Book Name:Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen
فرمائے۔آئیے!یتیم بچوں کے ساتھ بھلائی کرنے کے فضائل پر 3 احادیث سنیے:
یتیم اور مسکین کی کفالت کے فضائِل
(1):اللہ پاک کے پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:مسلمانوں میں بہترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اُس کے ساتھ اچھا سُلُوک کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں بد ترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ بُرا سُلُوک کیا جاتا ہو۔([1]) (2):حضورِ اکرمِ، نُور مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:مسکین لوگ جنّت میں مالداروں سے 40 برس پہلے جائیں گے، اے عائشہ رَضِیَ اللہ عنہا !مسکین کو خالی نہ پھیرو اگرچہ کھجور کی قاش(یعنی ٹکڑا) ہی ہو اسے دے دو۔ اے عائشہ رَضِیَ اللہ عنہا !مسکینوں سے محبّت کرو، انہیں قریب رکھو تاکہ اللہ پاک قیامت میں تمہیں قریب کر دے۔([2]) (3):اللہ پاک کے پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:جو شخص یتیم کے سر پر محض اللہ پاک کی رِضا کے لیے ہاتھ پھیرے تو جتنے بالوں پر اُس کا ہاتھ گزرا ہر بال کے بدلے میں اُس کے لیے نیکیاں ہیں اور جوشخص یتیم لڑکی یا یتیم لڑکے پر اِحسان کرے میں اور وہ جنّت میں(2 اُنگلیوں کو مِلا کر فرمایا کہ )اِس طرح ہوں گے۔([3])
اِس حدیثِ پاک کے تحت مشہور مُفَسِّرِ قرآن، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جوشخص اپنے عزیز یا اَجنبی یتیم کے سر پر محبّت و شفقت کا ہاتھ پھیرے اور یہ محبّت صرف اللہ و رسول( صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم )کی رضا کے لیے ہو تو ہر بال کے بدلے اسے