Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen

Book Name:Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen

سُورۂ ماعُون کے 4 مرکزی مضامین

پیارے اسلامی بھائیو! سُورۂ ماعُون میں بنیادی طور پر غیر مسلم اور منافقین کے 4عیبوں کا ذِکْر ہے:(1):بخل یعنی کنجوسی (2):نَمازوں میں سُستی و لاپرواہی (3):ریاکاری اور (4):دوسروں کی خیر خواہی نہ کرنا۔

(1):بخل یعنی کنجوسی

غیر مسلم جو دِین کا، مَرنے کے بعد اُٹھنے اور قِیامت قائِم ہونے کا اِنْکار کرتے ہیں، اِن کا پہلا عیب ہے:بخل یعنی کنجوسی۔ اللہ پاک فرماتا ہے:

یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ(۲) وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ(۳) (پارہ:30 ،سورۂ ماعُون:2-3)

 تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:یتیم کو دَھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا۔

یعنی دین کو جُھٹلانے والے شخص کا اَخلاقی حال یہ ہے کہ وہ یتیم کو دَھکے دیتا ہے اور وہ اپنے گھر والوں اور دیگر مالداروں کو اِس بات کی ترغیب نہیں دیتا کہ وہ مسکین کو کھانا دیں۔([1])

اللہ اکبر!یہ کنجوسی کا کتنا گھٹیا درجہ ہے...!! کوئی کتنا ہی کنجوس کیوں نہ ہو، روتے بلکتے، یتیم و بے سہارا کو دیکھ کر تو آدمی کو تَرْس آ ہی جاتا ہے، زیادہ نہیں تو ایک آدھ وقت کا کھانا تو اُسے کِھلا ہی دیتا ہے لیکن یہ قیامت کا اِنْکار کرنے والا کس حد تک گھٹیا ہے کہ یہ یتیموں، بے سہاروں کو دَھکے دیتا ہے، جیسے ہم نے ابو جہل کا واقعہ سُنا، اُس نے ایک یتیم کی پرورش کی ذِمَّہ داری لی،پِھر بجائے اِس کے کہ اُس کی کفالت کرتا، اُس کی اچھی دیکھ بھال کرتا، اُس بدبخت نے اُلْٹا اُس یتیم ہی کے مال پر قبضہ جما لیا اور اُسے دَھکے دے کر گھرسے نِکال دیا۔


 

 



[1]...تفسیر روح البیان ،پارہ:30 ، سورۂ ماعون، زیرِ آیت:3 ،جلد:10 ،صفحہ:536 ماخوذاً۔