Book Name:Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen
گستاخانہ رَوِیَّہ اِختیار کرے گا مگر یہ کیا...!! ابو جہل نے جیسے سرکارِ عالی وقار،مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا تو ادب سے مرحبا کہہ کر آپ کا اِستقبال کیا اور فوراً ہی یتیم کا مال لا کر اس کے حوالے کر دیا۔
یہ دیکھ کر قریش کے لوگ حیران رہ گئے،جب اُنہوں نے ابو جہل سے ماجرا پُوچھا تو وہ بولا:خُدا کی قسم!میں نے مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے دائیں اور بائیں ایک نیزہ دیکھا، مجھے یہ ڈر لگا کہ اگر میں نے اِن کی بات نہ مانی تو یہ نیزہ مجھے پھاڑ ڈالے گا۔([1])
مُعْطِی مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا جب اِشارہ ہو گیا، مطلب ہمارا ہو گیا
ڈوبتوں کا یانبی کہتے ہی بیڑا پار تھا غم کِنارے ہو گئے، پیدا کِنارہ ہو گیا
نام تیرا، ذِکْر تیرا، تُو، تِرا پیارا خیال ناتوانوں، بے سہاروں کا سہارا ہو گیا([2])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! تفسیر صِراطُ الجنان میں ہے کہ جب ابو جہل اور اس یتیم بچے کا یہ واقعہ ہوا تو پارہ:30،سُوْرَۂ ماعُون کی پہلی چند آیات نازِل ہوئیں،([3]) اللہ پاک نے فرمایا:
اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ(۱) فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ(۲) وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ(۳)
(پارہ:30 ،سورۂ ماعُون:1-3)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے پھر وہ ایسا ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا۔