Share this link via
Personality Websites!
صحابئ رسول حضرت انس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمارے گھر میں ایک کنواں تھا، اُس کا پانی بہت کڑوا تھا، ایک دِن محبوبِ ذیشان، مکی مَدَنی سُلطان صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے، آپ نے اپنا لُعابِ پاک اُس کنویں میں ڈال دیا۔ فرماتے ہیں: بس لُعابِ مصطفےٰ کنویں میں پہنچنے کی دَیْر تھی، اس دِن سے مدینہ میں سب سے میٹھا پانی ہمارے ہی کنویں سے مِلا کرتا تھا۔ ([1])
جس کے پانی سے شاداب جان وجناں اُس دَہَن کی طَرَاوَت پہ لاکھوں سلام
جس سے کھاری کنویں شیرۂ جاں بنے اُس زُلالِ حَلاوت پہ لاکھوں سلام([2])
پیارے اسلامی بھائیو! لعابِ مصطفےٰ کی کہاں تک بات کی جائے، سچ یہی ہے کہ
زندگیاں ختم ہوئیں اور قلم ٹوٹ گئے تیرے اَوصاف کا اِک باب بھی پُورا نہ ہوا
صِرْف ایک لُعابِ مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی برکات بیان کرنے کے لیے کافی سارا وقت چاہئے، جب صِرْف لُعَابِ پاک کی یہ شان ہے تو سوچئے! تمام جسمِ پاک کی برکات کا عالَم کیا ہو گا۔
بہر حال! میں مختلف روایات کا مختصر خُلاصہ عرض کرتا ہوں: *قبا شریف کے قریب ایک کنواں تھا، اُس کا پانی روز ہی ختم ہو جاتا، ایک روز پیارے آقا صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے اُس میں لُعابِ پاک ڈالا، جس کی بَرَکت سے اُس کا پانی اتنا زیادہ ہو گیا کہ لوگ خود
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami