Book Name:Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen
(4):خیر خواہی نہ کرنا
پیارے اسلامی بھائیو! قیامت کو جھٹلانے والوں کا چوتھا اور آخری وصف جو سُورۂ ماعُون میں بیان ہوا، وہ یہ کہ
وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠(۷) (پارہ:30 ،سورۂ ماعُون:7)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اور برتنے کی مَعْمُوْلی چیزیں بھی نہیں دیتے۔
ماعُون کا معنیٰ ہے:عام استعمال کی مَعْمُوْلی چیز۔مطلب یہ ہے کہ منافقین اتنے کنجوس، بےحِسْ اور بےپرواہ ہیں کہ اگرکوئی اِن سے عام استعمال کی مَعْمُوْلی سِی چیز بھی مانگ لے تو یہ دینے سے اِنْکار کر دیتے ہیں۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہیےکہ ہم منافقوں والے اس عمل سے بچنے کی بھی پوری کوشش کریں، اپنے اندر سے بخل اور کنجوسی نکالیں ، دِل کے سخی بنیں اور دوسروں کی خیر خواہی کی سعادت پایا کریں۔علمائے کرام فرماتے ہیں:مُسْتَحَبْ ہے کہ آدمی اپنے گھر میں ایسی چیز اپنی حاجت سے زیادہ رکھے، جن کی ہمسایوں کو ضَرورت ہوتی ہے اور اُنہیں اُدھار دیا کرے۔([2])
مسلمانوں کی پیاری اَمّی جان حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں:میں نے