Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen

Book Name:Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen

ہوا کہ وہ نماز کو اہمیت نہیں دیتے،نمازوں میں سُستی و لاپرواہی کرتے ہیں،اِرْشاد ہوتا ہے:

الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ(۵) (پارہ:30 ،سورۂ ماعُون:5)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: جو اپنی نماز سے غافِل ہیں۔

تفسیر نسفی میں ہے:اِس سے مراد منافقین ہیں کہ جب وہ لوگ تنہا ہوتے ہیں تو نَماز نہیں پڑھتے کیونکہ وہ اس کے فرض ہونے کا اعتقادنہیں رکھتے اور جب وہ لوگوں کے سامنے ہوتے ہیں تو نَمازی بنتے، اپنے آپ کو نَمازی ظاہر کرتے اور انہیں دِکھانے کے لیے اُٹھ بیٹھ لیتے ہیں اور حقیقت میں یہ لوگ نَماز سے غافِل ہیں۔([1])

نَماز سے غفلت کی چند صُورتیں

نَماز سے غفلت کی چند صورتیں یہ ہیں، مثلاً ؛*نَماز پابندی سے نہ پڑھنا *صحیح وقت پر نہ پڑھنا *فرائض و واجبات کو صحیح طریقے سے ادا نہ کرنا *شرعی عذر کے بغیر باجماعت نہ پڑھنا *نَماز کی پرواہ نہ کرنا *تنہائی میں قضا کر دینا اور لوگوں کے سامنے پڑھ لینا وغیرہ۔

پیارے اسلامی بھائیو! اگر ہم غور کریں تو یہ صُورتیں بھی اب ہمارے معاشرے میں بہت پائی جا رہی ہیں *کتنے ایسے ہیں جو نَمازوں کی پابندی نہیں کرتے *نَمازیں قضا کرتے ہیں *نَماز کے فرائض و واجبات کی درست ادائیگی تو دُور کی بات،مسلمانوں کی ایک تعداد ایسی ہے جنہیں نَماز کے فرائض اور واجبات کی پُوری معلومات بھی نہیں ہوتی *کتنے ایسے ہیں جو نَماز کی بالکل پرواہ ہی نہیں کرتے *کبھی دِل کیا تو پڑھ لی،کبھی نہ پڑھی *کوئی 2 پڑھتا ہے *کوئی 4 پڑھ کر دِل کو منا لیتا ہے *کوئی بِلا عذر جماعت چھوڑتا ہے * اور


 

 



[1]...تفسیر نسفی،پارہ:30 ،سورۂ ماعون،زیرِ آیت:4-6،جلد:3،صفحہ:684۔