ہے کہ وہ) اس کا اچھا مَحمل بیان کرتے ہیں  ، اسے ان کے قلبی اخلاص اور اچھی نیت پر محمول کرتے ہیں  ، اللہ تعالیٰ کا سچا فرمان ’’رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ‘‘ سن کر دل کے آئینے میں  تفتیش کے زنگ کو جگہ نہیں  دیتے اور حقیقی اَحوال کی تحقیق کے نام کا میل کچیل، دل کے آئینے پر چڑھنے نہیں  دیتے۔

(5)… صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے رتبے ہماری عقل سے وراء ہیں  ،پھر ہم اُن کے معاملات میں  کیسے دخل دے سکتے ہیں  اوران میں  صورۃً جو تنازعات اور اختلافات واقع ہوئے ہم ان کا فیصلہ کرنے والے کون ہیں ؟ایسا ہر گز نہیں  ہوسکتا کہ ہم ایک کی طرف داری میں  دوسرے کو برا کہنے لگیں ، یا ان جھگڑوں  میں  ایک فریق کو دنیا طلب ٹھہرائیں ، بلکہ یقین سے جانتے ہیں  کہ وہ سب دین کی مَصلحتوں  کے طلبگار تھے،اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی ان کا نَصبُ العَین تھی، پھر وہ مُجتہد بھی تھے ،توجس کے اجتہاد میں  جو بات اللہ تعالیٰ کے دین اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شریعت کے لیے زیادہ مَصلحت آمیز اور مسلمانوں  کے اَحوال سے مناسب ترمعلوم ہوئی،اس نے اسے اختیار کیا، اگرچہ اجتہاد میں  خطا ہوئی اور ٹھیک بات ذہن میں  نہ آئی لیکن وہ سب حق پر ہیں اور سب واجبُ الاحترام ہیں  ، ان کا حال بالکل ایسا ہے جیسا دین کے فروعی مسائل میں  خود علمائِ اہلسنت بلکہ ان کے مُجتہدین مثلاً امامِ اعظم ابوحنیفہ اور امامِ شافعی وغیرہما رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے اختلافات ہیں  ۔

(6)…مسلمانوں  پر لازم ہے کہ وہ ان جھگڑوں  کے سبب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں  ایک دوسرے کو نہ گمراہ فاسق جانیں  اور نہ ہی ان میں  سے کسی کے دشمن ہوں  بلکہ مسلمانوں  کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ سب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ آقائے دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے جاں  نثار اور سچے غلام ہیں ، اللہ تعالیٰ او ر رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی بارگاہوں  میں  مُعَظَّم و مُعَزَّز اور آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے ہیں  ۔

(7)… صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے بارے میں  یاد رکھنا چاہئے کہ وہ انبیاء اورفرشتے نہ تھے کہ گناہ سے معصوم ہوں ، ان میں  سے بعض حضرات سے لغزشیں  صادر ہوئیں  مگر ان کی کسی بات پر گرفت اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے اَحکام کے خلاف ہے۔

(8)…اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سورہ ٔحدید میں  سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی دو قِسمیں  بیان فرمائی ہیں ،(1) مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ۔(2) اَلَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا۔

            یعنی صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی ایک قسم وہ ہے کہ فتح ِمکہ سے پہلے مُشَرَّف بایمان ہوئے ،اس وقت راہِ خدا میں  مال خرچ کیا اور جہاد کیا جب ان کی تعداد بھی بہت کم تھی اور وہ ہر طرح کمزور بھی تھے، انہوں  نے اپنے اوپر شدید مجاہدے گوارا کرکے اور اپنی جانوں  کو خطروں  میں  ڈال ڈال کر بے دریغ اپنا سرمایہ اسلام کی خدمت کی نذر کردیا، یہ حضرات مہاجرین و اَنصار میں  سے سابقین اَوّلین ہیں ۔دوسری قسم وہ ہے کہ فتحِ مکہ کے بعدایمان لائے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں  خرچ کیا اور جہا دمیں  حصہ لیا۔ ان ایمان والوں  نے اس وقت اِس اخلاص کا ثبوت مالی اور جنگی جہاد سے دیا جب اسلامی سلطنت کی جڑ مضبوط ہوچکی تھی اور مسلمان کثرتِ تعداد اور جاہ و مال، ہر لحاظ سے بڑھ چکے تھے۔ اجر اِن کا بھی عظیم ہے لیکن ظاہر ہے کہ اُن سابقون اَوّلون والوں  کے درجہ کا نہیں ،اسی لیے قرآنِ عظیم نے اُن پہلوں  کو اِن بعد والوں  پرفضیلت دی اور پھر فرمایا:

’’ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى‘‘

ان سب سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا،

            کہ اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے سب ہی کو اجر ملے گا، محروم کوئی نہ رہے گا۔اور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا ان کے حق میں  فرماتا ہے:

’’ اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ‘‘(انبیاء:۱۰۱)

وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں ۔

’’لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا‘‘(انبیاء:۱۰۲)

وہ جہنم کی بھنک تک نہ سنیں  گے۔

’’وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ‘‘(انبیاء:۱۰۲)

وہ ہمیشہ اپنی من مانتی جی بھاتی مرادوں  میں  رہیں  گے۔

’’لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ‘‘(انبیاء:۱۰۳)

قیامت کی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں  غمگین نہ کرے گی۔

’’وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ‘‘(انبیاء:۱۰۳)

فرشتے ان کا استقبال کریں  گے۔

’’هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ‘‘(انبیاء:۱۰۳)

یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔

             رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے ہر صحابی کی یہ شان اللہ عَزَّوَجَلَّ بتاتا ہے ،تو جو کسی صحابی پر اعتراض کرے وہ اللہ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے،اور ان کے بعض معاملات کوجن میں  اکثر جھوٹی حکایات ہیں ،اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مقابل پیش کرنا اہلِ اسلام کا کام نہیں ۔اللہ تعالیٰ نے سورہ ِحدید کی اسی آیت میں  اس کا منہ بھی بند کردیا کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے دونوں  گروہوں  سے بھلائی کا وعدہ کرکے ساتھ ہی ارشاد فرمادیا:

’’ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ‘‘(حدید:۱۰)

اور اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کرو گے۔

            اس کے باوجود اس نے تمہارے اعمال جان کر حکم فرمادیا کہ وہ تم سب سے بے عذاب جنت اور بے حساب کرامت و ثواب کا وعدہ فرماچکا ہے، تو اب دوسرے کو کیا حق رہا کہ ان کی کسی بات پر اعتراض کرے، کیا اعتراض کرنے والا ، اللہ تعالیٰ سے جدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے، اس بیان کے بعد جو کوئی کچھ بکے وہ اپنا سر کھائے اور خود جہنم میں  جائے۔( فتاوی رضویہ، ۲۹ / ۳۵۷-۳۶۳، ملخصاً)

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links