Book Name:Shair e Khuda Ka Zuhad
ہے ، مال کی محبّت میں گُنَاہوں کا بازار گرم کیا جاتا ہے ، سُودی لین دَین ہوتا ، حرام ذرائع سے مال کمایا جاتا ہے ، غرض؛ مال کی محبّت دِلوں میں گھر کر چکی ہے * رسولِ ذیشان ، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : لوگ دِین کو بگاڑیں گے ، عہدے منصب اور حکومت کی طرف مائِل ہو جائیں گے۔ یہ بات بھی ہم معاشرے میں دیکھ سکتے ہیں ، ایسا ہو رہا ہے۔
اب ذرا غور فرمائیں؛ اگر آج ہمارے آقا ، مولا علی شیرِ خُدا رَضِیَ اللہ عنہ ہوتے تو وہ کیا کرتے ؟ مولا علی رَضِیَ اللہ عنہ نے 5 کام بیان کئے کہ اگر ایسے زمانے میں آپ ہوتے تو 5 کام کرتے : ( 1 ) : آپ نے کہا : میں ان ( آخرت کو بھولنے ، دنیا سے محبّت رکھنے اور دِین میں فساد پھیلانے والے ) لوگوں کو چھوڑ دوں گا ، لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ہم ایسے لوگوں کی صحبت سے بچیں ، فِکْرِ آخرت اپنانے والے ، قبر و آخرت کی تیاری میں مَصْرُوف رہنے والے نیک پرہیزگار ، عاشقانِ رسول کی صحبت اختیار کریں۔ ( 2 ) : مولا علی رَضِیَ اللہ عنہ نے کہا : لوگ اس وقت جو اختیار کریں گے ( یعنی دُنیا پرستی ، آخرت سے بےفِکْری ، مال کی محبّت ، عہدے و حکومت کی محبّت وغیرہ ) میں اس سب کو چھوڑ دُوں گا۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ہم ان چیزوں سے پیچھا چھڑائیں ، مال کی محبّت ، دُنیا کی محبّت ، آخرت سے بےفِکْری ، عہدے و مَنْصب کی حِرْص وغیرہ دِل سے نکالیں ، قبر و آخرت کی تیاری کریں ، جنّت میں لے جانے والے اَعْمَال اپنائیں اور دِل میں خوفِ خُدا بڑھانے کی کوشش کریں۔ ( 3 ) : مولا علی رَضِیَ اللہ عنہ نے کہا : میں اللہ و رسول کی اطاعت اِخْتِیار کروں گا۔یہ بھی بہت اَہَم کام ہے ، آج کل ایک سوچ پائی جاتی ہے کہ
چلو اُس طرف کو ، ہوا ہو جدھر کی
یعنی معاشرہ جس طرف جا رہا ہے ، تم بھی اسی طرف کو چلو ! یہ سوچ بالکل غلط ہے ،