Book Name:Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen
مسلموں مثلاً: اَبُوجہل، عاص بن وائِل وغیرہ کے مُتَعلِّق نازِل ہوئی جبکہ اِس کا باقی آدھا حِصّہ عبد اللہ بن اَبِی سَلُوْل مُنافق کے بارے میں مدینۂ مُنَوَّرہ میں نازِل ہوا۔([1])
سُوْرَۂ مَاعُوْن کا ایک بنیادی نکتہ
علّامہ بُقاعِی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:سُورۂ ماعُون میں بنیادی طَور پر یہ نکتہ سمجھایا گیا ہے کہ قیامت کے دِن اُٹھنے اور بارگاہِ اِلٰہی میں پیش ہونے کا اِنْکار کرنا اَبُو الْخَبَائِث (یعنی بُرائیوں کی جڑ) ہے۔ اس اِنْکار کے سبب اِنسان بُرے اَخْلاق اور گھٹیا کردار کا عادِی ہو جاتا ہے۔([2])
*قیامت کے دِن کا یہی اِنْکار آدمی کو ظالِم بناتا ہے*جو قیامت کا اِنْکار کرتا ہے، اس کے اندر سے اِنسانیت مِٹ جاتی ہے*وہ اِنسان نما حیوان بن کر یتیموں،مسکینوں اور بے سہاروں پر ظلم ڈھاتا اور انہیں دَھکے دیتا ہے*یہی قیامت کا اِنْکار آدمی کو ریاکار بناتا ہے *یہی قیامت کا اِنْکار بندے کو اپنے رَبِّ کریم کا نافرمان بناتا ہے اور*اسی اِنْکار کے سبب آدمی بخل یعنی کنجوسی اور حِرَص و ہَوَس کی دَلْدل میں پھنس کر تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔
سُورۂ ماعُون کا شانِ نزول
روایات میں ہے: مکہ پاک میں ایک یتیم بچہ تھا، اِس اُمّت کے فِرعون یعنی مکہ پاک کے بہت بڑے غیر مسلم ابوجہل نے ایک یتیم کی پرورش کی ذِمَّہ داری اپنے سَر لے لی اور وہ سارا مال جو اُس بچے کو وراثت میں ملا تھا، وہ بھی اپنے قبضے میں کر لیا۔
اب چاہیے تو یہ تھا کہ ابوجہل اُس یتیم بچے کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کرتا مگر یہ