Book Name:Shair e Khuda Ka Zuhad
اشکبار آنکھیں عطا ہوں ، دِل کی سختی دُور ہو
دیجئے خوفِ خُدا مولیٰ علی مشکل کُشا !
بھیک لینے کے لئے دربار میں منگتا ترا
لے کے کشکول آگیا مولیٰ علی مشکل کُشا !
کیوں پِھروں در در بھلا خیرات لینے کے لئے
میں فقط منگتا تِرا مولیٰ علی مشکل کُشا ! ( [1] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
شیرِ خدا رَضِیَ اللہ عنہ کا زُہد
پیارے اسلامی بھائیو ! مولائے کائنات ، مولا علی شیرِ خُدا رَضِیَ اللہ عنہ کے بہت سارے اعلیٰ اَوْصاف ہیں * آپ کو حدیثِ پاک میں بابُ مَدِیْنَةِ الْعِلْم ( یعنی شہرِ عِلْمِ کا دروازہ ) کہا گیا ( [2] ) * آپ کی شجاعت و بہادری کی کوئی مثال نہیں ملتی * یہ بھی کہا گیا کہ لَا سَیْفَ اِلَّا ذُوالْفِقَارِ وَلَا فَتٰی اِلَّا عَلِیٌّیعنی ( حضرت علی رَضِیَ اللہ عنہ جیساکوئی جوان نہیں اور ذُوالفقار جیسی کوئی تلوار نہیں ) ۔ ( [3] ) اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
بَہرِ تسلیمِ علی میداں میں سر جھکے رہتے ہیں تلواروں کے ( [4] )
* ایسے ہی مولا علی رَضِیَ اللہ عنہ کا تقویٰ ، آپ کی پرہیزگاری * آپ کا عشقِ رسول * آپ کی محبّتِ اِلٰہی * آپ کا ذوقِ عِبَادت غرض؛ ان گنت یعنی بے شمار اَوْصاف ہیں جو ہمیں مولا علی شیرِ خُدا رَضِیَ اللہ عنہ کی پاکیزہ سیرت سے سیکھنے کو ملتے ہیں۔