Book Name:Shair e Khuda Ka Zuhad
شہد ، پاکیزہ شراب کی نہریں بہہ رہی ہیں ، یہ جنّت پرہیز گاروں کے لئے ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ( [1] )
مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ ، حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خدا رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں : سُن لو ! بےشک دُنیا مُنہ پھیرے جا رہی ہے اور آخرت آ رہی ہے ، ان دونوں کے طلبگار ہیں ، تم دُنیا کے طلبگار مت بننا ! آخرت کے طلبگار بنو... ! ! بےشک آج عمل کا دِن ہے ، آج حِسَاب نہیں ، کل عَمَل کا وقت نہیں ، حِسَاب کا دِن ہو گا۔ ( [2] )
حِرْصِ دُنیا نکال دے دِل سے بس رہوں طالِبِ رِضا یارَبّ !
ہائے حُسْنِ عَمَل نہیں پلّے حشر میں میرا ہو گا کیا یارَبّ !
خوف دوزخ کا آہ ! رحمت ہو خاکِ طیبہ کا واسطہ یارَبّ !
دِل کا اُجْڑا چمن ہو پھر آباد کوئی ایسی ہَوَا چلا یارَبّ ! ( [3] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
شیرِ خُدا رَضِیَ اللہ عنہ کی قناعت
پیارے اسلامی بھائیو ! ہمارے آقا ، مولائے کائنات ، مولا علی شیرِ خُدا رَضِیَ اللہ عنہ کے زُہد کی کیا شان ہے... ! ! آپ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِین تھے ، خَلِیْفَةُ الْمُسْلِمِین تھے ، تاج و تخت آپ کا تھا ، آپ چاہتے تو عیش و عِشرت سے بھر پُور زندگی گزار سکتے تھے مگر آپ نے زُہد و