Book Name:Shair e Khuda Ka Zuhad
گئے ، پھر پیارے نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے میں اِنْ شَآءَ اللہ الْکریم ! تمہیں جنّت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں بھی عطا کی جائیں گی ، یہ سب کچھ غیر مُسلموں کو کہاں نصیب... ! ! اس لئے غیر مُسلموں کو ملے ہوئے دُنیوی ، فانی مال و اسباب کی طرف نگاہ مت اُٹھاؤ ! اسے ہر گز للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھا کرو !
حُبِّ دُنیا سے تُو بچا یارَبّ ! عاشقِ مصطفےٰ بنا یارَبّ !
کاش ! لب پر مرے رہے جاری ذِکْر آٹھوں پہر ترا یارَبّ !
اے عاشقانِ رسول ! یہ حقیقت ہے ! دُنیا فانی ہے ، یہ جلد ہی فنا ہو جائے گی ، یہاں جتنا بھی عیش کر لیں ، جتنا بھی مال جمع کر لیں ، آخر فنا کے گھاٹ اُترنا ہی ہو گا ، دُنیا سے خالی ہاتھ جانا ہی ہو گا۔ ہم سب یہ بات جانتے ہیں مگر افسوس ! دُنیا ، مال و دولت ، یہاں کی فانی نعمتوں کی محبت ہمارے دِلوں میں گھر کر گئی ہے ، آہ ! کاش ! ہم دُنیا کے بجائے آخرت کے طلبگار بن جائیں۔ اللہ پاک فرماتا ہے :
قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ( پارہ : 3 ، سورۂ آلِ عمران : 15 )
ترجَمہ کنزُ الایمان : تم فرماؤ ! کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز بتا دوں پرہیز گاروں کے لیے ان کے رَبّ کے پاس جنتیں ہیں ، جن کے نیچے نہریں رواں ، ہمیشہ ان میں رہیں گے۔
یعنی اے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! لوگوں سے فرمائیے ! کہ کیا مَیں تمہیں دُنیوی مال و دولت ، سونا چاندی ، کاروبار ، باغات ، عمدہ سواریوں اور بہترین مکانات سے اچھی ، عمدہ اور بہتر چیز بتا دُوں ؟ سنو ! وہ اللہ پاک کے قُرب کا گھر یعنی جنّت ہے ، اس میں دُودھ ،