Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen

Book Name:Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen

ایسوں کی بھی ایک تعداد ہے جو جمعہ یا صِرْف عید کے دِن ہی مسجد کا رُخ کرتے ہیں۔

نَماز سے غفلت کا وبال

یاد رکھیے!نماز دِین کا اَہَم ترین رُکن ہے،اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ(۵۹)

(پارہ:16 ،سورۂ مریم:59)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:تو ان کے بعد وہ نالائق لوگ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی تو عنقریب وہ جہنّم کی خوفناک وادی غیّ سے جا ملیں گے۔

اس آیتِ مقدسہ میں غَیّ کا تذکرہ ہے، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اَمجد علی اَعظمی  رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:غَیّ جہنّم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے، اِس میں ایک کنواں ہے جس کا نام ہَب ہَب ہے، جب جہنّم کی آگ بجھنے پر آتی ہے اللہ پاک اِس کنوئیں کو کھول دیتا ہے جس سے وہ بدستور(یعنی پہلے کی طرح) بھڑکنے لگتی ہے۔([1])

اے عاشقانِ رسول! خوفِ خداوندی سے لرز اُٹھیے! اور گھبرا کر جلد اپنے گناہوں سے تَوْبَہ کر لیجیے!قرآنِ کریم میں بتایا گیا کہ جو نَمازوں کو ضائع کرتے ہیں وہ غَیّ نامی جہنّم کے ہولناک کنویں کے حق دار ہیں۔ اس خو فناک کنویں کو سمجھنے کے لیے کبھی کسی دُنیوی گہرے کنویں کے کنارے کھڑے ہو کر اُس کی گہرائی میں ذرا نظر ڈالیے اور سوچئے کہ اگر دُنیا کے اِس کنویں ہی میں قید کر دیا جائے تو کیا ہم اِس سزا کو بَرداشت کر سکیں گے؟ اگر


 

 



[1]...بہارِ شریعت ،جلد:1 ،صفحہ:434،حصہ:3۔