Book Name:Shair e Khuda Ka Zuhad
آج ہی اپنے موبائل میں یہ ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کیجئے ! خود بھی حدیثِ پاک کا فیضان لوٹیئے ! اور دوسروں کو بھی ترغیب دلائیے ! ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو ! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئےمسجد کے آداب سے متعلق چند مدنی پھول بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں۔
اے عاشقان رسول ! جب مسجد میں قدم رکھیں تو پہلے سیدھا پھر اُلٹا اور جب باہر آئیں تو پہلے سیدھا قدم باہر رکھیں پھر اُلٹا * بغیر نیتِ اعتکاف مسجد میں کسی چیز کے کھانے کی اجازت نہیں * بہت مساجد میں دستور ہے کہ ماہِ رمضان مبارک میں لوگ نمازیوں کے لئے افطار ی بھیجتے ہیں۔ وہ اعتکاف کی نیت کے بغیر وہیں بے تکلُّف کھاتے پیتے اور فرش خراب کرتے ہیں۔یہ ناجائز ہے * وضو کرنے کے بعد اعضائے وضو سے ایک چھینٹ پانی کی فرشِ مسجد پر نہ گرے * مسجد میں دوڑنا یا زور سے قدم رکھنا جس سے دھمک پیدا ہو منع ہے * مسجد میں اگر چھینک آئے تو کوشش کر یں کہ آہستہ آواز نکلے ، اسی طر ح کھانسی * اسی طر ح ڈکار کو ضبط کرنا چاہیے اور نہ ہو تو حتی الامکان آواز دبائی جائے اگرچہ غیرِ مسجد میں ہو خصوصاً مجلس میں کہ یہ بے تہذیبی ہے * جماہی میں آواز نکلنا تو کہیں نہ چاہیے اگر چہ غیرِ مسجد میں تنہا ہو کہ وہ شیطان کا قہقہہ ہے ۔ جماہی جب آئے حتی الامکان منہ بندر کھیں ، منہ کھولنے سے شیطان منہ میں تھوک دیتا ہے ۔ یوں نہ رُکے تو اوپر کے دانتوں سے نِیچے کا ہونٹ دبا لیں اوریوں بھی نہ رُکے تو حتی الامکان منہ کم کھولیں اور اُلٹا ہاتھ اُلٹی طرف سے منہ پر رکھ لیں یونہی نماز میں بھی ، مگر حالتِ قیام میں سیدھا