Book Name:Jahannam Ke Azabat
نصاب ہوں اور اُن کا نصاب حاجاتِ اَصلیہ (یعنی ضروریاتِ زندگی مَثَلاً رہنے کا مکان ، خانہ داری کا سامان وغیرہ) سے فارِغ ہو* جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باوَن تولہ چاندی یا ساڑھے بَاوَن تولہ چاندی کی رقم یا اتنی مالیت کامالِ تجارت ہو (اور یہ سب حاجاتِ اَصْلِیَّہ سے فارِغ ہوں ) یا اتنی مالیَّت کا حاجتِ اَصلِیَّہ کے علاوہ سامان ہو اُس کو صاحِبِ نِصاب کہا جاتا ہے* صَدَقَۂِ فِطْر واجب ہونے کے لیے ،عاقل وبالغ ہونا شرط نہیں۔بلکہ بچہ یا مَجْنُون (یعنی پاگل ) بھی اگر صاحبِ نصاب ہوتو اُس کے مال میں سے اُن کا وَلی (یعنی سرپرست) ادا کرے* مالک نصاب مردپر اپنی طرف سے ،اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے اور اگر کوئی مَجْنُون (یعنی پاگل )اولاد ہے (چاہے وہ پاگل اولاد بالغ ہی کیوں نہ ہو)تو اُس کی طرف سے بھی صَدَقَۂِ فِطْر واجب ہے،ہاں اگر وہ بچہ یا مَجْنُون خود صاحِب نصاب ہے تو پھر اُس کے مال میں سے فطرہ ادا کردے* باپ پر اپنی عاقِل بالِغ اولاد کا فِطْرہ واجِب نہیں * والد نہ ہو تو دادا جان والد صاحِب کی جگہ ہیں۔یعنی اپنے فقیر ویتیم پوتے پوتیوں کی طرف سے اُن پہ صَدَقَۂِ فِطْر دینا واجِب ہے* کسی صحیح شرعی مجبوری کے تحت روزے نہ رکھ سکایا مَعَاذَ اللہ بغیر مجبوری کے رمضان کریم کے روزے نہ رکھے اُس پر بھی صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں صَدَقَۂِ فِطْر واجِب ہے* بیوی نے بغیر حکمِ شوہر اگر شوہر کا فطرہ ادا کردیا تو ادا نہ ہوگا* عِیدُ الْفِطْر کی صبح صادِق طلوع ہوتے وَقت جو صاحبِ نصاب تھا اُسی پر صَدَقَۂِ فِطْر واجب ہے ،اگر صبحِ صادِق کے بعد صاحبِ نصاب ہوا تو اب واجب نہیں * صَدَقَۂِ فِطْر ادا کرنے کا اَفضل وَقت تو یِہی ہے کہ عید کو صبح صادِق کے بعد عید کی نمازادا کرنے سے پہلے پہلے ادا کردیا جائے،اگر چاند رات یا رمضان کریم کے کسی بھی دِن بلکہ رمضان کریم سے پہلے بھی