Share this link via
Personality Websites!
لیے اپنی رسالت کا حوالہ دیا اور یہ حوالہ سُن کر وہ آسیب نکل بھی گیا، پتا چلا؛ رِسالت کا جو مَنْصَبْ ہے، یہ مَنْصَبْ ہی اِختیارات کا مَنْصَبْ ہے، رسولوں کی یہ شان ہوتی ہے، جسے جو حکم دے دیں، اُن کی زبان سے لفظ نکلتا ہے، اُدھر تقدیر بدل جاتی ہے۔
بہشت و خُلْد ہیں کیا بلکہ کُل خزانوں کا خُدا کے گھر سے ہیں وہ اِختیار پائے ہوئے([1])
اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
مَجْبُور ہیں ہم تو فِکْر کیا ہے تم کو تو ہے اِختیار آقا([2])
اللہ پاک قرآنِ کریم میں اَنبیائے کرام علیہم السَّلام کی شان میں فرماتا ہے:
اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ(۴۵)
(پارہ:23، سورۂ ص، 45)
تَرجَمہ:جو قدرت والے اور علم والے تھے۔
تفسیر نُور العرفان میں ہے: معلوم ہوا؛ اللہ پاک انبیاء کرام علیہم السَّلام کو قُدْرت بھی عطا فرماتا ہے، عِلْم بھی بخشتا ہے، جس سے وہ عالَم کی خبر بھی رکھتے ہیں، اِس میں تَصَرُّف بھی کرتے ہیں۔ ([3])
کیوں نہ ہو تم مالِکِ مُلْکِ خُدا، مِلْکِ خُدا سب تمہارا ہے خُدا ہی جب تمہارا ہو گیا([4])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami