Book Name:Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen
اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠(۱۰) (پارہ:4 ،سورۂ نساء:10)
ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بالکل آگ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے۔
اِس آیتِ مُبارکہ کے تحت مَشْہُور مُفَسِّرِ قرآن، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جب یتیم کا مال اپنے مال سے مِلا کر کھانا(کئی صورتوں میں ) حرام ہوا تو علیحدہ طور پر کھانا بھی ضَرور حرام ہے *اِس سے مَعْلُوم ہوا کہ یتیم کو تحفہ دے سکتے ہیں مگر اُس کا دیا ہوا تحفہ لے نہیں سکتے *یہ بھی مَعْلُوم ہوا کہ وارثوں میں جس کے یتیم بھی ہوں اس کے ترکہ سے نیاز، فاتحہ اور خیرات کرنا حرام ہے اور اس کھانے کا استعمال حرام۔ اوّلاً مال تقسیم کرو پھر بالغ وارث اپنے مال سے خیرات کرے۔
مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں:جب میت کے یتیم یا غائب وارث ہوں تو مالِ مُشْتَرَک میں سے اُس کی فاتحہ تیجہ وغیرہ حرام ہے کہ اِس میں یتیم کا حق شامِل ہے بلکہ پہلے تقسیم کرو پھر کوئی بالغ وارث اپنے حصّہ سے یہ سارے کام کرے ورنہ جو بھی (جانتے بوجھتے) وہ کھائے گا دوزخ کی آگ کھائے گا۔قیامت میں اس کے مُنہ سے دُھواں نکلے گا۔([1]) روایت ہے کہ یتیم کا مال ظلماً کھانے والے قیامت میں اس طرح اُٹھیں گے کہ اُن کے مُنہ، کان اور ناک سے دُھواں اُٹھتا ہو گا، جس سے وہ پہچانے جائیں گے کہ یہ یتیموں کا مال ناحق کھانے والے ہیں۔([2])
اللہ پاک ہمیں یتیموں بلکہ تمام مسلمانوں کے حقوق پُورے کرنے کی توفیق عطا