Book Name:Shair e Khuda Ka Zuhad
کرنے کے بجائے خالی ) زمین کو اختیار کیا ، اس کی خاک کو اپنا بچھونا بنا لیا اور اس کے پانی کو خوشبو تصوُّر کر لیا ، تلاوتِ قرآنِ کریم اور دُعا کو اپنی پہچان اور شعار بنا لیا ، دنیا سے حضرت عیسیٰ رُوح اللہ عَلیٰ نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَام کی طرح کنارہ کشی اختیار کی۔ ( [1] )
مرے دل سے دنیا کی چاہت مٹا کر کر اُلفت میں اپنی فنا یا الٰہی !
اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِین حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار ، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : * جو شخص دنیا میں زُہدا ختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے علم لدُنی ( اپنے پاس سے خاص علم ) سے نوازتاہے * بغیر کسی واسطہ کے ہدایت عطا فرماتا ہے * نورِ بصیرت عطا فرماتا * اور ضلالت و گمراہی سے بچاتا ہے۔ ( [2] )
اے علی ! تم اس وقت کیا کرو گے... ! !
پیارے اسلامی بھائیو ! ہم جب زُہد ، تقویٰ ، دُنیا سے بےرغبتی وغیرہ کا بیان سنتے ہیں تو شیطان دِل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ اب وہ حالات نہیں ہیں ، دُنیا بدل چکی ہے ، اب یہ سب کچھ نہیں ہو سکتا ، معاشرے کے ساتھ بھی چلنا پڑتا ہے وغیرہ۔ آئیے ! اس وسوسے کے علاج کے لئے ایک حدیثِ پاک سنتے ہیں : مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ ، مولا علی مشکل کشا ، شیرِ خُدا رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دِن اللہ پاک کے آخری نبی ، رسولِ ہاشمی ، مکی مدنی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے مجھ سے فرمایا : اے علی ! جب لوگ آخرت سے بے رغبت ہو جائیں گے ، دُنیا سے محبّت کریں گے ، مالِ وراثت ہَپ ہَپ کھائیں گے ، مال سے بہت