Jahannam Ke Azabat

Book Name:Jahannam Ke Azabat

پر پکڑ ہو گئی، اللہ پاک مجھ سے ناراض ہو گیا تو میں کیا کروں گا؟ آہ! عنقریب حضرت ملک الموت  علیہ السَّلام  تشریف لے آئیں گے، میری رُوح قبض کر لی جائے گی، پھر جلد ہی میرے عزیز رشتے دار غسل دے کر، کفن پہنا کر، نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد گھُپ اندھیری قبر میں اُتار دیں گے، ایساتنگ مکان، ایسی تنہائی، وحشت اور سخت اندھیرے میں پہلے کبھی اس کا تجربہ نہ کیا ہو گا، ابھی موت کی تکالیف بھی کم نہ ہوئی ہوں گی، کہ قبر کی وحشت ....! اور یہ وحشت دُور نہ ہوئی ہو گی کہ مُنْکَر نَکِیر تشریف لے آئیں گے، ہاں! ہاں! قبر میں امتحان ہو گا، افسوس! صد افسوس! اگر میرے گُنَاہ آڑے آگئے اور میں قبر کے امتحان میں ناکام ہو گیا تو میرا کیا بنے گا؟ آہ! روزِ قیامت گُنَاہوں پر پکڑ ہو گئی، خُدانخواستہ مجھے جہنّم میں ڈال دیا گیا تو میرا کیا بنے گا...؟ ہائے! ہائے! وہ جہنّم کی ہولناک سزائیں، وہاں کے بڑے بڑے سانپ، بختی اونٹوں جیسے بچھو، انتہائی تیز آگ کہ جو اندر تک جلا کر رکھ دے گی، آہ! اگر مجھے معافی نہ ملی، شفاعتِ مصطفےٰ سے بھی محروم رِہ گیا اور مجھے جہنّم میں جھونک دیا گیا تو میرا کیا بنے گا...؟؟

دِل ہائے  گناہوں سے بیزار نہیں ہوتا     مَغْلوب شَہا! نفس بَدْکار نہیں ہوتا

اے ربّ کے حبیب آؤ!اے میرے طبیب آؤ         اچھا  یہ گناہوں  کا  بیمار نہیں ہوتا

گو لاکھ کروں کو شش اِصلاح نہیں ہو تی        پاکیزہ گناہوں سے کِردار نہیں ہوتا

یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے   دل آہ! مگر اب بھی بیدار نہیں ہوتا([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                                                                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد


 

 



[1]...وسائلِ بخشش، صفحہ:163 ملتقطاً۔