Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen

Book Name:Surah e Mauon ke 4 Markazi Mazameen

بدبخت غیر مسلم تھا،اُس کے دِل میں حِرَص و ہَوَس بَھری ہوئی تھی،اُس نے یتیم کی پرورش کرنے کی بجائے، اُلٹا اُس کے مال پر قبضہ جما لیا۔ ایک دِن وہ یتیم بچہ اُس کے پاس آیا اَور اپنا مال اُس سے مانگا، اِس پر اَبُوجہل بدبخت نے بےچارے یتیم کو دَھکے دے کر نکال دیا۔

اِس پر قریش کے دوسرے سرداروں نے اُس یتیم سے کہا:تم مُحَمَّد (مصطفےٰ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ) کے پاس جاؤ!وہ تمہاری مدد کر دیں گے۔ قریش کے سرداروں نے تو یہ بات بطورِ مذاق کہی تھی،اُن کا مقصد تھا کہ یہ یتیم بچہ مُحَمَّد ( صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ) سے مدد مانگے گا، وہ اُس کی مدد کر نہیں پائیں گے۔مگر اُنہیں کیا مَعْلُوم...!!وہ رَبِّ کائنات کے مَحْبوب ہیں، وہ ایک اَبْرُو کااِشارہ ہی فرما دیں تو دُنیا اِدھر سے اُدھر ہو سکتی ہے۔

غم و رَنْج و اَلَم اور سب بلاؤں کا مَدَاوا ہو    اگر وہ گیسوؤں والا مِرا دِلدار ہو جائے

اِشارہ پائے تو ڈُوبا ہوا سُورج بَرآمد ہو      اُٹھے اُنگلی تو مَہ دَو بلکہ دَو دَو چار ہو جائے([1])

جن کے اِشارے سے ڈوبا سُورج پلٹ آئے،اُنگلی اُٹھائیں تو چاند 2 ٹکڑے ہو جائے، کیا ان کے چاہے سے ایک یتیم بچے کادُکھ دُورنہیں ہو سکے گا...؟ مگر غیر مسلم کیا جانیں حبیبِ خُدا کا مَقام...!!

خیر! وہ یتیم بچہ دوجہاں کے تاجدار،مکی مَدَنی سرکار  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کی خِدْمت میں حاضِر ہوا اَور اپنی فریاد پیش کی۔ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے اس بچے کو ساتھ لیا اور فوراً ابو جہل کے گھر تشریف لے گئے۔قریش کے سردار تو یہ خیال کر رہے تھے کہ ابو جہل اَکڑ دِکھائے گا، مَعَاذَ اللہ! رسولِ خُدا  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ


 

 



[1]...سامانِ بخشش ،صفحہ:172-174 ملتقطًا۔