Book Name:Shair e Khuda Ka Zuhad
زینت جسے اللہ پاک نے پسند فرمایا ہے اور مولیٰ علی ، شیرِ خدا رَضِیَ اللہ عنہ کی شان کے قربان جائیے ! کہ اللہ پاک نے آپ کو اپنی اس پسندیدہ زینت سے آراستہ فرمایا ہے۔
کاش ! ہمیں بھی دُنیا سے بےرغبتی نصیب ہو جائے ! کاش ! دِل سے دُنیا کی محبّت نکلے ، اللہ و رسول کی محبّت دِل میں ایسی سمائے کہ کسی اور چیز کے لئے دِل میں جگہ ہی نہ رہے۔
حُبِّ دُنیا سے تُو بچا یارَبّ ! عاشقِ مصطفےٰ بنا یارَبّ !
کاش ! لب پر مرے رہے جاری ذِکْر آٹھوں پہر ترا یارَبّ !
آہ ! طغیانیاں گناہوں کی پار نَیّا مری لگا یارَبّ !
نفس و شیطان ہو گئے غالِب ان کے چُنگل سے تُو چُھڑا یارَبّ ! ( [1] )
اُمَّت کو دُنیا سے بے رغبتی کا حکم
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے :
لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ ( پارہ : 14 ، سورۂ حجر : 88 )
ترجَمہ کنزُ العرفان : تم اپنی نگاہ اس مال و اسباب کی طرف نہ اُٹھاؤ جس کے ذریعے ہم نے کافِروں کی کئی قسموں کو فائدہ اُٹھانے دیا ہے۔
علما ئے کِرام فرماتے ہیں : یہ حکم اَصْل میں ہم غُلامانِ مصطفےٰ کے لئے ہے ، یعنی ہم مسلمانوں کو فرمایا گیا ہے کہ اے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے غُلامو ! تمہیں محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے میں کیسی کیسی نعمتیں عطا ہوئیں ، تمہیں ایمان ملا ، اسلام عطا ہوا ، قرآنِ کریم دِیا گیا ، ایسے پیارے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے دامنِ رحمت سے تم نوازے