Book Name:Shair e Khuda Ka Zuhad
سیّدی اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ علیہ کا سمجھانے کا اَنداز صَدْ مرحبا... ! ! آپ نے کمال حِکمتِ عَمَلی کے ساتھ سیّد صاحِب کو سمجھاتے ہُوئے فرمایا : صاحِبزادے ! یہ اِرشاد فرمائیے کہ جس عَورت کو باپ نے طلاق دے دی ہو ، کیا وہ بیٹے کے لئے حلال ہو سکتی ہے ؟ سیّد صاحِب نے فرمایا : نہیں۔ اِس پر اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا : ایک مرتبہ آپ کے جَدِّ اَعلیٰ یعنی مُسلمانوں کے چَوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضیٰ ، شیرِ خُدا رَضِیَ اللہ عنہ نے تنہائی میں اپنے چہرۂ مُبارَکہ پر ہاتھ پھیر کر فرمایا : اے دُنیا ! کسی اور کو دھوکا دے ، میں نے تجھے ایسی طلاق دی جس میں کبھی رَجْعت ( یعنی دَوبارہ صُلح کی راہ ) نہیں۔پھر آپ رَحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا : شہزادۂ حُضُور ! کیا اِس قول کے بعد بھی ساداتِ کرام کا غُرْبت و اَفْلاس میں مبتلا ہونا تَعجُّب کی بات ہے ؟ سیّد صاحِب بولے : وَاللہ ( اللہ کی قسم ) ! آپ کی اِن باتوں نے مُجھے دِلی سُکُون بخش دیا ہے ، اَلحَمْدُ للہ ! اِس کے بعد شہزادے نے کبھی اِپنی غُربت کا شِکْوہ نہ کیا۔ ( [1] )
حِرْصِ دُنیا نکال دے دِل سے بس رہوں طالِبِ رِضا یارَبّ !
ہائے حُسْنِ عَمَل نہیں پلّے حشر میں میرا ہو گا کیا یارَبّ !
خوف دوزخ کا آہ ! رحمت ہو خاکِ طیبہ کا واسطہ یارَبّ !
دِل کا اُجْڑا چمن ہو پھر آباد کوئی ایسی ہَوَا چلا یارَبّ ! ( [2] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو ! اس واقعہ میں ہمارے لئے سیکھنے کی بہت ساری باتیں ہیں ،