Book Name:Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen
اللہ پاک کی پناہ...!!اللہ پاک ہمیں یتیموں،بےسہاروں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْنبِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
بہت افسوس کی بات ہے کہ آج کل ہمارے معاشرے میں بھی یتیموں کو زیادہ قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا *یتیم بچے کو اُس کی یتیمی کا احساس دِلانا *اس کے ساتھ بُرا سلوک کرنا *اپنی اَوْلاد اور یتیم بچے کے درمیان فرق کر کے،اُس کا دِل دُکھانا تو مَعْمُوْل کی باتیں ہیں، ایسے بھی نادان ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں جو جان بوجھ کر یا اَنجانے میں یتیموں کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں۔ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت مولانا محمد اِلیاس عطاؔر قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ فرماتے ہیں:عِلْمِ دین سے دُوری اور جہالت کے سبب عموماً خاندانوں میں تَرکہ تقسیم نہیں کیا جاتا اکثر وُرَثاء میں یتیم بچے بچیاں بھی شامِل ہوتے ہیں اور لوگ بِلا جھجک ان یتیموں کا مال کھاتے پیتے اور ہر طرح سے استِعمال کرتے ہیں حالانکہ یہ سب ناجائز ہے اور اِس طرف کسی کی توجُّہ ہی نہیں ہوتی۔ یاد رکھیے ! مَیَّت کے وُرَثاء میں سے اگر کوئی یتیم ہو تو جب تک ترکہ تقسیم کر کے یتیم کا حصَّہ الگ نہ کیا جائے تب تک اس میں سے میت کے ایصالِ ثواب کے لیے صدقہ و خیرات وغیرہ بھی نہیں کر سکتے۔ پارہ:4 سُوْرَۂ نِسآء کی آیت نمبر 10میں خُدائے رحمٰن کا فرمانِ عالی شان ہے :([1])
اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: بیشک وہ لوگ جو ظلم کرتے